وزیر اعلیٰ کیجریوال نے لوگوں سے گزارش کی ہے کہ یہ چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اس لیے اپنی ریاستوں کی طرف ہجرت نہ کریں، ان کی اس اپیل کا اثر مہاجر مزدوروں پر کم ہی نظر آ رہا ہے۔

20 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) دہلی میں پیر کی صبح جیسے ہی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آج رات 10 بجے سے ایک ہفتہ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ ہو جائے گا، لوگوں کا ہجوم آنند وِہار سمیت دیگر بس ٹرمینل پر نظر آنے لگا، اور ساتھ ہی سڑکوں پر قطار بند لوگوں کو پیدل چلتے ہوئے بھی دیکھا جانے لگا۔ یہ سب کچھ پہلے لاک ڈاؤن کی یاد تازہ کرا رہا ہے جس میں لوگوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہزاروں کلو میٹر تک پیدل سفر کیا تھا تاکہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس میں بیشتر تعداد مہاجر مزدوروں کی ہے جن کے لیے روزگار کا مسئلہ ایک بار پھر کھڑا ہو گیا ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے گاؤں پہنچ جائیں۔اتر پردیش، بہار، گجرات وغیرہ ریاستوں کے مہاجر مزدوروں کی بھیڑ کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ دہلی-این سی آر کی فیکٹریوں میں ان ریاستوں سے آئے مہاجر مزدور ہی کام کرتے ہیں۔ حالانکہ دہلی میں صرف ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے لوگوں سے گزارش بھی کی ہے کہ یہ چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اس لیے اپنی ریاستوں کی طرف ہجرت نہ کریں۔ کیجریوال کی اس اپیل کا اثر مزدوروں پر کم ہی نظر آ رہا ہے۔ مزدوروں کو اس بات کا بھروسہ نہیں ہے کہ ایک ہفتہ کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ غازی آباد، نوئیڈا اور دہلی سے ملحق سڑکوں پر مزدوروں کو پریشان حال بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔کچھ ایسی تصویریں سامنے آئی ہیں جن میں بسوں میں لوگ کھچاکھچ بھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اور کچھ لوگ باہر کی طرف بھی لٹکے ہوئے ہیں۔ گویا کہ نہ ہی کسی کو کورونا گائیڈ لائنس کی فکر ہے اور نہ ہی خود کے کورونا پازیٹو ہونے کی۔ سبھی مہاجر مزدور جلد از جلد اپنے گھر پہنچنا چاہ رہے ہیں۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کچھ تصویریں جس سے مہاجر مزدوروں کی حالت زار کا اندازہ ہوتا ہے…

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here