دہلی کے وزیر اعلی جب یہ کہتے ہیں کہ دہلی کا طبی ڈھانچہ مزید مریضوں کا بوجھ برداشت کرنے کا اہل نہیں ہے تو دراصل وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی سرکار ایک ناکام سرکار ہے

20 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جیسے ہی یہ اعلان کیا کہ وہ دہلی میں وبا کی رفتار روکنے کے لئے ایک چھوٹا (منی) لاک ڈاؤن لگا رہے ہیں، ویسے ہی دہلی میں کام کرنے آئے مزدوروں نے اپنا ضروری سامان باندھا اور بس اسٹینڈ کی جانب روانہ ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بس اسٹینڈ پر لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔ان مزدوروں نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے شاہ رخ کی فلم ’میں ہوں نہ‘ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جو اس بات کا عکاس ہے کہ انہیں دہلی کے وزیر اعلی پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ بھروسہ ہو بھی تو کیسے کیونکہ گزشتہ ایک سال میں انہوں نے ان مزدوروں کا اعتماد جیتنے کے لئے کیا کیا ہے؟ کیا دہلی میں بیمار ہونے والوں کے لئے ضروری بیڈ دستیاب ہیں؟ کیا پوری مقدار میں آکسیجن اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں؟ کیا مریض دھکے کھاتے نہیں پھر رہے؟گزشتہ سال لوگوں نے اس لئے حکومتوں کو معاف کر دیا تھا کیونکہ کسی کو اس وبا کے بارے میں معلوم نہیں تھا، اس کے لئے کوئی تیاری نہیں تھی، اس کاکوئی ٹیکہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ اس لئے لاک ڈاؤن کی تکالیف بھی برداشت کیں، روزگار جانے کے متبادل بھی تلاش کئے اور گھروں پر جانے میں تمام بھی تکالیف برداشت کیں۔ اس کے با وجود حکومتوں کومعاف بھی کر دیا لیکن اس سال یہ سب کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اب تو پہلے مرحلہ میں یہ وائرس اتنی تیزی سے پھیلنا ہی نہیں چاہئے تھا کیونکہ حکومتیں ہوتی کس بات کے لئے ہیں! کیا حکومتوں کو دوراندیش نہیں ہونا چاہئے؟ کیا حکومتوں کو عوام میں بیداری پیدا نہیں کرنی چاہئے؟ کیا اسپتالوں کو اور طبی ڈھانچے کو بہتر نہیں بنانا چاہئے تھا؟ کیا طبی ضروریات کو ترجیح نہیں دینی چاہئے تھی؟حکومت نے اپنی ترجیحات درست نہیں کیں اسی لئے عوام کو بھی کیجریوال کے ’میں ہوں نہ‘ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اب وہ یہاں سے خوف کے سائے میں گاؤں کی جانب گامزن ہیں۔ ان کو خوف ہے کہ اگر وہ کل کو بیمار ہو گئے تو یہاں تو ان کا معقول علاج بھی نہیں ہو سکتا! ان کو خوف ہے کہ کہیں لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع نہ کر دی جائے! ان کو خوف ہے کہ کہیں کل کو ان کو گھر واپس جانے کے لئے بس بھی ملے یا نہ ملے! ان کو خوف ہے کہ پیسہ نہ ہونے کی صورت میں وہ مکان مالک سے کیا کہیں گے!اس ساری صورتحال میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر گھر کا رخ کیا ہے یعنی اس خطرے کو بڑھا دیا ہے کہ دہلی میں پھیلا یہ وائرس ان کے ساتھ ان کے گاؤں نہ چلا جائے! بہرحال وہ خوفزدہ ہیں اور اس خوف میں ایک مرتبہ پھر وہ اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی زندگیوں کو داؤں پر لگا رہے ہیں اور اس کے لئے ریاست کی حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ اس پر ان غریب مزدوروں کو بھروسہ نہیں ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی جب یہ کہتے ہیں کہ دہلی کا طبی ڈھانچہ مزید مریضوں کا بوجھ برداشت کرنے کا اہل نہیں ہے تو دراصل وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی سرکار ایک ناکام سرکار ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here