20 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) پیر کے روز روسی فوج نے شام کے شمال مشرقی شہر تدمر میں “دہشت گردوں” کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر بمباری کرکے کم سے کم 200 جنگجووں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے مقام کے متعدد ذرائع کی تصدیق کے بعد روسی فضائیہ نے متعدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں دو ٹھکانوں کو تباہ اور 200 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔بیان مزید کہا گیا ہے کہ روسی ہوائی جہاز نے بھاری مشین گنوں سے لیس 24 پک اپ ٹرک اور دھماکہ خیز آلات بنانے کے لیے تقریبا 500 کلوگرام گولہ بارود اور دیگر عسکری سامان کو بھی تباہ کردیا۔ پریس ریلیز میں دہشت گرد گروہ یا آپریشن کی تاریخ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔روسی فوج کا کہنا تھا کہ یہ نشانہ ایک “عارضی اڈہ” تھا جہاں “دہشت گرد گروہوں” کو شام میں کارروائی کرنے اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مسلح تنظیموں” نے شام میں عوامی عمارتوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ آئندہ 26 مئی کو شیڈول کے مطابق ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل صورت حال کو غیر مستحکم کیا جائے۔پیر کے روز روسی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی کہ “دہشت گرد” شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں متعدد کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے شام کے صحرا میں داعش کے ٹھکانوں پر روسیوں کے شدید حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان حملوں میں 35 دہشت گرد مارے گئے تھے۔آبزرویٹری نے مزید کہا کہ شام کے صحرا پر 72 گھنٹوں کے اندر 220 سے زیادہ حملے کیے گئے۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here