19 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) جنت نشان ہندوستان ہمارا پیارا ملک طرح طرح کے آتنک واد Terrorism سے گھرا ہوا ہے۔ مثلاً اِسلامی آتنک واد(جس کا کہیں بھی نام ونشان) موجود نہیں،لیکن اسلام و مسلمان دشمن طاقتوں کی اسلاموفوبیا یا مسلم فوبیا Islamophobia, or Muslim- phobia نے تِل کو تاڑ بناکر ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اسلامی آتنک واد کا افسانہ پوری قوت سے گڑھتے رہتا ہے،زہر پھیلاتے رہتا ہے،عالمی وبا کورونا کوہی دیکھئے اسے مسلمانوں تبلیغی جما عت ومرکز سے جوڑکر خوب تماشہ کیا،کورٹ کچہری، گلی کوچہ،شہر شہر، گاؤں گاؤں خوب ڈھول بجایا۔  اب کورونا کی دوسری طاقت ور لہر جوخطرناک رفتار سے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے اس میں عام آدمی سے لیکر برادران وطن کے تیوہار کمبھ کا میلہ میں اشنان کرنے والے سادھو سنت حضرات اور ناگا باباؤں سے لیکر شردھا لو ؤں سے ہاتھ ملاکر چل رہا ہے۔ اور ملک کے کئی ریاستوں میں چل رہے الیکشن میں بڑے بڑے تمام نیتاؤں ا پو زیشن سے لیکررولنگ پارٹی کے لیڈران تک اپنی اپنی باتیں سمجھا رہے ہیں، وہاں سے بھی کرونا کو طاقت “کھاد”مل رہی ہے بی بی سی،دی وائر وغیرہ وغیرہ سب دیکھا اور بتلا رہے ہیں۔لیکن افسوس کہ ہمارے ملک کا گودی میڈیا پوری طاقت سے بنگال میں – دیدی… اُو… دیدی- کے پرچار میں لگا ہے، مذاق اُڑانے اور ہرانے کے لیے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ گودی میڈیا اردو کے اس پرانے محاورے(کہاوت،عادت)پر عمل کررہی ہے۔ ”تسبیح پھیروں کس کو گھیروں“ اس مکار شخص(میڈیا،mediaکی طرف اشارہ) جو صبح سے شام تک ہاتھ میں تسبیح پڑھتا رہتا ہے مگر لو گوں کو گھوما پھراکر دھو کا fallacy دیتا رہتا ہے اپنے دشمن کو بد نام کرتے رہتا ہے،حالانکہ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ تسبیح رہتی ہے مگر کام پورے شیطانی ہی کرتا ہے۔(واضح رہے یہاں تسبیح سے مُراد دیش بگھتی اور شیطانی کام سے مراد لوگوں کو لڑانا،مسلمانوں کو دیش دروہی بتانا مراد ہے)(دکنی محاورات،کہاوتیں اور ضرب الامثال،کتاب: ڈاکٹر عطا اللہ خان صاحب) ایک چھوٹا سا محاورہ اورملاحظہ فر مائیں، ساس کے لیے ویسے بہت سے لوگوں کے کام کی چیز ہے،”بہو آنے سے ساس کو ایک آنکھ بند کرلینا چاہیے“ جی جناب اور یہ کام اس وقت گودی میڈیا بہت خوبی سے کررہی ہے ایک آنکھ نہیں دونوں بند کیے ہوئے ہے،کورونا الیکشن کمپینگ سے پھیل رہا ہے،کمبھ اشنان کی بھیڑ سے پھیل رہا ہے؟ بھاڑ میں جائے ہم کو تو ہر حال میں الیکشن جیتنا ہے چاہے- دیدی… اُو… دیدی -کہنا پڑے یا جوبھی ہو پوری طاقت اور توجہ الیکشن میں ہی لگانا ہے۔  ؎ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا ٭ راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا (فیض احمد فیض) اسلامی آتنک واد تو٪100 سے ٪100 ٪10 فیصد جھوٹا او ر فراڈ ہے۔ اس کے بعد نکسلی آتنک واد ہے جو یقینا بہت بڑا چیلنج ہے ہمارے ملک کے لیے جب کب ہمارے بہادر فوجیوں،سپاہیوں،نیتاؤں کو مارتے   اڑاتے رہتے ہیں، لیکن یہ لوگ حکومت کی نظر میں بھٹکے ہوئے لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ نیا آتنک واد چَھکوں،ہجڑوں کا: یہ صنف جنس 2 دہائی پہلے تک گِھنی،گِری نظروں سے دیکھی جاتی اور مظلوم سمجھی جاتی تھی۔ بدلاؤ زمانے کا حصہ ہے جب سے ہندی فلموں اور خاص کر ساؤتھ کی فلموں میں اِن کابھی کردارcharacter فحش، بے حیائی،مذاق اور دلبستگی کے لیے علامتی طور پر آنے لگا تو اِن کا مزاج بدلا ان کی دنیا بھی بدلی اور پھر آگے ترقی ہوتے ہوتے فلموں میں فحش اور دو معنیٰ گانے لکھے اور اِن ’چَھکوں،ہجڑوں) پر فلمائے جانے لگے تو ان کا بول بالا ہو گیا۔  فلمی گائیکا،الکا یاگنک پیدائش 20 مارچ1966 کا کہنا ہے کی امیتابھ بچن کی فلم “لاوارث” 1981 میں “میرے انگنے میں تمھارا کیا کام ہے – جوہے نام والا وہی تو بد نام ہے ” گایا تھا جو زبردست ہٹ ہوا ممبئی میں جدوجہد کرنے کے بعد سنہ1988 میں فلم تیزاب کے گیت ایک،دوتین،چار،پانچ،چھہ،سات….. گیارہ جیسے فحش گانے سے اِنہیں زبردست شہرت ملی۔گانالکھنے والے کلیان جی-آنند جی نے میرے انگنے میں مشہور ہونے کے بعد “الکا یاگنک” سے کہا تھا کہ تمہارا نام” انگنا کِنگ ہونا چاہیے” جہاں گانے والی مشہور ہوئی وہیں اس طرح کے اور کئی فحش گانوں میں چَھکوں کا کردار کرنے میں ہجڑوں کی بھی بن آئی اور لوگوں خاص کر نوجوانوں کے لیے ہجڑے دلبستگی کا سامان بن گئے۔اور دومعنیٰ گانوں کو گاکر”ڈاکٹر کی بیوی بن نا کبھی اِنجکشن لگائے گھڑی گھڑی” جیسے بیہودہ،بے حیائی پھیلانے والے گانوں کو گاگا اور کرداروں کو اپنا کر خواجہ سراؤں چَھکوں کے دماغ آسمان پر چڑھ گئے اور جہا ں تہاں اپنے پھوہڑ ناچ گانوں سے نوجوان نسل کو محظوظ(باغ باغ،لذت یاب، لطف اندوز) کرنے لگے اور یہیں سے ان لوگوں نے دھیرے دھیرے بھیک مانگنا بھی شروع کردیا۔پہلے تو ان کا رویہ عام بھیک مانگنے والوں کی طرح خوشامدانہ،عاجزانہ تھا جب اس میں فائدہ نظر آیا” ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا”۔ نہ محنت نہ کوئی پونجی لگانا تو پھر آگے بڑھکر زور زبر دستی پر اُتر آئے اور پھر اِن کا آتنک،بسوں اور ٹرینوں میں گروپ بنا کر زور، زبر دستی،غنڈہ گردی سے مانگنے لگے بلکہ چھیننے بھی لگے۔ سفر میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی ہوتی ہیں،ماں بہن، رشتے دار،بیوی اِنہیں نہ لاج،نہ شرم نہ کوئی احساسِ جرم بُری بُری حر کتیں کرنا گندے ڈائیلاگ کا بے خوف استعمال کرنا اب ان کا عام طریقہ،رویہ ہو گیا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ کسی بھی عمر کے لوگ سے مانگنے اور اپنی بد زبانی کا اظہار کرتے نہیں شر ماتے،اگر خدا نخواستہ کسی بھی مسافر سے بات بگڑ گئی تو اسے بری طرح زود وکوب کر تے ہیں اور یہ رویہ یہیں نہیں رکتا بلکہ اسے ٹرین سے نیچے پلیٹ فارم پر اُتار لیتے ہیں اور دوچار ملکر اسے پکڑے رہتے ہیں بے چارہ مسافر چِلا چلاکر مدد کی گو ہار لگاتا رہتا ہے کوئی مدد گار نہیں ہوتا،ٹرین چھوٹ جانے پر اُسے چھوڑتے ہیں،اس طرح کے عبرت ناک واقعات موجود ہیں کانپور کے سفر میں 2سال پہلے ٹاٹا جموں توی سے سفر کر رہاتھا اور ڈالٹین گنج میں مسافر کو مارا بھی اور پلیٹ فارم میں اتار لیا ٹرین چھوٹنے پر اس کو چھوڑ دیا۔اس کی فیملی اور بچوں کا رو،رو کر بڑاحال تھا ان کو چنارجاناتھا۔ ٹول ٹیکس یا چنگی یا دبنگائی ٹیکس: ٹرینوں،بسوں وغیرہ میں زور زبردستی کرنے کے بعد اِن کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں،اب یہ کھلے عام سڑکوں، ہوٹلوں کے پاس،مندروں کے قریب چوک چوراہوں کے پاس اپنا زور زبردستی کا دھندا شروع کردیا ہے۔ جمشید پور سے رانچی جانے والی مشہور سڑک- NH33پرجمشید پور سے 2.5km kali mandir کے پاس دونوں جانب آٹھ،آٹھ،دس،دس گروپ بناکر علی الصبح سے دیر شام تک کھڑے ہو جاتے ہیں ہرگزر نے والے ٹرک اور چھوٹی بڑی سبھی گاڑیوں کے مالکان سے زبردستی20- 50- 100- یہانتک کہ موٹر ویکل والوں سے من مانی روپیے وصول رہے ہیں اگر عورتیں بچے بیٹھے ہوں توبھی ان کی سختی دکھتے بنتی ہے،کوئی دیکھنے والا نہیں کیا حکومت کی نظروں میں یہ نہیں ہے؟۔ صرف 400 میٹر کی دوری پر دوسرا گروپ کھڑا ملتا ہے اور اپنا مطالبہ دہراتا ہے یہ کہنے پر کہ پیچھے دے کر آرہا ہوں، تو انتہائی بے شرمی کے جواب دیتے ہیں جو لکھنے نہیں بنتے(ارے پیچھے دیا،تو یہاں آگے دے دو) وغیرہ وغیرہ،استغفراللہ استغفراللہ۔ کیایہ بھیک ما نگنا کہلائے گا،یا نکسلیوں کی طرح زور زبردستی دھن اُگائی کہلائے گا یا یہ ہجڑوں کا ٹول ٹیکس tol tex” ” کہلائے گا جو پل پار کرنے یا سڑک پر سے گزرنے کا معاوضہ چنگی دینا پڑتا ہے۔اِن ظالموں بے شر موں سے حکومت کیوں نہیں نپٹتی؟ عوام کو کیوں نہیں راحت دلاتی اور ایسی غیر قانونی کا موں کے خلاف کوئی قانون کیوں نہیں لاتی؟۔حکومت کے ذمہ داران اس جانب توجہ دیں اور جو ان کی حرکتوں پر آنکھیں بند کئے ہیں اور ان کی کمائی سے کمیشن لے رہے ہیں ایسوں کی سرزنش کی جائے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ان کی ہمت اور دوسرے غیر قانونی طریقوں کا راستہ نہ نکال لیں۔ہمارے یہاں تو جب پانی سر سے اُونچا ہو جاتا ہے تب ہی اس پر کچھ سوچا جاتا ہے پھر کرنے میں بھی سالوں لگ جاتے ہیں۔اللہ ہم سب کو اِن کے آتنک واد اور ظلم سے بچائے آمین ثم آمین

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here