فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ یو ٹیوب، ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی صبح 11 بجے سے 3 بجے تک بند رہے، اس سلسلے میں جمعہ کی صبح پاکستانی وزارت داخلہ نے جانکاری دی۔

16 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) پاکستان میں فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر وغیرہ استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے جمعہ کا دن انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا جب صبح 11 بجے سے لے کر 3 بجے دوپہر تک تقریباً سبھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر پابندی رہی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ یو ٹیوب، ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی صبح 11 بجے سے 3 بجے تک بند رہے اور اس سلسلے میں جمعہ کی صبح ہی پاکستان کی وزارت داخلہ نے جانکاری دے دی تھی۔پاکستانی وزارت داخلہ نے 16 اپریل کی صبح بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ہدایت دیتے ہوئے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو بین کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو ہدایت دیتے ہوئے ان ایپس (فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر، یو ٹیوب، ٹک ٹاک وغیرہ) کو بلاک کرنے کا حکم بھی دیا۔ حالانکہ اس سلسلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آخر یہ قدم کیوں اٹھایا گیا۔یہاں قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی طرف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی مظاہرے کی وجہ سے پاکستان میں سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر پابندی سے قبل پاکستانی ٹی وی چینلز پر تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرے کی کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ان سے اس معاملے پر فوری ایکشن لینے کے لیے کہا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نمازِ جمعہ کے بعد کسی زبردست مظاہرے سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر پابندی عائد کی گئی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here