15 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے حدیث شریف میں: عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول بنی الاسلام علیٰ خمس شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت،وصوم رمضان(رواہ البخاری و مسلم)
ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘(بخاری و مسلم)
ان پانچوں ارکان کو دین اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔جس طرح عمارت کے استحکام کے لئے بنیادوں کی گہرائی اور مضبوطی ضروری ہے اسی طرح اسلام کی پختگی بھی گہرے اور مضبوط ایمان کے بغیر نا ممکن ہے۔اور جس طرح عمارت کی تزئین وآرائش سجاوٹ کے سامان کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح اسلامی عمارت کی آرائش و زیبائش بھی اعمال صالحہ کے بغیر ناممکن ہے۔بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک اعمال صالحہ کے بغیر ایمان کا وجود ہی عنقا ہے۔اسی لئے حضور ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا:’’اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر ہے۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں عمارت ہی سرے سے غائب ہو جائے گی حتیٰ کہ دوستی ودشمنی کا معیار بھی رسول اللہ نے انہی ستونوں پر رکھا ہے۔کہ جو ان پر عمل کرے گا اس کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی ورنہ اسلام کی نظر میں اس کا جان ومال غیر محفوظ ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں تاآنکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، روزہ رکھیں، حج کریں جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیں گے سو ائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔(بخاری)
ارکان اسلام میں روزہ ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے سال بھر میں مسلمانوں پر رمضان المبارک کے ایک مہینے کا روزے رکھنا ضروری ہے ہر عاقل،بالغ،صحت مند اور باشعورمسلمان مرد وعورت پر روزہ فرض ہے۔صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھنے کا نام روزہ ہے روزہ انسان کو متقی اور پرہیز گار بناتا ہے روزہ سے جفا کشی،صبرو تحمل اور ناداروں سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں. یہ محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں بلکہ یہ بے شمار جسمانی و روحانی فوائد بھی عطا کرتا ہے روزے کے اندر بدن انسانی کو صحت و تندرستی کے لئے زبردست حکمت عملی اور صلاحیت موجود ہے روزے کے عمل میں انسان کے لیے بے شمار جسمانی و روحانی فوائد کے باعث روزہ رکھنا ایمان و عمل کا جزو لاینفک قرار دیا گیا ہے خدائے پاک کی یہ حکمت عملی بنی نوع انسان سے محبت اور اس کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی فرضیت کے بارے میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة،2:183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘
دوسریمقام پر حکمت و موعظت سے لبریز ارشادِ ربانی ہے: وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ:185)
اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو. احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں بھی روزے کی فرضیت و فضیلت کو خوب خوب اجاگر کیا گیا ہے جو عمل کے لئے مہمیز اور زندگی کے لئے بندگی اور بندگی کے لئے تابندگی کا روشن باب ہے. اب ورق الٹئے اور روزے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے کشت ایمان کو سیراب کیجئے.
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.(بخاری، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان،1: 22،رقم:38)’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.(نسائی،کتاب الصيام، 2: 637) ’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘
3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی:إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.(ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2: 305) ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا.
قرآن و حدیث میں روزے کی اس قدر فضیلت واہمیت کے درج ذیل اسباب ہیں.
پہلا سبب: روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسےﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص ﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔
دوسرا سبب: روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہوتی ہے۔
تیسرا سبب: روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔
چوتھا سبب: کھانے پینے سے استغناءﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ ﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔
پانچواں سبب: روزہ کے ثواب کا علم ﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔
چھٹا سبب: روزہ ایسی عبادت ہے جسے ﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔
ساتواں سبب: روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ ﷲ کو محبوب ہے۔
روزہ جہاں شرعی اعتبار سے روحانی پاکیزگی اور ایمانی تقدس کا ضامن و امین ہے وہیں طبی نقطۂِ نظر سے بھی روزہ انسانی جسم اور صحت کے لئے ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی نظیر نہیں. ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی غذائیت عام دنوں کے مقابلے میں جسم کو زیادہ تعداد میں ملتی ہے اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کرکے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے میڈیکل سائنس کی روشنی میں روزہ رکھنے سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں:
(۱)روزے سے جسم میں موجود زہریلے مادوں کی صفائی ہوتی ہے.
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نظام ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعـضا پرمشتمل ہوتا ہے جیسے منہ،جبڑے میں لعابی غدود،زبان،گلا،مقوی نالی،آنت و جگر وغیرہ تما م کے تمام نظام ہضم کے حصے ہیں۔جب ہم کھاتے ہیں تو تمام نظام ہضم حرکت میں آجاتے ہیں اور ہر عضو اپنا مخصوص عمل کرتا ہے،گویا کہ یہ چوبیس گھانٹے اپنی ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ،جنک فوڈاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانے کی وجہ سے متاثر ہو جاتا ہے۔لیکن ایک ماہ کے روزے سے سارے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے اور اس کا حیران کن اثر جگر پر ہوتا ہے جس سے اس کو ایک طاقت و توانائی مل جاتی ہے جیسا کہ مغربی عیسائی محقق ”ایلن کاٹ،،اپنی معروف کتاب ”fasting as way of life،،میں روزے کے بے شمار فوائد و ثمرات کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”روزے سے انسان کے نظام انہضام (معدہ)اور دفاعی نظام کو مکمل آرام ملتا ہے اور غذا ہضم کرنے کا عمل نارمل حالت پر آجاتا ہے،،(fasting as way of life/32)۔گویا کہ دوران روزہ جسم میں کوئی نئی خوراک نہیں جاتی اس وجہ سے زہریلے مادے پیدا نہیں ہوتے اور جگر پوری تند ہی سے پرانے زہریلے مادوں کو صاف کرکے اس میں تازگی و جدت پیدا کرتا ہے۔سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔
(٢)۔ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان (Inter Celluler) مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک پر سکون ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں (Epitheliead) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل کو آرام ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار رہتا ہے ان حالات میں رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدے پہنچاتے ہیں۔
(٣) پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
(٤)۔ روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔
(٥)۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ افطار کے وقت غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔
(٦)روزے سے بڑھاپے کے عمل میں کمی اور عمر میں اضافہ.
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے صحت کمزور ہوجاتی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس سے صحت انسانی کو مزید تقویت و توانائی حاصل ہوتی ہے۔بلکہ روزہ رکھنے سے ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اس سے انسانی جسم کی جلد مـضبوط ہوتی ہے اور جھریاں کم ہو جاتی ہیں۔جسم کو خوراک سے روکنے کی وجہ سے بہت سارے مہلک امراض جیسے کینسر،دل کے امراض،شوگر اور دماغی امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ ”world health net،،کی تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ باتوں کے ساتھ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے سے کینسر کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔سائنسداں کی آنکھیں آج کھلی ہیں لیکن نبی ﷺ اس چیز کو پہلے ہی دوآتشہ کر دیے کہ نفلی روزے میں ”داؤدی روزے،،بہتر ہوتے ہیں یعنی ایک دن چھوڑکر دوسرے دن روزہ رکھنا ”کان یصوم یوما و یفطر یوما،،(صحیح بخاری:۱۰۷۹)
(٧)دماغی امراض سے دوری.
جو لوگ جوانی میں تسلسل کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرتے ہیں یہ جب عالم پیری میں پہنچتے ہیں تو دماغی امراض کے شکار کم ہوتے ہیں۔جیسا کہ امریکی ڈاکٹر مارک مٹیسن کے مطابق ”روزے رکھنے سے انسانی دماغ الرائمز ز(Alzhemiers)پارکنس (parkinsons) اور اس کے علاوہ دیگردماغی امراض سے محفوظ رہتا ہے،،مزید آگے لکھتے ہیں ” دماغ کو سب سے زیادہ فائدہ اس میں ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً روزہ رکھے.

 *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here