مصر میں کھدائیوں کے دوران ماہرین آثار قدیمہ کو ایک قدیم شہر کے کھنڈرات کا پتا چلا ہے جو 3 ہزار سال قبل آباد تھا، اس شہر کو حضرت یوسف کے ہم عصر بادشاہ امنحتب اور اخناتون نے آباد کیا تھا

قاہرہ:9 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  مصر میں کھدائیوں کے دوران ماہرین آثار قدیمہ کو ایک قدیم شہر کے کھنڈرات کا پتا چلا ہے جو 3 ہزار سال قبل آباد کیا گیا تھا۔ مصر کی آثار قدیمہ مشن کے سربراہ اور سابق وزیر برائے آثار قدیمہ ڈاکٹر زاھی حواس نے بتایا کہ تاریخی ماخذ میں اس شہر کا نام’صعود آتون’ ملتا ہے جس کی تاریخ أمنحتب سوم بادشاہ کے زمانے سے ہے۔ یہ شہر توت عنخ آمون نامی بادشاہ کے زمانے سے قبل بھی آباد تھا۔ڈاکٹر زاھی حواس نے بتایا کہ جہاں قدیم شہر کے کھنڈرات ملے ہیں وہاں پر کچھ عرصہ قبل بادشاہ توت عنخ آمون کے لیے مختص ایک عبادت گاہ ‘معبد الجنائزی’ کی باقیات بھی دریافت ہوئی تھی۔ یہاں پر کھدائیوں سے ‘حوب محب’ اور ‘آئی’ نامی دو عبادت گاہیں اب تک سامنے آ چکی ہیں۔ڈاکٹر حواس کا کہنا ہے کہ مصر میں سامنے آنے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا قدیم شہر ہے جس کی بنیاد مصر کے ایک قدیم اور عظیم بادشاہ امنحتب سوم نے رکھی۔ یہ امنحتب کے سلسلہ نسب کے 18 ویں خاندان کا نواں بادشاہ تھا جس نے 1391 سے 1353 قبل مسیح میں مصر پر حکومت کی۔ شہر کی تعمیر میں اس کے بیٹے اور ولی عہد امنحتب چہارم نے بھی حصہ لیا جو اس کے 8 سال بعد تخت نشین ہوا اور بعد میں اخناتون کے نام سے جانا گیا۔ڈاکٹر حواس نے بتایا کہ مصر کے الاقصر کے مغربی کنارے پر یہ مصری شہنشاہیت کے دور کی سب سے بڑی صنعتی اور انتظامی کالونی تھی۔ یہاں پر کھدائیوں کے دوران بعض ایسے گھروں کا بھی پتا چلا ہے جن کی دیواریں تین تین میٹر اونچی ہیں۔ شہر کے اندر کشادہ گلیوں کا بھی پتا چلتا ہے۔ اب تک اس شہر کا مغربی حصہ دریافت ہوا ہے۔یہاں پر کھدائیوں کا آغاز ستمبر 2020ء میں ہوا تھا۔ چند ہفتوں کی کھدائیوں کے نتیجے میں یہاں پر ہرطرف مٹی کی اینٹیں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں اور یہاں سے دریافت ہونے والی باقیات نے تحقیقی مشن کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ ماہرین کو یہ یقین نہیں تھا کہ وہ ایک ایسے شہر تک پہنچ گئے ہیں جو ہزاروں سال گذرنے کے بعد زیر زمین ہونے کے باوجود آج بھی اپنا وجود رکھتا ہے۔ اس کی دیواریں کافی حد تک مکمل ہیں اور ان کے گھروں کے کمرے روز مرہ کے استعمال کی اشیا سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں سے ملنے والی بعض نوادرات ایسے لگتی ہیں جیسے آج کل کسی نے انہیں وہاں رکھا ہو۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں مصر کی پروفیسر ڈاکٹر یٹسی برائن نے کہا کہ اس گمشدہ شہر کی دریافت توت عنخ آمون قبرستان کی دریافت کے بعد ایک بڑی دریافت ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس شہر کی دریافت ہمیں سلطنت مصر کے نہ صرف قدیم زمانے تک لے گئی ہے بلکہ ان باقیات سے قدیم مصریوں کی زندگی کی ایک نادر جھلک بھی ملتی ہے۔ اس سے تاریخ کے سب سے بڑے اسرار پر روشنی ڈالنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ہمیں پتا چلتا ہے کہ بادشاہ اختناتون اور ان کی ملکہ نفرتیتی نے شہر کو آباد کرنے کے لیے کیسے کیسے فن تعمیر کا استعمال کیا تھا۔مصری ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقے کی کھادئی کا آغاز فراعنہ کے بادشاہ ‘توت عنخ آمون الجنائزہ’ کے معبد کی تلاش کے لیے کیا تھا۔ توت عنخ آمون جو بادشاہ ‘آئی’ کا جانشین تھا، اس نے یہاں ایک معبد تعمیر کیا تھا۔ اس کے بعد اس کے جنوب میں رمسیس ثالث نے ھابو شہر میں ایک معبد تعمیر کیا۔مشن کا پہلا مقصد اس شہر کی تاریخ کا تعین کرنا تھا کیوں کہ شراب کے برتنوں سے ‘ہیرو غلیفیہ’ کے الفاظ ملے جس نے وہاں پر مزید کھدائیوں کی راہ ہموار کی۔ یہاں تک کہ امنحتب سوم کے تین محلات، ایک انتظامی مرکز اور فراعنہ کے ایک صنعتی مرکز کا بھی پتا چلا۔یہاں پر کھدائیوں کے دوران ملنے والی اشیا میں عام استعمال کے برتن، شراب کے برتن، شراب تیار کرنے والا کارخانہ، رنگین برتن، مٹی کی اینٹیں جن پر خرطوش مہر لگی ہوئی ہے دریافت ہوئی ہیں۔ یہ مہر بادشاہ امنحتب سوم کی تھی جو کھدائیوں کے صرف سات ماہ کے اندر اندر دریافت ہو گئی۔خیال رہے کہ امنحتب کی حکمرانی میں ہی نبی خدا حضرت یوسف کو کنان سے لاکر مصر کے بازار میں غلام کے طور پر فروخت کیا گیا تھا اور پھر نئے بادشاہ امنحتب چہارم (اخناتون) نئے انہیں عزیز مصر کے منصب پر فائز کر دیا تھا۔ حضرت یوسف کے غلام بنائے جانے سے ان کو عزیر مصر بنائے جانے تک کے تمام واقعات قرآن میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here