ممبئی اور مہاراشٹر کے مساجد ٹرسٹ اور ملی و سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ مہاراشٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ماہ رمضان میں گائیڈ لائن کی بنیاد پر مساجد میں پنج وقتہ نماز مع تروایح کی اجازت طلب کی ہے۔

ممبئی:7 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  مہاراشٹر سرکار نے کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان ریاست میں لاک ڈاؤن کی سختیاں نافذ کردی ہیں۔اس درمیان عبادت گاہوں میں بھی عبادت کے متعلق پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مساجد میں امام کے علاوہ صرف اسٹاف کو ہی نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے۔ ماہِ رمضان کے پیشِ نظر مساجد میں عام لوگوں کے داخلے پر پابندی کے نئے سرکاری حکم نامے کے خلاف لوگوں میں بے چینی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ممبئی اور مہاراشٹر کے مساجد ٹرسٹ اور ملی و سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ مہاراشٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ماہ رمضان میں گائیڈلائن اور شرائط کی بنیاد پر مساجد میں پنج وقتہ نماز مع تروایح کی اجازت طلب کی ہے۔
جامع مسجد بمبئی ٹرسٹ نے وزیر اعلیٰ کو مکتوب روانہ کیا:
جامع مسجد بمبئی ٹرسٹ نے وزیر اعلی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ماہ رمضان میں پنج وقتہ نماز مع تراویح اور اعمال کی اجازت طلب کی ہے۔ جامع مسجد کے خطیب و امام مفتی اشفاق قاضی مکتوب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو گائیڈ لائن اور شرائط و ضوابط کے ساتھ مساجد میں عبادت کی اجازت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
ممبئی کی کئی مساجد نے وزیراعلی مہاراشٹر کو مکتوب روانہ کیا:
ممبئی اور مضافات کی کئی مساجد نے وزیراعلیٰ مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ماہ صیام میں عبادت کی اجازت طلب کی ہے۔ ان مکتوبات میں کورونا گائیڈ لائن پر عمل آوری کا بھی خاص ذکر ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری اور تنظیم رابطہ مدارس سے وابستہ عالم دین مولانا محمود دریابادی نے کہا کہ ممبئی و مضافات کی کئی مساجد کے ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر اور انتظامیہ کو خط لکھ کرمساجد میں عبادات کی پابندی پر رنج و غم و اظہار کیا ہے۔ ممبئی کی پتھر والی مسجد کیامام و خطیب مفتی عبدالاحد نے بتایا کہ ان مساجد کے ذمہ دارن مقامی پولیس اسٹیشن کے ذمہ داروں سے رابطے میں ہیں اس مسئلے میں حکومت پر سیاسی دباؤ بنانا بھی اشد ضروری ہے۔
ماہم اور حاجی علی درگاہ کا ممبئی ضلع کلکٹر کے نام مکتوب روانہ:
ممبئی کی حاجی علی درگاہ اور ماہم درگاہ ٹرسٹ نے ممبئی ضلع کلکٹر کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے تمام مذہبی مقامات میں پچاس فیصد حاضری کی اجازت طلب کی ہے۔ مماہم درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے کہا کہ حکومتی اور کورونا گائیڈ لائن کے ساتھ تمام مذیبی مقامات میں پچاس فیصد عقیدت مندوں کی حاضری سے سماجی فاصلہ بھی قائم رہے گا اور لوگوں کے مذہبی مقامات سے جڑے رہنے کے سبب نظم و نسق کی بہتر صورتِ حال بھی قائم رہے گی۔ سہیل کھنڈوانی نے کہا کہ حکومت اگر سیاسی اجتماعات کو اور شادی بیاہ کے معاملات میں اجازت دینے کی حامی بھر سکتی ہے تو مذہبی مقامات کو کیوں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
رضا اکیڈمی نے بھی وزیر اعلی کو مکتوب روانہ کیا:
رضا اکیڈمی نے بھی وزیراعلی مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے سے خط و کتابت کرتے ہوئے شرائط وضوابط کی بنیاد پر مساجد میں پنج وقتہ نمازی کی اجازت طلب کی ہے۔ رضااکیڈمی نے اپنے تحریری مکتوب میں کہا کہ گائیڈ لائن اور ایس او پیز کی بنیاد پر انتخابات اور ضروری فنکشن کی اجازت دی گئی ہے۔ رضا اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری سعید نوری نے کہا کہ ایس او پیز کی بنیاد پر ماہِ رمضان میں عبادت گاہوں میں عبادات و اعمال کی خصوصی اجازت ملنا ضروری ہے۔
امام بارگاہین بھی نئی گائیڈ لائن کی منتظر:
ممبئی کے معروف شیعہ امام باڑہ مغل مسجد کے ٹرسٹی علی نمازی نے کہا کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے دو روز میں جاری کردہ گائیڈ لائن میں کس طرح کی نرمی آتی ہے۔ اس کے بعد ہی حکومت اور انتظامیہ سے رابطے کی کوشیش کی جائیگی۔
وفد کو راجیش ٹوپے کی یقین دہانی:
ماہِ مقدس رمضان میں عبادات کی اجازت کے معاملے میں سرکردہ مسلم شخصیات اور سماج وادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے گزشتہ دنوں وزیر صحت راجیش ٹوپے سے ممبئی میں ملاقات کی تھی اور گائیڈ لائن اور سماجی فاصلے کے تحت مساجد میں عبادت کی اجازت کی طلب کی تھی۔ وفد کے مطالبات کو سنتے ہوئے راجیش ٹوپے نے ماہ رمضان میں عبادت پر پابندیوں کو لے کر مسلم سماج میں پھیلی ناراضگی سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کروانے کا یقین دلایا تھا۔.

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here