7 اپريل 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہا نوں کا پالنے والا ہے، رب کے معنیٰ ہیں تمام جہانوں کا پالنے والا، تمام پالنے والوں کا پالنے والا،اورزمین پر چلنے والا کو ئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔انسان،تمام جاندار اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں،یہ اس کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ وہ اس کے خلاف نہیں فر ماتا۔ تمام جانداروں میں انسان اشرف المخلو قات ہے، اللہ نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے قر آن مجید میں اعلان خدا وندی ہے۔ تر جمہ: تواللہ کا دیا ہوا حلال پا کیزہ رزق کھائو اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو۔اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو(القرآن،سورہ نحل16:آیت،114)۔ اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں جن کو انسان گن نہیں سکتا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(القرآن،سورہ نحل،16آیت18) ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے، بیشک اللہ بخشنے والا مہر بان ہے۔ اللہ انسانوں کو علم کی دولت سے نوزا عقل وشعور،عزت،شہرت،دولت جیسی بے شمار نعمتوں سے نوزا اور یہ بھی فر مایا کہ جو نعمتیں تمھیں ہم نے عطا کی ہیں ان کا شکر ادا کرو،شکر کے بارے میں علماومفسرین فر ماتے ہیں کہ جو نعمتیں تمھیں ملی ہیں ان کی حفاظت کرو ان کی قدر کرو یہ بھی شکر ہے۔لیکن کچھ ا نسان نعمتیں ملنے سے گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یہ سوچ لیتے ہیں کہ یہ نعمتیں ان کی ہمیشہ غلام بنی رہیں گی یہ انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔آج دولت کا بیجا استعمال عام سی بات ہو گئی ہے شادی بیاہ میں طرح طرح کی رسموںوخرافات میں دولت کو خرچ کر رہے ہیں، جہیز جیسی بیجا رسم ہی کیا کم ستم ڈھائے ہوئے تھی اس سے بڑا وبال جان آجکل کی دعو تیں ہو گئی ہیں،فرینڈ شپ ڈے ہو، یوتھ ڈے ہو، نیو ایئر ڈے ہو، برتھ ڈے پارٹی ہو،ولیمہ کی پارٹی ہو منگنی کی پارٹی ہو،شادی کی پارٹی ہو،اتنے طرح کا کھانا پکواکر کھلاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ یہ سب دکھاوا کے لیے اسٹیٹس(status symbol) بنا رکھا ہے۔ جہیز کی بڑھتی لعنت ہی زہریلے ناگ کی طرح غریب بچیوں،والدین کو ڈس رہی ہے،اب نئے موذی مرض دعوتوں میں پر تکلف کھانوں نے لے لی ہے،بے چارہ غریب انسان دیکھ دیکھ کر آہیں بھر رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کھا نا انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے،اس لیے وہ جگہ، مقام اور اپنے مر تبے کا احساس بھی نہیں کرتا شادیوں میں اکثر مار کٹائی کھانا کے ہی چلتے ہو تی ہے اور وہ منظر دیکھنے کے لائق ہو تا ہے۔اسلام نے میانہ روی کو پسند کیا ہے کھانے میں احتیاط یہ ہونی چا ہییـــ کھانا ’’جی‘‘ بھر کر نہ کھائے اور ’’پیٹ‘‘ بھر کر بھی نہ کھا ئے،ایک مسلمان کو چاہیے کہ پیٹ کے تین حصے کرے ایک تہائی کھانے کے لیے،ایک تہائی پانی کے لیے ایک تہائی سانس کے لیے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:’’کسی انسان نے اپنے پیٹ سے برا برتن کبھی نہیں بھرا ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے،تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے رکھے۔(تر مذی:حدیث238،1939، ابن ماجہ3349،)۔
*رزق نعمت الٰہی ہے، اسے بر باد نہ کریں:*بڑھتی مہنگا ئی اور شادی پارٹیوں میں طرح طرح کے پکوانوں کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اس سے کھانے کی بر بادی بہت زیادہ ہو رہی ہے اور یہ روز کا معمول بن گیا ہے نہ خدا کا خوف نہ سماج کا اور نہ ہی غریبوں کی بھکمری کا کہ اللہ نے ہمیں اتنا دیا ہے، اللہ کی کتنی مخلوق بھو کے سوتی ہے اور ہم ہیں کہ کھانا بر باد کر رہے ہیں پھینک رہے ہیں، ہم سب کو اس بات کو یقینی بناناچاہیے اللہ کی بے بہا نعمت رزق کو ضائع(برباد،wasted) نہ کریں اتنا ہی کھانا پکوائیں جو لوگ کھالیں اور کم نہ پڑے،طرح طرح کے لذیز کھانے بنوانا ضرورت سے زیادہ بنواناتو کھانا بر باد ہو نا لازمی ہے،بچے ہوئے کھانے کو بانٹنے سے پہلے سوچیں کاش اتنا کھانا نہ بنواتے یا اتنا کھانا پہلے بنواکر پہلے ہی یتیم خانہ،مدرسہ اور غریبوں ہمسایوں کو بھیج دیتے وہ غریب بھی لذیز کھانا کھا لیتے اور دعائیں دیتے۔ یا پھر اتنے قسم کا کھانا ہی نہ بنواتے کھانا بھی بر باد نہ ہوتا اور فضول خر چی سے بھی بچتے اور روپیے بھی زیادہ نہ خرچ ہوتے،زیر بار ہو نے سے بچ جاتے۔ضرورت مندوں کو دیں ما لی،ِ صفائی کرنے والے،چوکیدار،پڑوسی سب کا حق ہے ان میں سے بہت سفید پوش بھی ہو تے ہیں جو اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے اپنی ضرورت بیان نہیں کرتے، سب سے بہتر تو یہ ہوتا باسی کھانا دینے کے بجائے ان کو بھی دعوت دیں۔ بھو کے کو کھانا کھلانابہت بڑی نیکی ہے بغیر کسی دوڑ بھاگ کے بھو کوں کو کھلا کر آپ کتنا ثواب کما لیں گے اور ان کی دعائیں بھی حاصل کر لیں گے۔ دن بدن جس طرح سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اس صورت حال میں محنت کی کمائی کو اس طرح کھانے میں ورائٹی بڑھا کر بر باد نہ کیجئے ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی کر کے اپنے خرچ میں کمی لا سکتے ہیں۔
*دنیا میں سب سے زیادہ کھانا سعودی عر بیہ میں برباد ہو تا ہے:*سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں پر رمضان المبارک میں بڑے پیمانے پر کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ BBC کی شیلا ڈلن کی ایک رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران تیار ہونے والے مجموعی کھانے کا30فیصد حصہ پھینک دیا جا تا ہے جس کی قیمت تقریباً12لاکھ ریال(تقریباً ایک کڑوڑ9لاکھ روپیے)ہو تی ہے،ماہرین کھانے کی بر بادی کے لیے رمضان المبارک میں طرح طرح کے پکوان بنانے اور خرید نے کو بھی بتا تے ہیں، بہت طرح کی چیزیں ہونے سے لوگ لذت لیکر دوسرے کھانے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں،بچے ہوئے کھانے کا دوبارہ استعمال نہ کر نا، ہر روز تازہ کھانا بنانے خرید نے کو بھی وجہ بتاتے ہیں، گذشتہ سال سعودی حکومت نے لوگوں کو کم مقدار میں کھانا پکانے کی اپیل بھی کی تھی، کھانے کی بر بادی میں صرف سعودی عرب اکیلا نہیںہے، بلکہ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک بھی اس میں شامل ہیں اور یہ خرابی نو دولتیوں کے ساتھ ساتھNRI ریٹر نوں نے یہاں بھی پھیلا دی ہے۔جہیز تو ایک ناسور ہے ہی اس پر اور غضب شادیوں کی دعوتوں میں طرح طرح کے پکوانوں نے،شادی کو اور مہنگا بنا دیاہے اللہ خیر فر مائے۔
*غریب کا رزق کوڑے کے ڈھیر پر! استغفراللہ:*اب ہر طرح کی پار ٹیوں میں بوفے buffetسسٹم سے کھانا کھلانے کا رواج عام ہو گیا ہے،اس میں کھانا بہت بر باد ہوتا ہے زیادہ تر لوگ کھانازیادہ لے لیتے ہیں پسند نہ آنے پر وہ ٹب میں ڈالدیتے ہیں اور وہ کھانا کوڑے میں پھینکا جا تا ہے آ پ دیکھتے ہوں گے اکثر کوڑے کے ڈھیروں پر غریب پھینکا ہوا کھانا کھاتے رہتے ہیںیہ انتہائی شرم کی بات ہے،یہ ہر شہری اور حکومت کی ذمہ داری ہے اسے روکا جائے۔عالمی قانون کے مطابق دنیا کا ہر ملک اپنے ہر شہری کی غذا کی ضرورت پوری کرنے کا پا بند ہے، افسوس ہمارے ملک ہندوستا ن میں آج بھی 32 فیصد لوگ خط افلاس(تنگدستی،مفلسی، مالی محتاجی،) کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 1979 سے ہر سال 16اکتوبر کو’’عالمی یوم خوراک‘‘(ڈبلیو ایف ڈی) منایاجاتا ہے اقوام متحدہ کی جانب سے منانے والے دنوں میں یہ سب سے زیادہ اہم دن ہے کیو نکہ دنیا بھر کے150سے زیادہ ممالک غذائی تحفظ کے خاتمے کے لیے عوامی بیداری پھیلانے اور سال2030 تک مکمل طورسے بھوک کے خاتمے کے حصول کے لیے مختلف پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں،اس دن کے منانے کا مقصد خورک اور بھوک کے شعبوں کی اہمیت کو اجا گر کیا جائے۔ افسوس صدافسوس یہ صرف اخباروں اور میڈیا تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے،حکومتوں کو سنجید گی کے ساتھ سوچ کرآگے کا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے خاصکر مسلمانوں کو چاہیے کہ کھانے کی بر بادی قطعی نہ کریں ور نہ اللہ کے وہاں سخت پکڑ ہوگی۔ مذہب اسلام میں دستر خوان پر گرے ہوئے کھانے کو اٹھا کر صاف کرکے کھانے کی فضیلت آئی ہے، اگر دستر خوان پر گرا ہوا کھانا یا بر تن میں کھانا چھوڑ دیں گے تو کھانے کی بر کت چلی جائے گی۔حدیث پاک مطا لعہ فر مائیں حضرت ا نس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:آپ ﷺ جب بھی کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے، اور آپ نے ایک بار فر مایا:(اگر تم سے کسی کا لقمہ گر جائے اسے صاف کر کے کھالے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے) آپ نے حکم فر مایا کہ پلیٹ کو انگلی سے چاٹ لیں، اور فر مایا:(تمھیںنہیں معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں بر کت ہے)۔(مسلم:حدیث،2034) غور فر مائیں آجکل پارٹیوں میں طرح طرح کے کھانوں سے بھری ہوئی پلیٹیں ٹب میں پھینک دی جاتی ہیں اور وہی کھانا پھر پھینک دیا جاتا ہے اور اسی پھینکے ہوئے کھانوں پربھوکے غریب ٹوٹ پڑ تے ہیں اور اپنے پیٹ کی آگ (بھوک) مٹاتے ہیں خدارا غور کریں،سوچیں دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے اللہ کی بار گاہ میں بھی حاضر ہو نا ہے۔ طرح طرح کے لذیز کھانے در جنوں آئیٹم بناکر فضول خر چی کر کے شادیوں کو مہنگا کون بنا رہاہے یہ تو جہیز سے بھی خطر ناک صورت اختیار کر چکی ہے۔جہیز ہی کیا کم قیامت ڈھارہاتھا کہ اب یہ پر تکلف پار ٹیاں غریبوں اور مڈل کلاس کے لو گوں کے لیے سوہان روح بنتے جا رہی ہیں۔
*جہیز ایک موذی بیماری ہے۔:*بیٹی اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے اللہ نے بیٹی کا ذکر قرآن میں پہلے فر مایا ہے،(القرآن، سورہ شوریٰ:42،آیت49سے50)تر جمہ: اللہ ہی کے لیے ہے زمین و آسمان کی سلطنت پیدا کر تا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا دونوں ملادے اور جسے چاہے بانجھ کر دے بیشک وہ علم و قدرت والا ہے۔(کنزا لایمان) اللہ نے بیٹی کا ذکر پہلے فر مایاہے ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کسی کے یہاں صرف بیٹیاں پیدا کر نے اور کسی کے یہاں بیٹے اور بیٹیاں دونوں پیدا کر نے کا ختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، کسی عورت یا مرد کے بس میں نہیں کی صرف لڑ کے ہی پیدا کرے،جب یہ نظام قدرت ہے تو لڑ کی پیدا ہونے پر عورت کو مشق ستم بنا نا اسے طرح طرح کی اذیتیں دینا بات بات پرطعنوںسے عورت کے دل کو چھلنی کر نا تکلیف دینا کہاں کا انصاف ہے۔؟افسوس!آج مسلم معا شرے نے اس طرز عمل کو اپنا لیا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ ہے۔ بیٹی اللہ پاک کی جانب سے انمول تحفہ ہے مگر جہیز جیسی لعنت کے چلتے’’زحمت‘‘ سمجھی جا نے لگی ہے، بیٹی پیدا ہو تے ہی والدین کو جو پہلا جھٹکا لگتا ہے وہ یہ ناسور،ظلم’’جہیز‘‘ہی ہے۔۔۔۔ذرا غورکریں آج کتنی بچیاں ایسی ہیں جودلہن بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہوگئیں۔۔۔ قصور ان کا صرف یہ ہے کہ یہ غریب گھر میں پیدا ہوئیں ہیں،نیک سیرت،خوبصورتی،جوانی سب تھی، ہاں نہیں تھا تو جہیز کا بندو بست غریب والدین سوچ سوچ کر کڑھ رہے ہیں بچیاں سسک رہی ہیں۔ شریعت میں جہیز دینے لینے کاکوئی حکم نہیں ہے، یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے نبی کریم ﷺ نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کتنا جہیز دیا تھا؟؟؟ کیا آپ ﷺ اپنی بیٹی کو جہیز نہیں دے سکتے تھے؟ سب ملا کر ایک چکی، پانی کا ایک برتن،اور تکیہ دیا تھا،جبکہ آپ کی دوسری بیٹیوں کے بارے میں ایسی اور روایت نہیں ملتی ہے۔آج غریب انسان اور معاشرہ پریشان ہے کیا ہم اس لعنت کو ختم نہیں کر سکتے ہیں، چند جوڑوں میں غریب بچیوں کو بیاہ کر نہیں لا سکتے۔لڑ کے والے اگر اس طرف قدم بڑھائیں تو اللہ انہیں اجر عظیم دے گا اور اس نیکی کی بدولت پر سکون زندگی بھی میسر ہوگی اللہ ہم تمام مسلمانوں کو جہیز جیسی لعنت سے بچنے کی تو فیق عطا فر مائے آمین ثم آمین-

*تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور*

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here