سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے ایک سرکاری ذرائع نے ریاض ریفائنری پر ڈرون کے ذریعے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے توانائی کی عالمی رسد میں تخریب کاری کی مجرمانہ کوشش قرار دیا ہے
20مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)نریاض: سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے ایک سرکاری ذرائع نے جمعہ کے روز ریاض ریفائنری پر ڈرون کے ذریعے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے توانائی کی عالمی رسد میں تخریب کاری کی مجرمانہ کوشش قرار دیا ہے۔وزارت توانائی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ جمعہ کی صبح 6 بجکر 5 منٹ پر ریاض میں آئل ریفائنری پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ایس پی اے’ کے مطابق اس حملے میں تیل کی رسد متاثر نہیں ہوئی۔ وزارت توانائی نے زور دیا کہ مملکت اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں دشمن عناصربار بار اہم تنصیبات اور سویلین شہریوں کو اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا مرتکب ہو رہیہیں۔اس طرح کی تخریب کاری راس تنورا ریفائنری اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی کوششیں تیل کی عالمی رسد کو نشانہ بنانا اور سعودی عرب کی عالمی سلامتی کو خطرمیں ڈالتے ہوئے سعودی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here