سمندر پار ترک اور متعلقہ کمیونٹیز (وائی ٹی بی)، ایک تحریری بیان کے مطابق، اسکالرشپ پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلباء کی تربیت والے علاقوں سے 18 مارچ یوم شہداء فتح چناق قلعیکی 106 ویں سالگرہ کے موقع پر انقرہ میں پروگرام کا اہتمام کیا گیا

19مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)چناق قلعے میں آباو اجداد شہید ہونے والے بین الاقوامی طلبا کے لیے پروگرام ین الاقوامی طلباء جن کے آباو اجداد چناق قلعچناق قلعے میں آباو اجداد شہید ہونے والے بین الاقوامی طلبا کے لیے پروگرامسمندر پار ترک اور متعلقہ کمیونٹیز (وائی ٹی بی)، ایک تحریری بیان کے مطابق، اسکالرشپ پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلباء کی تربیت والے علاقوں سے 18 مارچ یوم شہداء فتح چناق قلعیکی 106 ویں سالگرہ کے موقع پر انقرہ میں پروگرام کا اہتمام کیا گیاچناق قلعے میں آباو اجداد شہید ہونے والے بین الاقوامی طلبا کے لیے پروگرام ین الاقوامی طلباء جن کے آباو اجداد چناق قلعے میں شہید ہوئے تھے کے لیے ایک یادگاری پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔سمندر پار ترک اور متعلقہ کمیونٹیز (وائی ٹی بی)، ایک تحریری بیان کے مطابق، اسکالرشپ پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلباء کی تربیت والے علاقوں سے 18 مارچ یوم شہداء فتح چناق قلعے 106 ویں سالگرہ کے موقع پر انقرہ کے دفتر “چناق قلعے بین الاقوامی طلباء کی آنکھوں سے” کے زیر عنوان پروگرام منعقد کیا گیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائی ٹی بی کیچئیرمین عبد اللہ ایرن نے کہا کہ فتح چناق قلعے مادی اور روحانی بہادری کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم شہدا کی قبروں پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اس پر بلقان، قفقاز اور مشرق وسطی کے بہت سے شہروں کے نام دیکھے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہترکی اور دیگر خطوں سے آئَ ہوئے ہمارے آباو اجداد چناق قلعے میں شہید ہوئے تھے۔ آج ہمارے لئے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم شہادت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بھائی ہیں اور یہاں پر ہی ہم آخری بار ایک پرچم تلے یکجا ہوئے تھے۔پروگرام میں بین الاقوامی طلبا کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے، کوسوو سے تعلق رکھنے والے انقرہ یلدرم بیاضد یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالبِ علم اکرم زجمی نے کہا کہ میرے دادا، رحمان چناق قلعے کی سرزمین میں اپنے دوستوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے تھے۔ ہمارے آباو اجداد کا تعلق اور پس منظر ایک ہی ہے۔ بین الاقوامی طلباء کا مستقبل ایک ہی ہے۔ ہم 106 سال بعد ایک بار پھر اناطولیہ میں اپنے مشترکہ مستقبل کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔یں شہید ہوئے تھے کے لیے ایک یادگاری پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔سمندر پار ترک اور متعلقہ کمیونٹیز (وائی ٹی بی)، ایک تحریری بیان کے مطابق، اسکالرشپ پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلباء کی تربیت والے علاقوں سے 18 مارچ یوم شہداء فتح چناق قلعے 106 ویں سالگرہ کے موقع پر انقرہ کے دفتر “چناق قلعے بین الاقوامی طلباء کی آنکھوں سے” کے زیر عنوان پروگرام منعقد کیا گیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائی ٹی بی کیچئیرمین عبد اللہ ایرن نے کہا کہ فتح چناق قلعے مادی اور روحانی بہادری کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم شہدا کی قبروں پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اس پر بلقان، قفقاز اور مشرق وسطی کے بہت سے شہروں کے نام دیکھے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہترکی اور دیگر خطوں سے آئَ ہوئے ہمارے آباو اجداد چناق قلعے میں شہید ہوئے تھے۔ آج ہمارے لئے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم شہادت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بھائی ہیں اور یہاں پر ہی ہم آخری بار ایک پرچم تلے یکجا ہوئے تھے۔پروگرام میں بین الاقوامی طلبا کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے، کوسوو سے تعلق رکھنے والے انقرہ یلدرم بیاضد یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالبِ علم اکرم زجمی نے کہا کہ میرے دادا، رحمان چناق قلعے کی سرزمین میں اپنے دوستوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے تھے۔ ہمارے آباو اجداد کا تعلق اور پس منظر ایک ہی ہے۔ بین الاقوامی طلباء کا مستقبل ایک ہی ہے۔ ہم 106 سال بعد ایک بار پھر اناطولیہ میں اپنے مشترکہ مستقبل کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here