19مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)روسی ذرائع ابلاغ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماسکو حکومت کا اپنے حلیف صدر بشارالاسد کے بارے میں موقف تبدیل کیے جانے سے متعلق خبروں کے بعد ایران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے حزب اللہ کا ایک وفد بات چیت کے لیے ماسکو بھیجا ہے۔ اس وفد نے روسی حکام کے ساتھ شام کے موجودہ بحران سمیت بشارالاسد کے بارے میں ممکنہ طورپر روس کے بدلتے موقف پر تبادلہ خیال کیا ہے۔گذشتہ پیر کے روز اخبار “نیزویسمایا گزٹا” میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حزب اللہ” وفد شامی حکومت کے سربراہ بشارالاسد کے بارے میں ماسکو کے موقف میں تبدیلی کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔گذشتہ برس دسمبرمیں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ کہا تھا کہ پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی نے سنہ 2015ء میں روسی صدر ولادی میر پوتین کو شام میں فوجی مداخلت پر قائل کیا تھا۔ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے بعض دوستوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ دارالحکومت دمشق میں لڑائی شدت اختیار کرنے کیبعد وہاں سے نکل جائیں اور اللاذقیہ میں قیام کریں۔ اس کے بعد ایران اور روس نے شام میں بڑی تعداد میں اپنی فوجیں تعینات کر دیں۔ روسی اخبار کے مطابق حزب اللہ کے وفد نے ایک ایسے وقت میں ماسکو کا دورہ کیا ہے جب انہی ایام میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیبی اشکنزئی بھی روس کے دورے پر کل بدھ کو پہنچے۔شام میں سنہ 2011ء اور 2012ء کو شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد روس بھی بشارالاسد کے انجام سے خائف ہو گیا تھا۔ادھر روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہیکہ وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے حزب اللہ کے پارلیمانی لیڈر محمد رعد سے ملاقات کی۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام اور لبنان کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here