بنگلور : 09 مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر عبدالحنان نے بتایا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ 2021 – 22 درمیانی طبقے کے لوگوں کے لئے، جو کورونا کی مشکلات سے فرار پانے کی توقع کر رہے تھے، مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ بجٹ نے لوگوں کی روز مرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ ا س مرتبہ کا بجٹ سوال الگ جواب الگ کی طرح کا ہے۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی سو کے قریب پہنچ چکی ہیں اور درمیانی طبقے کی جیب کاٹ رہی ہیں، اس بات کی توقع کہ ریاستی حکونت پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کی شرح میں کمی کرنے کے ذریعے قیمت میں کمی کرکے کرناٹکا کے عوام کے ساتھ انصاف کرے گی جھوٹی ثابت ہوئی۔ پارٹی نے اقلیتوں کی ترقی کے لیے کم از کم 10 ہزار کروڑ روپیے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن صرف 1500 کروڑ روپیے مختص کرنے کے ساتھ اقلیتوں کی ترقی کی مخالف حکومت ثابت ہوئی ہے۔ عبدالحنان نے بجٹ پر اپنی مایوسی ظاہر کرتے ہوئے مزید کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے گرانٹ میں پچھلے سال کے مقابلے کمی کرنا قابلِ مذمت ہے۔ اس کی وجہ سے ایس سی ایس ٹی برادری کی ترقی میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے لیے 20 ہزار کروڑ مختص کرتے ہوئے غریبوں کو مفت صحتی نظام دیا جانا چاہئے تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here