جائے تقریب پر نصب بینر پر افتتاح کار کے طور پر محکمہ کے وزیر مکیش ساہنی کا نام لکھا ہوا تھا لیکن وزیر خود یہاں نہیں آئے اور ان کی جگہ ان کے بھائی سنتوش ساہنی وہاں پہنچ گیے۔

پٹنہ:05 مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) بہار کے وزیر برائے مویشی پروری اور ماہی وسائل مکیش ساہنی کے مقام پر ایک سرکاری تقریب میں ان کے بھائی سنتوش ساہنی کے شرکت کرنے اور مستفدین کو دی جانے والی گاڑیوں کی چابی سونپے جانے کے معاملہ میں حزب اختلاف نے جمعہ کے روز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ کیا۔ اسمبلی میں آر جے ڈی کے رہنما بھائی وریندر نے اپنے مقام پر بھائی کو سرکاری تقریب میں بھیجنے پر نشانہ لگایا اور وزیر اعلی نتیش کمار سے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیر اعلی نتیش کمار نے معاملہ نوٹس میں آنے کے بعد حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ معاملہ بہت سنگین ہے، وزیر کا بھائی کسی سرکاری پروگرام کا افتتاح کیسے کر سکتا ہے! انہوں نے کہا کہ اس کی رپورٹ طلب کی جا رہی ہے اور جو بھی قصوروار ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ معاملہ ضلع ویشالی کے حاجی پور سے متعلق ہے، جہاں کے اکشے وٹ رائے اسٹیڈیم میں مویشی پروری اور ماہی گیری وسائل کے ذریعہ ماہی گیری کی مارکیٹنگ اسکیم کے تحت ماہی گیروں اور انتہائی پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں کے لئے ایک گاڑی تقسیم کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔جائے تقریب پر نصب بینر میں افتتاح کار کے طور پر محکمہ کے وزیر مکیش ساہنی کا نام لکھا ہوا تھا لیکن وزیر خود یہاں نہیں آئے اور ان کی جگہ ان کے بھائی سنتوش ساہنی وہاں پہنچ گیے۔ اس کے بعد وزیر کے بھائی سنتوش ساہنی نے سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں نہ صرف اس پروگرام کا افتتاح کیا، بلکہ مستفید افراد میں گاڑیاں بھی تقسیم کیں۔ جب اس موقع پر صحافیوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وزیر کی مصروفیت کی وجہ سے وہ ان کے نمائندے کے طور پر حاضر ہوئے ہیں۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ابھی تک وزیر مکیش ساہنی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس معاملہ پر قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں کافی ہنگامہ برپا ہوا۔ بجٹ اجلاس میں پہلے ہی حزب اختلاف کے حملوں کا شکار نتیش حکومت اس واقعے کے بعد پوری طرح بیک فٹ پر ہے۔ خود نتیش کمار اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے بے چین نظر آئے۔ نتیش حکومت کی تحقیقات میں کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس واقعہ نے حکومت کی سبکی ضرور کرا دی ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here