سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت کی رائے سے الگ سوچ رکھنے والوں کو وطن غدار نہیں کہا جا سکتا۔ اس بیان کے ساتھ ہی عدالت نے فاروق عبداللہ کے خلاف داخل ایک مفاد عامہ عرضی کو خارج کر دیا۔

03 مارچ 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت کی رائے سے الگ نظریہ یا سوچ رکھنے والوں کو وطن غدار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے ذریعہ دفعہ 370 منسوخ کرنے کے خلاف بیان دینے کے معاملے میں داخل ایک مفاد عامہ عرضی کو بھی خارج کر دیا۔جسٹس سنجے کشن کول اور ہیمنت گپتا کی بنچ نے کہا کہ عدم اتفاق کو ملک سے غداری نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بات وکیل شیو ساگر تیواری کے ذریعہ سے رجت شرما اور دیگر کے ذریعہ داخل عرضی پر کہی۔ عدالت عظمیٰ نے عبداللہ کے خلاف عرضی داخل کرنے کے لیے عرضی دہندگان پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ عرضی میں فاروق عبداللہ کے مبینہ بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ انھوں نے دفعہ 370 پر ہندوستان کے خلاف چین اور پاکستان کی مدد مانگی۔نیشنل کانفرنس نے ان خبروں کو مسترد کر دیا تھا کہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران اس کے لیڈر فاروق عبداللہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا تھا کہ آئین کی دفعہ 370 کو چین کی مدد سے کشمیر وادی میں بحال کیا جائے گا۔ عرضی میں کہا گیا کہ ’’عبداللہ کا عمل قوم کے مفاد کے خلاف بہت سنگین جرائم ہے اس لیے وہ پارلیمنٹ سے ہٹائے جانے کے حقدار ہیں۔‘‘دلیل میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ کا بیان ملک مخالف اور ملک سے غداری ہے اور حکومت کو انھیں پارلیمنٹ کے رکن کی شکل میں نااہل امیدوار قرار دیتے ہوئے مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی جانی چاہیے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اگر عبداللہ کو رکن پارلیمنٹ بنائے رکھا جائے گا تو یہ ہندوستان میں ملک مخالف سرگرمیوں کو منظوری دینے جیسا ہوگا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here