سیٹلائٹ تصاویر میں اسرائیل کے شمعون پریز جوہری ری ایکٹر کے قریب فٹبال گراونڈ جتنے بڑے رقبے میں اور چند منزلہ زیرِ زمین کھدائی ہوتی دکھائی دے رہی ہے

25 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) تل ابیب انتظامیہ کی جوہری اسلحے کی تنصیب میں، حالیہ سالوں کے سب سے بڑے تعمیری منصوبوں میں سے ایک زیرِ تعمیر ہے۔اے پی خبر رساں ایجنسی کی خبر کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں اسرائیل کے جنوبی شہر ڈیمونا کے جوار میں واقع نیگیو جوہری تحقیقاتی مرکز کے شمعون پریز جوہری ری ایکٹر کے قریب فٹبال گراونڈ جتنے بڑے رقبے میں اور چند منزلہ زیرِ زمین کھدائی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اندازے کے مطابق ری ایکٹر کے قریب کھدائی کا کام سال 2019 میں شروع ہوا اور اس وقت سے اب تک سست رفتاری سے جاری ہے۔سیٹلائٹ تصاویر میں تقریباً 150 میٹر طویل اور 60 میٹر چوڑے گڑھے سے نکلنے والی مٹی اور پتھروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہے اور اسرائیلی حکام نے اس سے متعلق سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔خبر میں کہا گیا ہے کہ تعمیر کا کام اس دور میں شروع ہوا جب بنیامین نیتان یاہو انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام پر سخت تنقید کر رہی تھی۔مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین نے ایران کی جوہری کاروائیوں کی مانیٹرنگ کی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی جوہری کاروائیوں کی مانیٹرنگ کی اجازت نہیں دی۔واشنگٹن کی اسلحہ کنٹرول سوسائٹی کے ڈائریکٹر ڈیرائل جی کِمبل نے کہا ہے کہ اسرائیل انتظامیہ کا نیگیو جوہری تحقیقاتی مرکز کے منصوبے سے متعلق بیان جاری کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ 1950 کے سالوں میں اسرائیل نے فرانس کی مدد سے ملک کے جنوبی شہر ڈیمونا کے جوار میں واقع صحرا میں خفیہ شکل میں جوہری تنصیب کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا۔تل ابیب انتظامیہ نے مذکورہ علاقے میں جوہری تنصیب کے تعمیری منصوبے کو امریکہ سمیت بین الاقوامی رائے عامہ سے پوشیدہ رکھا تھا۔معلوم معلومات کے مطابق مذکورہ تنصیب سے حاصل شدہ پلوٹونئیم کے طفیل اسرائیل دنیا میں جوہری اسلحے کے مالک 9 ممالک میں سے ایک بن گیا ہے۔اسرائیل کے، جوہری کاروائیوں کے بارے میں، معلومات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل کے جوہری اسلحے کی تعداد کے باریمیں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ تاہم جوہری اسلحے کی مخالف تنظیموں کے مطابق تل ابیب انتظامیہ کے پاس 80 کے لگ بھگ جوہری اسلحہ موجود ہے۔اطلاع کے مطابق اسرائیل کے جوہری اسلحے کو بیلسٹک میزائل، جنگی طیاروں اور آبدوزوں کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here