سوال میں کہا گیا کہ اپنے شہر کیایک روزنامہ کے ایڈیٹر کو ایک خط تحریر کریں اور شرپسندوں کی ایسی خوفناک، پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کریں، جو یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ملک ذاتی مفاد سے پہلے آتا ہے۔

چنئی:20 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں واقع ایک اسکول میں امتحان کے دوران طلبا سے کسان مظاہرین کے تعلق سے ایک ایسا سوال پوچھا گیا ہے جس پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسکول میں 11 فروری کو لیے گئے امتحان میں طلبا سے اپنے شہر کے اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط تحریر کرنے کو کہا گیا۔ علاوہ ازیں ایسے مظاہرین سے نمٹنے کی تجاویز بھی پیش کرنے کو کہا گیا جو بیرونی مدد سے ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق چنئی کے ایک مایہ ناز سی بی ایس ای اسکول کا 10ویں جماعت کا انگریزی کا وہ سوالنامہ تنازعہ میں ہے جس میں قومی راجدھانی میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر پریڈ نکالنے کے دوران ہونے والے تشدد کے تناظر میں مظاہرین کو فسادی قرار دیا گیا۔ سوال میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ہوئے تشدد کی معلومات دینے کے بعد طلبا سے خیالات کا اظہار کرنے کو کہا گیا۔سوال میں کہا گیا کہ “اپنے شہر کے ایک روزنامہ کے ایڈیٹر کو ایک خط تحریر کریں اور شرپسندوں کی ایسی خوفناک، پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کریں، جو یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ملک ذاتی مفاد سے پہلے آتا ہے۔ عوامی املاک کو تباہ کرنا، قومی پرچم کی بے حرمتی کرنا اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنا، کچھ ایسے جرائم ہیں جن کو کسی بھی طرح سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔”خیال رہے کہ 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی راجدھانی دہلی میں کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹریکٹر ریلی نکالی تھی۔ اس دوران صورتحال بے قابو ہوگئی اور متعدد مقامات پر تشدد ہوا۔ پولیس نے درشن پال، یوگیندر یادو سمیت 37 کسان رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ تاہم، دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک بدستور جاری ہے۔ 18 فروری کو کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف ’ریل روکو مہم‘ چلا کر احتجاج درج کرایا تھا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here