مہلوک بچے کے گھر والوں کو ایک چٹھی ملی تھی جس میں 30 لاکھ روپے مانگنے کے ساتھ ساتھ اغوا کنندگان نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس معاملے میں پولیس سے شکایت کی گئی تو بچے کا قتل کر دیا جائے گا۔

17 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اتر پردیش کے امروہہ میں ایک انتہائی دلدوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں جرائم پیشوں نے 5 سالہ ایک بچے کو صرف اس لیے قتل کر دیا کیونکہ انھیں تاوان میں 30 لاکھ روپے ادا نہیں کیے گئے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اغوا کنندگان نے پانچ سالہ تابش کا اغوا کرنے کے بعد ایک چٹھی اس کے گھر میں پھینک دی تھی جس میں 30 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جرائم پیشوں نے پیسے نہیں ملنے پر تابش کا قتل کر اس کے گھر کے قریب واقع ایک مسجد کے گنبد میں پھینک دیا۔ اب اس پورے معاملے کی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امروہہ واقع کوتوالی نوگانواں سادات کے گاؤں بلنا میں گزشتہ دنوں تابش کا اغوا ہوا تھا۔ بعد ازاں بچے کے گھر والوں کو ایک چٹھی ملی تھی جس میں 30 لاکھ روپے مانگنے کے ساتھ ساتھ اغواکنندگان نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس معاملے میں پولیس سے شکایت کی گئی تو بچے کا قتل کر دیا جائے گا۔ بدھ کے روز بچے کی لاش گھر سے کچھ ہی دوری پر واقع مسجد کی چھت پر بنے گنبد سے ملی۔ لاش ملنے کے بعد پورے علاقے میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہو گئے۔بچے کی لاش ملنے کی خبر پا کر پولیس افسران بھی جائے وقوع پر پہنچے اور ڈاگ اسکواڈ کے ساتھ وہاں کا دورہ کر ضروری ثبوت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امروہہ کی پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیتی نے اس سلسلے میں بتایا کہ تمام پہلوؤں کی باریکی سے جانچ کی جا رہی ہے اور قصورواروں کا پتہ چلنے پر جلد کارروائی ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تابش کے اہل خانہ نے کچھ لوگوں پر شبہ ظاہر کیا تھا جن میں سے دو کو حراست میں لیا گیا ہے۔ قتل واقعہ میں مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع ہو گئی ہے اور جلد ہی گنہگار سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here