5 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اردو زبان کے عظیم شاعر نواب مرزا داغ دہلوی کے حوالے سے مرزا غالب نے کہا تھا کہ:”داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی!داغ اردو کو نہ صرف اپنی گود میں پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے۔“اسی داغ نے برسوں پہلے کہا تھا:
اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اردو زبان کی قدرومنزلت کو داغ جن الفاظ میں بیان کرگئے ہیں، اسے آج تک نہ کوئی جھٹلاسکا ہے اور نہ جھٹلاسکے گا۔ ہاں لیکن اس خوبصورت زبان کو دیگر زبانوں خصوصاً انگریزی کے ساتھ خلط ملط کرکے ایک نئی ’’گلابی اردو‘‘ بولنے کی کوشش ضرورکی جارہی ہے،کیونکہ اب تک ہم دورِ غلامی کی باقیات کو اپنے سینے سے اس طرح لگائے بیٹھے ہیں کہ خود کو مغربی تہذیب میں رنگ کر ہم اپنے آپ کو ترقی یافتہ سمجھنے لگے ہیں۔ ہم اپنے گھروں، دفتروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں غرض ہر جگہ انگریزی کی اس طرح اپنی زبان میں آمیزش کرتے ہیں کہ خود انگریزی بھی شرما جائے۔ افسوس کہ ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والی پیاری زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہے ہیں جو ہماری محسن ہے۔ ایک آزاد قوم جو اپنا تشخص رکھتی ہے اس کا زبان کے سلسلے میں یہ غیر مناسب رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے بظاہر آزادی تو حاصل کرلی لیکن درحقیقت ذہنی طور پر ہم غلام ہیں۔ ہماری قوم کا مجموعی طور پر رویہ یہ ہے کہ ہم قومی زبان بولنے والوں پر ان لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنی زبان بھی صحیح نہیں بول سکتے ہماری ذہنی پسماندگی کا حال یہ ہے کہ ہر اس شخص کو بڑا قابل سمجھتے ہیں جو انگریزی میں بات چیت کرتا ہے خواہ وہ غلط انگریزی ہی بول رہا ہو ہمارا یہ رویہ ہماری ترقی میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ یاد رکھئے کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ خالصتاً اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم نہیں بناتی لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ محض نظر کا دھوکہ ہیں ان سرابوں کو پانے کی جستجو میں ہم اپنی اصل منزل سے دور بھٹکتے جا رہے ہیں ہم اپنی تہذیب وتمدن روایت واقدار اور زبان کو یکسر فراموش کر رہے ہیں اور اب تو صورتحال اس نہج پر آچکی ہے کہ اچھی خاصی اردو بولتے بولتے ہم اچانک درمیان میں انگریزی کے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس انگریزی لفظ کا متبادل اردو لفظ معلوم نہیں ہوتا جو یقیناً ہمارے لیے شرم کا مقام ہے۔بلاشبہ کسی قوم کی شناخت اور کردار کا سب سے متعین عنصر اس کی زبان ہے۔جو قوم اپنی زبان کو کھو دیتی ہے ان کے لیے اپنی دیگر اقدار کی حفاظت کرنا”جوۓشیر” لانے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر ایچ فی سورلے کے مطابق ’’زبان عام طور پر لوگوں کو پہچاننے کی کلیو ہوتی ہے۔‘‘ تو جب ہم اپنی پہچان ہی رفتہ رفتہ مٹاتے جا رہے ہیں تو پھر دنیا میں ہمیں ہمارا مقام کیسے مل سکتا ہے. انگریزی زبان کا ہمیں ایسا چسکا لگ گیا ہے لاشعوری طور ہم اپنے ہی آشیانے کو نذر آتش کررہے ہیں. آئیے ایک مضمون سے حذف واضافہ کے ساتھ چند مثالیں پڑھئیے اور اپنا سر دھنئے.
ہماری پیدائش سے پہلے کی بات ہے جب انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے مثلا”: ہیڈ ماسٹر، فِیس، فیل، پاس وغیرہ “گنتی” ابھی تک “کا ؤنٹنگ” میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور “پہاڑے” ابھی “ٹیبل” نہیں کہلائے تھے۔ ہاں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھرانوں میں “خدا حافظ” کی جگہ “ٹاٹا” سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے “ٹاٹا” کہلوایا جاتا۔ زمانہ آگے بڑھاگیا مزاج تبدیل ہوتے گئے. عیسائی مشنری اسکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) اسکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کردی۔ سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) اسکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری اسکولوں میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاذ کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔ پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔ اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔ ہمیں بخوبی یاد ہے کہ پہلے اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا- اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آگئیں۔ چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا۔ پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔ امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے- ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں- اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ اسٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔قلم، دوات، سیاہی، تختی، اوراسلیٹ جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔اسلامیات اسلامک اسٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس اسٹڈی کرنے لگے۔پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔ اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔ داخلوں کے بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے اسٹوڈنٹ بن گئے۔ پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے اب پرائز ملنے لگے۔ بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔ یہ سب کچھ سرکاری اسکولوں میں بھی ہورہا ہے
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔ زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیاہے باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔ غسل خانہ پہلے باتھ روم ہواکرتاتھا اب ترقی کر کے واش روم بن گیا۔ مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔مکانوں میں پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا تو کھڑکی ونڈو، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی کمرے روم بن گئے کپڑے الماری کے بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔”ابو جان ” یا “ابا جان” جیسے پیارے اور ادب سے بھرپور الفاظ دقیانوسی لگنے لگے اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں- اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ “امی” یا امی جان “ممی” اور موم میں تبدیل ہو گیا۔ سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ “انکل اور آنٹی” میں تبدیل ہوگئے۔ بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔یعنی:
ایک ہی صف میں کھڑیہوگئیمحمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز۔
ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔گھر اور اسکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کے بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نیخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔سڑکیں روڈز بن گئیں۔کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔کرانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھارن کرلیا، نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔ ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہیں ملا کرتی تھیں، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،بابو کلرک اور چپراسی پِیّن بن گئے۔پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا- سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں اور محبت کو ‘لَوّ’ کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔ صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے یا پڑھنے لگے۔ کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔ اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے- اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔ وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں:
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کیدل سیاحساس زیاں جاتارہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔ روکیے، خدا را روکیے، ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر کوئی لائحہ عمل تیار کیجئے یاد رکھئے قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جاپان اور چین اس کی زندہ مثال ہیں.(منقول)

 *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here