5 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) بِسْمِ اللّٰہ۔۔۔۔۔۔ الخ۔اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہر بان رحمت والا ہے۔رب العالمین نے اپنی کتاب میں اپنی رحمت کی صفت بیان  مائی،اس لیے ہمیں اُس کی رحمت اور فضل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کے ذاتی نام’’اللہ‘‘ کے علاوہ ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔اِنہیں مفسرین کرام نے بیان فر مایا، ان میں سے بیشتر قر آن مجید میں موجود ہیںاگر چہ قرآن مجید میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے ناموں سے پکارا جائے۔احادیث پاک میں بکثرت نام موجود ہیں،رحمٰن،بڑی رحمت والا، رحیم، نہایت مہربان۔الملک،حقیقی بادشاہ،القدوس، نہایت مقدس اور پاک۔ السلام،جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے۔الموٗمن، امن وامان عطا کرنے والا۔العظیم، بڑی عظمت والا۔العدل، سراپا عد ل و انصاف۔الکریم،صاحبِ کرم۔المنتقم، مجرمین کو کیفرو کردار تک پہنچانے والا،بدلہ لینے والا۔ذوالجلال والا کرام،صاحبِ جلال اور بہت کرم فر مانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ اُمید رکھیں وغیرہ وغیرہ۔ھُوَالْاَوَّّلُ وَا لْآخِرُ۔۔۔الخ۔ تر جمہ: وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔(القرآن،سورہ،الحدید:57,آیت3)۔(کنزالایمان)اللہ رب العزت اپنی تمام مخلوق پر بہت زیادہ مہربان ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ اللہ کی رحمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اورنہ ہی اُس کی رحمت پر کوئی کماحقہ ٗ بول سکتا ہے نہ ہی لکھ سکتا ہے۔ قر آنِ مجید میں جگہ جگہ،الگ الگ عنوانات سے اُس کی رحمت کاذکر54، جگہوں سے زیادہ موجود ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٗ وَّ۔۔۔۔الخ۔ ترجمہ: تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ بہت رحم کر نے والا اور بڑا مہر بان ہے۔(القر آن، سورہ بقر:2،آیت163) تفاسیر میں اور احادیث طیبہ میں بہت صراحت کے ساتھ رحمتِ خداوندی کا ذکر موجود ہے۔ بہت پیاری ایک حدیث پاک مطالعہ فر مائیں، ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فر مایا: اللہ کی سو،100رحمتیں ہیں جن میں سے اس نے صرف ایک حصہ جن واِنس،چوپایوں اور حشرت الارض میں اُتارا،جن کی وجہ سے وہ باہم شفقت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں۔اسی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور ننانوے،99 رحمتوں کو اس نے رکھ چھوڑا ہے، اِن سے وہ قیامت کے روز اپنے بندوں پر رحم فر مائے گا۔(صحیح مسلم،کتاب التوبہ، باب فی سَعۃ رحمۃِ اللہ تعالیٰ انھا تعلب غضبہٗ، ج: 2، ص 356، مجلس برکات۔حدیث2752، بخاری: حدیث 5654۔)
اللہ تبارک وتعالیٰ کی بے شمار نعمتوںمیں بہت بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ اُس نے انسانوں کو پیدا فر مایا اور اُنہیں اپنی مخلوق میں اعلیٰ مخلوق کے درجے میں رکھا اور اسے عظمتوں سے سرفراز فر مایا۔ اور ان کی اصلاح وہدایت کے لیے رسالت کا سلسلہ جار ی فر مایا۔ یہ بھی رحمت کا ہی ہے، کہ ظالموں،فتنہ پروازوں وکبیرہ گناہ کر نے والوں کی فوراً پکڑ نہیں فر ماتا، بلکہ انہیں توبہ کرنے اور گناہوں سے باز آجانے کا موقع دیتا ہے۔*ظلم سب سے بڑا گناہ،اِنصاف کے بدلے ظلم:*
احادیث طیبہ میں ’’رب کی رحمتوں کو بنیادی حیثیت بتائی گئی،غضب کو بنیادی نہیںبتا یا گیا‘‘۔اتنی بے شمار نعمتیں ملنے کے بعد بھی انسان گناہوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے اور گناہوں پر نادم وشر مندہ نہیں ہے،توبہ کی جانب جلد مائل ہی نہیں ہوتا۔ ؎ کرے کوشش اگر کوئی بدل جاتی ہے عادت ٭ مگر فطرت نہیں بس میں کبھی فطرت نہیں جاتی
یہ انسان کی فطرت وہٹ دھر می اور کم نصیبی ہی تو ہے جو توبہ کو ٹا لتے رہتا ہے۔اِنسان فطرتاً ظالم واقع ہے۔تر جمہ: ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی،تو اُنہوں نے اس کے اُٹھانے سے انکا کیا اور اُس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کا بوجھ اُٹھا لیا۔حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم،بڑا نادان ہے۔(القرآن،سورہ احزاب:33آیت 72)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: امانت سے مراد نمازیں اداکرنا،زکٰوۃ دینا،رمضان کے روزے رکھنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا،سچ بولنا،ناپ تول میں اور لوگوں کی امانتوں میں عدل کر ناہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ا ما نت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا حکم دیا گیا اور جن کی ممانعت کی گئی۔ انسانوں کو ظلم سے روکنے کے لیے خدائی قانون او راُس کی پاپندیاں ہی روک سکتی ہیں۔ ملکی قانون،مذہبی قانون، خداکے خوف سے انسان ا پنے کو بالا تر سمجھنے لگے تو پھر انسان اپنے زمانے کا فرعون بن جاتاہے۔ جیسے کہ آپ آج بھی دیکھ رہے ہیں، تاریخ انسانی ظلم وستم کی داستانوں سے بھری ہوئی ہیں،کیا کیا لکھا جائے۔*رب تعالیٰ ظلم کو پسند نہیں فر ماتا:*
سارے جہاں کا پیدا فرمانے والا رب تبارک و تعا لیٰ اپنے بندوں،اپنی مخلوق پر ظلم وجبر قطعی نہیں چاہتا۔
تر جمہ: یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر حق کے ساتھ پڑ ھتے ہیں اور اللہ جہان والوں پرظلم نہیں چاہتا۔(القرآن، سورہ آل عمران،3:آیت108) ظالموں کے خلاف سخت وعیدیں قر آن مجید میں130جگہوں پر موجود ہیں۔ اسی لیے رب تبارک وتعالیٰ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی مخلوق پر کوئی ظلم کرے!۔اسی لیے وہ انسانوں کو سیدھا راستہ بھی بتا رہا ہے۔اور اس بات سے بھی آگاہ فر مارہا ہے کہ وہ ظالموں سے باز پرس کر نے والا ہے۔اب اس کے بعد بھی جو لوگوں پر ظلم کریںاور اپنے غلط طرز عمل تانا شاہی سے باز نہ آئیں وہ ربِ ذوالجلال والاکرام کی سخت پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔رسولِ مقبول ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فر مایا: کہ جو شخص کسی کی ایک بالشت بھی زمین ظلم سے چھین لے تو اُس کی گردن میں سات زمین کا طوق ڈالاجائے گا۔(صحیح بخاری،حدیث:2288-2289، باب کتا ب المظالم)
*ظالم کی پکڑ سُنت اِلٰہیہ ہے*:آج اپنے انجام سے بے خبر،بے خوف ہوکر تانا شاہ،مطلق العنان حکمراں،حکومتیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کی محنت کی کمائی ہوئی دولت،مال وجائیداد، یہاں تک کھانے کی اشیاء پر بھی ڈاکہ ڈال رہے ہیں،مظلوم اگر اپنی آواز اُٹھا رہا ہے،کراہ رہاہے تو اُسے اس کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔طرح طرح کے قوا نین بنائے جارہے ہیں،جس سے عوام میں بے چینی ہے۔ مظلوم کی داد رسی کے بجائے اُس پر مزید ظلم یہ کہ اُس پرطرح طرح کے الزامات لگا کر گودی میڈیا کے ذریعہ بد نام کیا جارہا ہے اور اُن کی آواز کو بند کرنے،سچ کو دبانے کے لیے اُن کو مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے تاکہ وہ سیدھے کھڑے نہ ہونے پائیں،جھکے ہی رہیں۔ یاد رہے رب کے صفاتی ناموں میں’’قہار‘‘ بھی ہے؟ زبردست قہر والا،سب کو مغلوب کرنے رکھنے والا،شدید عذاب نازل کرنے والا، قر آن مجید میں بہت سی آیات کریمہ شاہد ہیں۔تر جمہ: بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔(القر آن،سورہ البروج: آیت22) رب کی پکڑ میں دیری عاجز ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمت کی وجہ سے ہوتی ہے،اللہ کرے رب کی پکڑ جلد آئے آمین ثم آمین
*تحریر: محمد ہاشم قادری مصباحی، جمشید پور*

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here