4 فروری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) کسانوں کی تحریک جاری ہے،70 دنوں سے زائد ہوچکیہیں اس تحریک کوشروع ہوکر،26 جنوری کے بعد ایسالگتا تھاکہ اب یہ آندولن ختم ہوجائیگا اور حکومت طاقت کے نشے میں اسے کچل دیگی،لیکن اچانک راکیش ٹکیٹ کے آنسو نے اس تحریک میں نئی جان پیداکردی،اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہرجگہ ہجوم ہے،جم غفیرہے،عوامی سیلاب ہے،دہلی کیچار بارڈر،غازیپور،سنگھو،ٹیکری اور شاہجہاں پور میں مرکزی احتجاج چل رہاہے اور ان چاروں جگہوں میں روز بروز احتجاجی کسانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے،یہ تحریک جسطرح عوامی حمایت حاصل کررہی ہے ایسا لگتا نہیں ہے کہ بہت جلد یہ تحریک ختم ہوجائیگی،ہرشہر اور ہرجگہ کھاپ پنچایت بھی ہورہی ہیاس میں بھی لوگوں کا جم غفیر دیکھاجارہاہے،دوسری جانب اب اس تحریک کو عالمی سطح کی حمایت بھی حاصل ہونے لگی ہے،جسے دیکھکر بھارت کی سنگھی حکومت سکتے میں تو ہے لیکن وہ کسانوں کے تعلق سے تینوں بل واپس لینے کے موڈ میں اب تک دکھائی نہیں دیتی،پارلیمنٹ کااجلاس جاری ہیاوروہاں بھی گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے،ایوان بالا کی کارروائی کئی بار کئی کئی گھنٹوں کیلئے ملتوی کردی گئی،ارکانِ پارلیمنٹ کے ہنگامے کیبعد حکومت کسانوں کے تعلق سے بحث کرانے پر راضی تو ہوگئی لیکن اس مباحثے کے نتیجے میں حکومت قدم پیچھے ہٹائیگی اسکے امکانات بہت کم ہیں،کئی ارکان کو مارشل لاء کے ذریعے اجلاس سے باہر بھی کردیاگیاہے،کسان آندولن کو نئی زندگی دینے والے،کسان مورچہ کے قومی ترجمان راکیش ٹکیٹ بھی اپنے مطالبے پراٹل ہے،اور بار بار وہ اس بات کو دہرا رہیہیں کہ”بل واپسی نہیں تو گھر واپسی نہیں”مطلب یہ ہے کہ تینوں بل کی واپسی کے علاوہ اور کوئی چیز قابل قبول نہیں،یکم فروری کو جب پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیاگیا،اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے راکیش ٹکیٹ نے کہاکہ”بل واپسی نہیں تو گھرواپسی نہیں، اور کان کھول کرسن لو،یہ لٹیروں کا آخری بادشاہ ثابت ہوگا”اسطرح کا بیان راکیش ٹکیٹ مسلسل دے رہیہیں، اور اب تو انکے لہجے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے،انکا عزم وحوصلہ بھی پہلے سے زیادہ مستحکم ہوتاجارہاہے،عوامی تائید اور مقبولیت کے نتیجے میں اب یہ تحریک اپنے عروج پر ہے،ہریانہ کے جیند میں کل ٹکیٹ نے کھاپ پنچایت کے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتیہوئے کہاکہ”ابھی تو خالی بل واپسی کی بات کی ہیلیکن اگر ہم نے ستہ واپسی کی بات کردی تو پھر کیاہوگا؟”اس سبھا میں مردوں کے علاوہ ہزاروں خواتین بھی شامل تھیں جہاں لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے اسٹیج بھی ٹوٹ کر گرپڑا،اسٹیج پر موجوداکثر لیڈران کو معمولی چوٹ بھی آئی،کسی بڑے حادثے کی کوئی خبر نہیں ہے،کسان لیڈروں نے6 فروری کوپورے ملک میں چکا جام کرنے کابھی اعلان کیاہے،آنے والے اکٹوبر تک اس
احتجاج کوجاری رکھنیکا عندیہ دیتے ہوئے ٹکیٹ نے یہ بھی کہا ہیکہ”جب جب راجہ ڈرتاہے قلعے بندی کرتاہے”یہ بھی کہاکہ”گرفتار کئیگئے کسانوں کی رہائی تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی”
اب سوال یہ ہے کہ کسانوں کا بڑھتا ہوا ہجوم کیا ملک میں انقلاب لاکر رہیگا؟ کیا یہ تحریک ملک کی اقتدار پر قابض سنگھی اورفرقہ پرست حکومت کے خاتمے کاذریعہ بنیگی؟کیا اس تحریک کے ذریعے ملک کے کروڑوں لوگوں کو نجات حاصل ہوگی؟100 سے زائد کسان اب تک جان گنوا چکیہیں،اور تقریباً ڈیڑھ سولوگوں کو پولس نے 26 جنوری کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاہے،ایسے میں کسانوں کا غصہ آسمان پر ہے،جن لوگوں نے لال قلعے پر جھنڈا لہرایا اور جولوگ اصل مجرم ہیں اب تک انکی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے،لیکن سو سے زائد کسانوں کو دہلی پولس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جنکے بارے میں کسان لیڈروں کا کہناہے کہ ہمارے جتنے لوگوں کو پولس نے گرفتار کیا ہے یہ سب بیقصور ہیں،اصل مجرم آج بھی آزاد ہیں، دہلی کی سرحد غازیپور اور سنگھو بارڈر پر جس طرح بی جے پی اور آرایس ایس کے غنڈوں نے اس احتجاج کوبدنام اور ختم کرنے اور غنڈہ گردی کے جتنے حربے استعمال کئے اور جتنی کوششیں کی گئی یہ سب ناکام ہوچکی ہے،اور اب تو وہاں بیریکیڈنگ کردی گئ ہے وہ بھی ایسی جیسے سرحدوں پر کی جاتی ہے،سڑکوں کو کھودکر موٹے موٹے نوکیلے راڈ کو سمینٹ ڈال کر نصب کردیاگیا ہے،اور اسطرح قلعہ کی گھیرا بندی کی گئی ہے کہ کوئی پیدل بھی اس راستے سے نہ جاسکے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب چیزیں حکومت کو بحران سے نکلنے اور حکومتی قلعے کو مضبوط بنانے میں معاون ومددگار ثابت ہونگی؟کیا اسطرح ایک ایسی حکومت جس نے لوگوں سے مسلسل جھوٹے وعدے کئیاور سبزخواب دکھائے،7سال کے عرصے میں اس حکومت کا ایک بھی ایسا کوئی کام نہیں جسکو سراہا جاسکے، اور عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہو ایسا کوئی ایک بھی قدم نہیں جوقابل ذکر ہو،پھرایسی ناکام حکومت کیا ان چیزوں کے ذریعے اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوگی؟بھارت میں اس سے پہلے بھی انقلاب آچکاہے کہیں ایسا تو نہیں کہ کسانوں کی یہ جاریہ تحریک اسی انقلاب کی دہلیز پر ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ 1974 میں بہار حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی تھی،جسے بہار تحریک کا نام دیا گیا تھا،یہ تحریک اس وقت بہار میں ریاست کی کانگریس حکومت کے خلاف تھی، کانگریس حکومت کے وزیراعلیٰ عبدالغفور تھے،پٹنہ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کیطلبہ کی جانب سے اپنے کچھ مطالبات کو منوانے اوراسکی تکمیل کیلئے یہ تحریک شروع ہوئی تھی،اسکو مضبوط کرنے اور اسے بامقصد بنانے کیلئے پوری ریاست کے طلبہ پر مشتمل ایک تنظیم تشکیل دی گئی،اس تنظیم کا نام بہار چھاتر سنگھرش سمیتی رکھاگیا،اور اسکی صدارت کیلئے بہارکے سابق وزیر اعلی لالو یادو کو منتخب کیاگیا،اسی تحریک میں سشیل کمار مودی،رام ولاس پاسوان کیعلاوہ محمدشہاب الدین اوردیگر رہنما شامل تھے،بعد میں اسی تحریک کی قومی سطح پر توسیع کردی گئی،جسکی قیادت جئے پرکاش نارائن کو سونپی گئی،قومی سطح پر جب اسکی تشکیل کردی گئی تو اسے سمپورن کرانتی کانام دیاگیا،یہ تحریک اس قدر مضبوط اور مستحکم ہوئی کہ اس تحریک نے نہ صرف یہ کہ بہار کی حکومت کو اکھاڑ پھنکا بلکہ اس تحریک کی آندھی نے اسوقت کی سب سے قدآور رہنما اور خاتونِ آہن کہی جانیوالی اندرا گاندھی کی حکومت کو بھی دہلی سے بے دخل کردیا،اسطرح بہار سے اٹھنے والی یہ تحریک دہلی کیقلعے میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوگئی اور ملک میں انقلاب آگیا،عزم مستحکم اورجہدمسلسل کسی بھی تحریک کو انقلاب کی دہلیز پر پہونچانے میں اہم کردار اداکرتاہے،کسانوں کی جاریہ تحریک جس طریقے سے جاری ہے اگریہ اسی طرح کچھ اور مہینے تک امن وامان کے ساتھ جاری رہی تو ملک میں انقلاب ضرور آئیگا اور مودی کی ہٹلر شاہی حکومت ضرور زوال پذیر ہوگی،اسطرح کی تحریکیں نہ جانے کتنے فرعون، ہٹلر،ظالم وجابر اور بیلگام حکمرانوں کو انکی اوقات دکھاچکاہے اور تاش کے پتے کی طرح بکھیر کر رکھ دیاہے،ایسی بہت سی مثالیں تاریخ میں مل جائیں گی،جس نے ظالم ومتعصب حکومت کاغرور خاک میں ملاکر رکھ دیا،ان دنوں ملک کی جوحالت ہے ایسا آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ہواہے لوٹ کھسوٹ کا بازار جس تیزرفتاری کے ساتھ جاری ہے ایسا شاید انگریزوں کے دورمیں ہی ہواتھا، گورنمنٹ انکم کے تمام اہم ادارے بیچے جارہے ہیں،اسطرح ملک کو مکمل طور کنگال کیاجارہا ہے،عوام بے روزگار ہے،مہنگائی آسمان پرہے،مسائل کاانبار ہے لیکن حکومت ہندومسلم کرنے میں لگی ہے،ایسے میں ملک ترقی کیسے کریگا یہ بھی ایک اہم سوال ہے؟دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں انقلاب آچکاہے،دس گیارہ سال قبل “بہار عرب”کے نام سے ایک تحریک شروع ہوئی تھی،ایک آواز اٹھی جسے نہ جانے کتںے مسلم ملکوں کو اپنے آغوش میں لیلیا اور برسوں سے قابض کئی حکمرانوں کو اقتدار سے اکھاڑ پھنکا،روس و فرانس کو تو آپ جانتے ہی ہیں،جو صورتحال اس وقت ہمارے ملک کی ہے کبھی یہی صورتحال فرانس اور روس کی بھی تھی،لیکن وہاں بھی انقلاب آیا،آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ روس اور فرانس میں کیاہوا؟ اور وہاں کیسے انقلاب آیا؟ایک ایسے وقت جبکہ پورے ملک میں طوفان برپاہے،انقلاب کی ایک نئی تاریخ لکھی جارہی ہے،ایسے میں روس کے انقلاب کو ضرور یادرکھنا چاہئے،روس میں زار کی حکومت تھی،عوام میں اسکے غیض وغضب کو غصہ تھا،پرامن ریلیوں کے ساتھ احتجاج شروع ہوا،شاہی محل کے سامنے ایک پرامن مظاہرے کا اہتمام کیاگیا،مظاہرین کی تعداد دیکھ کر شاہی گارڈ اورپولس جوان خوف زدہ ہوگئے،حواس باختہ اور خوف زدہ ہوکر پولس نے فائرنگ کردی،جسکے نتیجے میں ایک ہزار افراد مارے گئے،23فروری 1917 کو خواتین کا عالمی دن تھا،دارالحکومت سینٹ پیٹرز برگ میں مرد فیکٹریوں میں اورخواتین خوراک راشن لینے گئی تھیں،کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد جواب مل گیاکہ خوراک ختم ہوچکی ہے،اب کچھ نہیں ملیگا،اسکے جواب میں عورتوں نے تاریخ ہڑتال کاآغاز کردیا،جسے تاریخ میں”فروری انقلاب”سے تعبیرکیا جاتاہے،خواتین نے ارد گرد کے فیکٹریوں کے محنت کشوں کو جمع کرنا شروع کیا،جسکے نتیجے میں تقریباً 50ہزار مزدور ہڑتال پر چلے گئے،دودن بعد تک سینٹ پیٹرز برگ کے تمام صنعتی مراکز بند ہوچکے تھے،طلبہ، سفیدپوش ورکرز اور اساتذہ تک بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئے،بالآخر زار کا سورج غروب ہوکر رہا،کبھی یہی صورتحال فرانس کی تھی،جب پانی سرسے اونچا ہوگیا تو عوام نے غصے میں ان شاہی محافظوں کو کچل دیا،جوفرانس کے بادشاہ کے حکم پر ظلم وبربریت کی کہانیاں لکھاکرتے تھے،فرانس میں اسوقت بوربون خاندان کی حکومت تھی،بادشاہ کے اپنے لوگ تھے،اپنا عدالتی نظام تھا،ہرشعبے پر حکومت کا کنٹرول تھا،عوام نے تنقید کاحق کھودیاتھا،فرانس نے تمام عدالتی منصب فروخت کردئیے تھے،وہاں کے مالدار تاجر منصبوں اورعہدوں کو خریدتے تھے،اس زمانے میں فرانس کے ججوں کی تنخواہیں کم تھی،جج بادشاہ کی زیرنگرانی کام کرتے اور فیصلے لیتے تھے،رشوت خوری کابازام گرم تھا،فرانس کی پارلیمنٹ میں صرف ایک ہی کام ہوتاتھا،یعنی بادشاہ کے ہرحکم کو قانونی اورآئینی شکل دینا،فرانس میں اسوقت بھاری ٹیکس نافذ تھے،فرانس کا بادشاہ پیرس سے 12میل دور”ورساء” کے محل میں رہتاتھا،اسکے دربار میں 18ہزار افراد موجود تھے،شاہی اصطبل میں 1900 گھوڑے تھے،جنکی دیکھ بھال کیلئے چالیس لاکھ ڈالر سالانہ خرچ ہوتے تھے،اسکے باورچی خانے کاخرچ پندرہ لاکھ تھا،فرانس بھی دیوالیہ تھا،لاکھوں مزدور بیکار تھے،فرانس کے جیل خانے معصوم اوربیقصور لوگوں سے بھرے پڑے تھے،فرانس میں بادشاہ کیخلاف پیدا ہوئی نفرت انقلاب میں تبدیل ہوگئی،14جولائی 1789 کا دن انقلاب کے اگتے سورج کادن تھا،پیرس میں دوشاہی محافظ مارے گئے،پھراسکے بعد وہاں وہ انقلاب آیا جس نے دنیا کانقشہ بدل دیا،اسطرح ملکوں میں انقلاب آیاکرتاہے،کسانوں کا یہ پرامن احتجاج کیا اسی انقلاب کیدروازے پر تو نہیں کھڑاہے؟بھارت کو اسوقت ایک نئے انقلاب کی ضرورت بھی ہے آئیے ہم اور آپ مل کر اس انقلاب کیلئے راہ ہموار کریں اور اپنا کردار اداکریں،فرانس بھی دیوالیہ تھا،بھارت بھی دیوالیہ ہے،وہاں لاکھوں مزدور بیکارتھے،یہاں پورا ہندوستان بیکار اور بیروزگار ہے،لیکن حکومت کواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،توپھرآئیے کسان تحریک کو مضبوطی فراہم کریں اور اس میں شامل ہوں۔ مظفروارثی نے شاید یہی پیغام دینے کی کوشش کی ہیکہ
علی الاعلان کیاکرتاہوں سچی باتیں
چور دروازے سے آندھی نہیں آیاکرتی

✒️سرفراز احمدقاسمی،حیدرآباد

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here