عدالت عظمیٰ نے یوگی حکومت سے کہا کہ تبدیلیٔ مذہب قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر جب الٰہ آباد ہائی کورٹ سماعت کر رہا ہے، تو پھر اسے فی الحال سپریم کورٹ میں منتقل کرنے کی ضرورت نہیں۔

25 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) الٰہ آباد ہائی کورٹ میں یوگی حکومت کے ذریعہ نافذ کردہ جبری تبدیلیٔ مذہب قانون (لو جہاد قانون) کے خلاف کئی عرضیاں داخل کی گئی ہیں، جس کی سماعت یوگی حکومت سپریم کورٹ میں کرانا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں اتر پردیش کی یوگی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہوئی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا ہے۔ یوگی حکومت کو زوردار جھٹکا دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ جب سماعت کر رہا ہے، تو پھر اسے منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب الٰہ آباد ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنا دے گی، اس کے بعد سپریم کورٹ میں معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔یہاں قابل ذکر ہے کہ آج الٰہ آباد ہائی کورٹ میں لو جہاد قانون کے خلاف سماعت ہونی تھی، لیکن یوگی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کیے جانے کے پیش نظر آج سماعت نہیں کی گئی اور 2 فروری کو آئندہ سماعت کی تاریخ طے کی گئی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ چونکہ جلد ہی سپریم کورٹ میں اس تعلق سے سماعت ہونی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آج ہائی کورٹ میں اس معاملے پر کارروائی نہ ہو۔چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس ایس شمشیری کی ڈویژنل بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں آج مذہب تبدیلی قانون کے آئینی جواز پر سوال اٹھانے والی عرضیوں پر سماعت کے لیے 2 فروری کی تاریخ مقرر کی۔ آج عدالت میں بتایا گیا کہ سبھی عرضیوں کو منتقل کر ایک ساتھ سماعت کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے اور اس کی جلد سماعت ہونی ہے، اس لیے عرضی طے ہونے تک سماعت ملتوی کی جائے۔ اس دلیل کو سننے کے بعد 2 فروری تک سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here