ایک درد بھری کیفیت کا اظہار کرنے والی شیما کا کہنا ہے کہ ‘میں یمن کی شیما ہوں اور میری عمر10 سال ہے، میں تعز میں حوثیوں کے داغے گئے گولے کے پھٹنے سے زخمی ہوئی۔

23 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) یمن میں حوثی باغیوں کے حملے میں ایک ٹانگ سے محروم ہونے والی بچی کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس کی درد ناک کہانی نے انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے ہر شخص کو رلا دیا ہے۔ یمن کی یہ بچی شیما ہے جس کی ایک ٹانگ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے میں کٹ گئی تھی۔ وہ ایک ٹانگ پر کھڑی ہے۔ اس نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن گریفیتھس کے نام اپنا پیغام ریکارڈ کرایا ہے۔ اس پیغام میں اس نے حوثی باغیوں کی دہشت گردی کا شکوہ کیا ہے۔ شیما کا کہنا ہے کہ یمن کے عوام اس کی طرح گزشتہ چھ سال سے حوثیوں کا ظلم اور ان کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ایک درد بھری کیفیت کا اظہار کرنے والی شیما کا کہنا ہے کہ ‘میں یمن کی شیما ہوں اور میری عمر10 سال ہے، میں تعز میں حوثیوں کے داغے گئے گولے کے پھٹنے سے زخمی ہوئی۔ میں یمن کے ہزاروں بچوں کے دکھوں اور ان کی تکالیف کا ثبوت ہوں’۔ دوسری جانب یمن کے زیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے شیما نامی بچی حوثی باغیوں‌ کی گولہ باری سے زخمی ہوئی تھی۔ اس کا تعلق یمن کے علاقے تعز سے ہے۔خیال رہے کہ چھ جنوری کو حوثی شدت پسندوں نے شمال مشرقی تعز میں التعزیہ ڈاریکٹوریٹ کو الگ کرنے کے لیے ایک بڑا سیکورٹی آپریشن شروع کیا اور علاقے کی مسلسل ناکہ بندی کی گئی ہے۔ اس نام نہاد آپریشن کے دوران حوثی دہشت گردوں نے نہتے شہریوں کے قتل عام، لوٹ مار کے ساتھ خواتین اور بچوں کو اغوا کرنے کا غیرانسانی طریقہ بھی اپنا رکھا ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here