مکرمی:20 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  زمانہ جیسے جیسے کروٹیں بدل رہا ھے ویسے ویسے سماج کے اندر رسمیں بھی اپنا روپ بدلتی جا رہی ھیں، شادی جسے ہمارے مذہب نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیاری سنت قرار دیا ہے زمانے کی رنگینیوں نے اس سنت مبارکہ کو بھی ایک منحوس رسم بنا کر رکھ دیا ھے، بڑا افسوس ھوتا ھے جب کسی شادی کے موقع پر غیرشرعی رسمیں نظر آتی ھیں، سب سے زیادہ تعجب خیز اور حیرت انگیز بات یہ ھے کہ ان فضول رسموں کو ادا کرکے لوگ بڑا فخر محسوس کرتے ھیں. مجھے ایک شادی میں جانے کا اتفاق ھوا، دوست کی بہن کی شادی تھی مالی حالت کوئی خاص نہیں تھی بس جیسے تیسے کرکے بہن کی شادی کا انتظام کیا گیا تھا، اور اچھا انتظام تھا، فرمائش کے مطابق تین سو باراتیوں کیلئے ٹفن کا اہتمام کیا گیا تھا وہ زمانہ ہی اچھا تھا جب لوگ ٹفن کی جگہ اپنے دیسی سامان بھونا چوڑا، دیسی انڈا اور کھیر وغیرہ سے مہمان نوازی کرتے تھے، اب یہ چیزیں شان کے خلاف سمجھی جاتی ھیں ان کی جگہ اب بکواس ٹفن نے لیلی ھے جس میں طرح طرح کے سامان ھوتے ھیں۔ ایک انڈا، دو مسٹی رس گلا، ایک کچوری، ایک سموسہ، ایک نمکین، اعلی درجے کے بسکٹ، سیب، انار، کھجور، بادام، انگور کے تینوں اقسام، دال موٹ وغیرہ، کافی مہنگے اور بہترین طریقے سے ٹفن سجائے گئے تھے کھانا بھی ماشائاللہ بہت شاندار تھا، تین سو باراتیوں کا کھانا، فرمائش کے مطابق ہی کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پلاٶ، بریانی، سادہ چاول، عام طور پر گھروں میں جو چاول کھائے جاتے ھیں وہ نہیں بلکہ عمدہ خوشبودار چاول کی فرمائش تھی۔ گوشت شوربہ دار، بھنا ھوا، مچھلی تلی ھوئی، گوشت کی ٹکیہ، چکن فرائی، اچار، سلاد۔ کھانے کے بعد منہ میٹھا کرنے کیلئے میٹھا دہی، رس گلے، ہاتھ دھونے کیلئے سوپ پیپر، ہاتھ پونچھنے کے لئے فی باراتی ایک ایک تولیہ، مہمانوں کی شان بڑھانے کیلئے ایک ایک قلم اور گلاب کے پھول۔ یہ سارے انتظام تین سو باراتیوں کیلئے کئے گئے تھے بعد نماز مغرب بارات آئی ایسا محسوس ھونے لگا جیسے گاٶں میں زلزلہ آ گیا ہو بہت بڑا طوفان آ گیاہو پٹاخوں کی گونج، ڈی جے کی دھوم، اوپر سے شراب کی بوتلیں ہاتھوں میں، شور شرابہ، جھوم برابر جھوم شرابی کی دھن پر ناچتے گاتے جوانوں کی ٹولی، کافی دیر تک دھوم مچتی رہی کھانے سے فارغ ھونے کے بعد رات کے قریب نو بج چکے تھے دونوں طرف کے مکھیا اور دیگر جانے مانے لوگ پنڈال میں کرسیوں پر بیٹھے اور رواج کے مطابق دین مہر پر باتیں ھونے لگیں یہ بھی ایک عجب ہی دستور ھے شادی کسی اور کی ھو رہی ھے دین مہر کوئی اور طے کر رہا ھے جبکہ لڑکی بالغ ھے اپنی مرضی کی وہ خود مالک ھے بہرحال باتیں ھونے لگیں، اس مجمع میں ایک طرف کونے میں میں بھی بیٹھا سب کی باتیں سن رہا تھا، میں پہلی بار ایسے معاملات میں شریک ھوا تھا۔ علاقائی رسم و رواج کے مطابق لڑکی والوں کی طرف سے ایک لاکھ سات سو چھیاسی روپئے اور ایک اشرفی کی مانگ رکھی گئی، لڑکے والے ٹال مٹول کرتے رھے، میں خاموشی سے سنتا رہا لڑکے والوں کی طرف سے پانچ علماء حضرات بھی باراتیوں میں شامل تھے، نوجوان تھے، ایک بول اٹھے ذرا شریعت کا بھی لحاظ رکھئے، یہ کیا لاکھ کی رٹ لگا رکھی ھے آپ لوگوں نے شریعت کا نام ایک مولوی کی زبان سے سنتے ہی پورے مجمع پر سناٹا چھا گیا، چہ میگوئیاں ھونے لگیں، میں نے اپنی خاموشی توڑی اور اس مولوی صاحب کو مخاطب کرکے کہا۔ حضرت گستاخی معاف! آپ عالم ھیں، نائب رسول ھیں، آپ کے سامنے میری حیثیت کچھ بھی نہیں، آپ نے شریعت کا لحاظ رکھنے کی بات کی ھے، بہت اچھی بات ھے اور رکھنا بھی چاہیئے کیونکہ ہم لوگ مسلمان ھیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ھوں کہ آپ لوگوں نے ابھی تک کہاں کہاں شریعت کا لحاظ رکھا ھے، تین سو باراتی یہ کون سی شریعت ھے، بیٹی والوں پر اتنے مہمانوں کا بوجھ یہ کون سی شریعت ھے، قسم قسم کے کھانوں کی فرمائش یہ کون سی شریعت ھے، پٹاخے پھوڑنا یہ کون سی شریعت ھے، ڈی جے یہ کون سی شریعت ھے، شراب کی بوتلیں ہاتھوں میں لیکر ناچنا گانا یہ کون سی شریعت ھے، اتنی عورتوں اور لڑکیوں کا بارات میں آنا یہ کون سی شریعت ھے، اس طرح مردوں کے جھرمٹ میں عورتوں کا بیٹھنا اور ایک ساتھ کھانا تناول کرنا یہ کون سی شریعت ھے؟ آپ لوگوں نے قدم قدم پر شریعت کی دھجیاں اڑائی ھیں، آپ جیسے باشرع صاحب علم مولویوں کے سامنے شریعت کا مذاق اڑتا رہا آپ لوگ خاموش رھے اور اب آپ لوگوں کو شریعت نظر آ رہی ھے.

محمد ہاشم اعظمی مصباحی
https://www.youtube.com/watch?v=qdTbdi6_o7M
SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here