صدر روحانی نے تہران میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد اپنے بیان میں ایجنڈے کے معاملات پر جائزات پیش کیے

13 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک میں صدارتی انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنے والے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے۔صدر روحانی نے تہران میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد اپنے بیان میں ایجنڈے کے معاملات پر جائزات پیش کیے۔ اپنے عہدِ صدارت بھر کے دوران ایران مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے والے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو ہدف بنانے والے روحانی کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ کی حد سے زیادہ دباؤ ڈالنے والی پالیسیاں اور اقتصادی دہشت گردی قطعی حزیمت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اس مؤقف کو اپنانے والے نہ صرف شکست سے دو چار ہوئے ہیں بلکہ بیک وقت ان کی سیاسی زندگی بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔‘‘ایرانی صدر نے ٹرمپ کے دور صدارت کے ذلیل و خوار ہوتے ہوئے نکتہ پذیر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مفاہمت سے محروم امریکی صدر نے بیوقوف وزیر خارجہ مائیک پینس اور انتہا پسند و جاہل قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو اپنی صف میں شامل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تنہا کرنے والی اور قمار باز ذہنیت کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ دنیا بھر میں زبردستی، نسل پرستی اور قوانین کو پاؤں تلے روندھنے کے اچھے نتائج پیدا نہ کرنے کا ایک اشارہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ تین برسوں تک ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ملکی انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی کوششوں میں مصروف رہی لیکن ہمارے عوام نے اس دہشت گردی کے خلاف صبر کا دامن نہ چھوڑا، یہ لوگ تین ماہ میں ایران کو تباہ کرنے کا ہدف رکھتے تھے لیکن کیا ہواخود ہی ختم ہو گئے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here