واشنگٹن:13 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  خاتون قیدی لیزا مونٹگمری کو بدھ کو امریکہ کے انڈیانا میں موت کی سزا سنائی گئی، جو ملک میں 67 برسوں بعد کسی خاتون کو سزائے موت سنائے جانے کا پہلا معاملہ ہے۔ نیو یارک ٹائمز اخبار کی رپورٹ کے مطابق مونٹگمری کو زہریلا انجیکشن لگا کر موت کی سزا دی گئی اور بین الاقوامی وقت کے مطابق صبح 0631 بجے اسے مردہ قرار دیا گیا۔ وہ 1953 کے بعد پہلی خاتون تھیں جنھیں سزائے موت دی گئی۔انہیں 2004 میں بوبی جواسٹینیٹ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جو اس وقت آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ اس سے قبل ایک وفاقی جج نے ان کی سزائے موت پر روک لگادی تھی جسے سپریم کورٹ نے پلٹ دیا تھا جس کے فورا بعد ہی مونٹگمری کو سزائے موت دے دی گئی۔ مونٹگمری کی سزا کے ساتھ ہی امریکہ میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد جولائی کے بعد سے 11 ہوگئی ہے، لیکن ان میں سے وہ واحد خاتون قیدی تھیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جو 17 سال کے وقفے کے بعد جولائی میں موت کی سزا کا التزام دوبارہ شروع کیا تھا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here