09 جنوری 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) نئے سال کے آنے یا جانے کا ذاتی طور پر میری زندگی پر کبھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور نا ہی میں نئے سال کے جشن جیسی چیزوں میں کبھی شامل رہا۔ یوں بھی شور شرابے کا ماحول مجھے کبھی پسند نہیں آتا اور نہ ہی زیادہ لوگوں کے ساتھ میری دوستی ہے جو ان کے ساتھ کہیں گھوموں پھروں اور جشن مناؤں۔ لیکن 2020 ایک ایسا سال ہے جو میرے جیسے سال کے بدلنے پر لاتعلق رہنے والے شخص کو بھی پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ دنیا کو خیرباد کہہ چکے سال 2020 کے دوران پھیلنے والی عالمی وبا کووڈ-19 کی وجہ سے اتنا کچھ ہوا کہ اس پر نہ جانے کتنی کتابیں، فلمیں اور ڈرامے ہمیں آنے والے برسوں میں پڑھنے دیکھنے اور سننے کو ملیں گے۔ اس سال میں جو کچھ بھی ہوا اس کا اثر کسی ایک شخص یا ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے ہر خاص و عام کو اس نے متاثر کیا۔
سال 2020 اپنی شادمانیوں اور مسرتوں سے زیادہ تلخیوں، دکھ و درد، رنج و الم کیلئے یاد کیا جاتا رہے گا۔ اس سال دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کی وبا اور اس وبا پر قابو پانے کیلئے نافذ کئے گئے احمقانہ لاک ڈاون اور طرح طرح کی پابندیوں نے پوری انسانیت کو مصیبت زدہ اور خوفزدہ کردیا ہے. محققین کا خیال ہے کہ ہماری اچھی یادیں بری یادوں کی نسبت زیادہ عرصہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں تاکہ انسانی نسل خوش رہے اور برے حالات کا مقابلہ کر سکے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اپنی اچھی یادوں کو پکڑے رکھنا اور بری یادوں سے دامن چھڑا لینا ہمیں ناخوشگوار حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہم زندگی کو ایک مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن سال2020 پشیمانی اور پریشانی کی ایسی نئی تاریخ رقم کر گیا جو بھولے بھلائے نہیں جا سکتا کیونکہ امسال کا استقبال ایسے قانون سے ہوا، جو دستور ہند کے روح کے منافی ہیں، اور وہ ہے، این آر سی، اور سی اے اے جیسا کالا قانون، شہریت کا قانون 1995 کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں اٹل بہاری واجپائی کی سرکار نے 2003 میں اس کا ایک حصہ بنایا، لیکن اس وقت NPR ترمیم کی اور نہ اسے نافذالعمل کرسکے، کیونکہ اس وقت واجپائی سرکار کی پارلیمنٹ میں تنہا اکثریت نہیں تھی، آج جب کہ بی جے پی نے بڑی اکثریت حاصل کر لی ہے تو اس نے ترمیم کرکے شہریت ترمیمی قانون 2019 بنالیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے قانونی اور غیر قانونی ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ، جین، پارسی وغیرہ کو شہریت دی جائے گی، اور اس قانون سے مسلمانوں کو مستثنیٰ رکھا گیا، یعنی کسی مسلمان کو شہریت نہیں دی جائے گی، یہ قانون نہ صرف یہ کہ دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 21 کے خلاف ہے، بلکہ دستور ہند کے روح کے بھی منافی ہے، اگر اس قانون کا نفاذ عمل میں آ گیا تو ہندوستان کا سیکولر کردار تباہ و برباد ہو جائے گا، یہ قانون صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کے لیے خطرناک ہے، چنانچہ اس کالے قانون کے روک تھام کے لیے ہزاروں جگہ احتجاجات ہوئے عظیم آندولن چلاۓ گئے، شاہین باغ میں ماؤں اور بہنوں نے تحریک چلائی، جامعہ ملیہ، جے این یو، بی ایچ یو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے طلبہ و طالبات نے، نیز سیکولر ذہن رکھنے والے سکھ، عیسائی، ہندو بھائیوں اور بہنوں نے ذات پات کی پرواہ کیے بغیر ایک سچے ہندوستانی بن کر سخت جاڑے میں بھی آندولن اور تحریک چلائی، نتیجتاً گولیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، پولیس نے لاٹھیاں برسائیں،سو کے قریب لوگوں نے دم توڑ دیا، اور ہزاروں کو جیل کی سلاخوں میں نظر بند کر دیا گیا، واضح رہے کہ این پی آر، سی اے اے، اور این آر سی کا معاملہ تاہنوز جاری و ساری ہے.
*کرونا وائرس کا حملہ*:سی اے اے، این پی آر، این آر سی، کا معاملہ ابھی چل ہی رہا تھا،کرونا نامی مہلک وائرس جو چین، امریکا، اسپین، اٹلی، برطانیہ اور دیگر ممالک کے سرحدوں کو بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے توڑتے ہوئے وطن عزیز ہندوستان پر بھی حملہ آور ہوا، جس کی وجہ سے پورے ہندوستان میں دیگر ممالک کی طرح 22 مارچ 2020 کو بھارت بند کیا گیا،اور ایک دو بعد ہی 25 مارچ 2020 کو مکمل طور پر پورے بھارت میں لاوک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، اس کرونا نے دنیا بھر کے شوروغل، اور چہل پہل کو کچھ وقت کے لئے سناٹے میں تبدیل کر دیا، عبادت گاہوں، تعلیمی مراکز، آفسز، چھوٹی بڑی نیشنل و انٹرنیشنل کمپنیاں بند ہو گئیں، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، حتی کہ عام سواریوں کو بھی بند کروادیا، مزدور طبقہ شہروں کو چھوڑ کر ہزاروں کلومیٹر پیادہ اور سائیکلوں سے اپنے اپنے گھروں کی طرف عازم سفر ہوئے، ان میں سے کچھ تو بھوکے پیاسے مر گئے، کچھ تو بیچ راستے ہی میں جان گنوا بیٹھے، اور کچھ کو تو ریل کی پٹریوں نے کچل دیا، اس لاوک ڈاؤن میں کتنے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے، کتنی عورتیں بیوہ ہو گئیں، کتنے بچے یتیم ہوگئے، اور کتنے والدین بڑھاپے کے سہارابننی والی اولاد سے محروم ہوگئے ہیں. المختصر 2020 میں چہار سو ہاہاکار، مایوسی اور مزدور طبقے کی چیخ و پکار سننے کو ملیں کچھ لوگ ان کے سہارا بنے، تو کچھ لوگ ان کی زندگیوں سے کھیلتے رہے.
*علماء کرام کی کثرت سے موت*: صحیح بخاری، کتاب العلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں سے سلب کرلیں، لیکن علماء کے اٹھنے سے علم خود اٹھ جائے گا، حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے اور وہ ان سے سوال کریں گے، تو وہ(پیشوا) بغیر علم کے فتویٰ دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے. صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ کی بے شک قیامت کی علامت میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت کی کثرت ہوگی. (بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5231) واضح رہے کہ سال 2020 میں ہی ملک اور بیرون ملک کے ایسے ایسے سینکڑوں جید اکابر علماء کرام ہمیں داغ مفارقت دے گئے جن کے پاس علم کے سمندر تھے، ظاہر ہے ان علماء کرام کی رحلت کرنے سے امت اسلام میں جو خلا پیدا ہوا ہے شاید ہی پورا ہو سکے، اس نازک صورتحال میں نوجوان علماء کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عقائد و اعمال کی حفاظت، اخلاق و عملی تربیت، تعلیمی اداروں کا قیام، تصنیفی، تقریری اور تدریسی محاذ کو سنبھال کر اپنے ان اکابر علماء کی کمی کو حتی المقدور دور کرنے کی کوشش کریں
*کسان آندولن*: 2020 کی شروعات شہریت ترمیمی بل کے خلاف آندولن اور احتجاجات سے ہوئی اور اب 2020 کا خاتمہ بھی کسان بل آندولن سے ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے کسانوں کے خلاف تین ایسے زرعی قوانین پاس کئے، جس کے ذریعے کسانوں کی رات دن کی محنت سے کمائی کی ہوئی فصلوں کو چھین کر امبانی اور اڈوانی کو دینا چاہتی ہے، جس کے روک تھام کے لیے ستمبر 2020 سے آندولن شروع ہوا تھا جو تاہنوز جاری ہے، جس میں اب تک تقریبا پچاس لوگوں کی موت ہوگئی ہے.
آئیے ان تین نئے قوانین پر ایک نظر ڈالیں جو تنازعے کا سبب بنے ہیں۔
*نئے زرعی قوانین*:
(1) دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کرسکتے ہیں۔
(2) فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔ اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔
(3) اسسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کا غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہرکر دیا گیا ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے بعد ان کی پیداوار کی کم قیمت ملے گی جس سے ان کی لاگت بھی نہیں نکلے گی۔ان کو شک ہے کہ مینیمم سپورٹ پرائس یعنی حکومت کی طرف سے ضمانت دی گئی ایم ایس پی بھی ختم ہوجائے گی۔ ممتاز ماہر معاشیات گورچرن داس نے اعتراف کیا کہ”کسان اور حکومت کا جھگڑا بہت پیچیدہ ہے”ان کے بقول اس جھگڑے کا سب سے بہترین حل نئے قوانین کا واپس لینا ہوگا۔
*آخری بات*:سال 2021 کی دہلیز پر کھڑے ہو کر جب میں سال 2020 کی طرف دیکھتا ہوں تو سلمان فریدی مصباحی کے یہ اشعار ذہن میں گونجنے لگتے ہیں:
رنج و اَلم کا سال رہا دو ہزار بیس
صَدموں کا اک نشان بنا دو ہزار بیس
اَفسُردہ آسمان، سِسَکتی ہوئ زمین
اک آتشِ وبا و بَلا، دو ہزار بیس
یادوں کا درد اوڑھ کے بیٹھے ہوئے ہیں ہم
کتنے عزیز لے کے گیا دو ہزار بیس
علمی فلک کے سیکڑوں خورشید چُھپ گیے
دے کر گیا ہے آہ و بُکا دو ہزار بیس
باطل نے اہل حق پہ بڑھائے ستم کے وار
سازش کا ایک جال رہا دو ہزار بیس

 *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here