29 دسمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی عرب کی سرزمین میں ان گنت تاریخی مقامات مملکت کی تاریخی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہی تاریخی مقامات میں مملکت کیشمال مغرب میں واقع ایک دیوار بھی شامل ہے جو جزیرۃ العرب کی سب سے پرانی، بڑی اور طویل دیوار ہے۔یہ دیوار تاریخی شہر تبوک کے لینڈ مارک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دیوار کے اطراف میں کئی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات واقع ہیں اور یہ دیوار زمانہ قدیم کی تجارتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔تبوک کی اس دیوار کو ‘دیوار تیما’ کہا جاتا ہے۔ دیوار کو یہ نام وہاں‌ پر موجود تیما شہر کی نسب سے دیا گیا ہے۔ یہ دیوار تیما کو تین اطراف مغرب، جنوب اور مشرق کی سمتوں سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ شہر کے شمال میں السبحہ کا علاقہ ہے۔ دیوار تیما بعض مقامات پر 10 میٹر بلند ہے۔سعودی فوٹو گرافر ‘عبد الالہ الفارس’ نے ہزاروں سال پرانی اس دیوار کے تاریخی اور جمالیاتی حسن کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر کے ناظرین تک منتقل کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں‌نے کہا کہ دیوار تیما کسی دور میں غیر ملکی حملہ آوروں سے دفاع کا ایک مضبوط قلعہ تصور کی جاتی تھی۔ قریبی قبائل اور دوسرے بادشاہ اس دیوار کو عبور کرنے اور تبوک پر حملہ آور ہونے کے لیے کوشش کرتے رہتے مگر یہ دیوار ان کے لیے سد راہ کا کام دیتی تھی۔ یہ دیوار 10 سے 17 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔اس کی تعمیر میں پتھر، گارے اور اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔ بعض مقامات پر اس کی اونچائی ایک میٹر اور بعض پر یہ دس میٹر تک پہنچ جاتی ہے جب کہ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر ایک اور بعض پر دومیٹر ہے۔ایک سوال کے جواب میں الفارس نے کہا کہ دیوار تیما کی تاریخ کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ یہ دیوار تین ہزار سال قبل مسیح تعمیر کی گئی۔ یہ دیوار قصر الحمرا کے گرد ایک دائرے کے شکل میں‌ بنائی گئی تھی۔ تاریخی کتب میں اس کا نام دیوار السموال اور محل کا نام الابلق بھی ملتے ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here