“علماء احناف پر امام صاحبؒ کا ایک قرض تھا گویا وہ ادا ہوگیا”

28 دسمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) تقریباً پچھلے سو سال سے علماء احناف کی جو تمنا اور کوشش تھی کہ امام ابو حنیفہ علیہ رحمۃ کی ساری احادیث کو ایک انساںٔیکلوپیڈیاںٔی انداز میں جمع کردیا جاںٔے۔ تاکہ غیر مقلدین کی طرف سے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جو قلیل الحدیث ہونے کا بہتان ہے، وہ علمی انداز میں زاںٔل ہو۔ ایک ایسا علمی کارنامہ جس کی تمنا کںٔی ایک مؤقر علماء امت اپنے دلوں میں لیکر اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔مؤلف موسوعہ نے اپنے مقدمہ میں ان علماء کرام کے نام کی تفصیل ذکر کی ہے جن میں امام مولانا عبد الحی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ الاسلام العلامہ زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا العلامہ ظفر احمد العثمانی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا مفتی مہدی حسن شاہ جہاں پوری رحمۃ اللہ علیہ، علامہ ابو الوفاء الأفغانی رحمۃ اللہ علیہ، اور مولانا العلامہ عبد الرشید النعمانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ حضرات شامل ہیں۔ اس طرح یہ کام قرض کے طور پر علمائے احناف کے ذمہ باقی رہا، یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اس عظیم کام کی تکمیل کا شرف مقیم البلد الامین ہمارے شیخ و مربی محدثِ العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مکی بہرائچی دامت برکاتہم العالیہ کے مقدر میں لکھ دیا۔ آپ محدث کبیر علامہ حبیب الرحمن الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے ہیں۔الحمد للہ حضرت محدث العصر مولانا لطیف الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی طویل جد وجہد اور حضرات مشاںٔخ کرام کی خصوصی توجہ اور دعاؤں کی برکت سے یہ عظیم کام پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔
وجہِ تالیف الموسوعة:
یہ بات مُسلَّم ہے کہ ہر ”فقیہ“ محدث، مفسر اور ادیب ہوتا ہے تو ہی وہ اجتہاد کا ملکہ حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح سیدنا امام الائمہ، سراج الامہ، رئیس الفقہاء، محدثِ کبیر، حافظِ حدیث، امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی (و:۸۰ھ- م:۱۵۰ھ) رحمہ اللہ کے اوصافِ مخصوصہ: علم و عمل، زہد و تقویٰ، ریاضت وعبادت اور فہم و فراست کی طرح، آپ کی شانِ محدثیت، حدیث دانی اور حدیث بیانی بھی، اہل ایمان میں مسلم اور ایک ناقابل انکار حقیقت ہے؛ لیکن اس کے باوجود، کچھ کم علم اور متعصب افراد نے امام صاحب پر ”قلیل الحدیث“ اور ”یتیم فی الحدیث“ وغیرہ ہونے کا الزام لگایا ہے، جو خالص حسد و عناد پر مبنی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ: ”علامہ ذہبی وغیرہ نے امام ابوحنیفہ کو حفاظ حدیث کے طبقے میں لکھا ہے اور جس نے ان کے بارے میں یہ خیال کیا ہے کہ وہ حدیث میں کم شان رکھتے تھے، تو اس کا یہ خیال یا تو تساہل پر مبنی ہے یا حسد پر”. (الخیرات الحسان، ص: ۶۰، وانجاء الوطن)
چنانچہ محدث العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مکی حفظہ اللہ کی مرتب کردہ ”الموسوعة الحدیثیة لمرویات الإمام أبی حنیفة“ کو‌ پڑھنے کے بعد الحمدللہ امام صاحبؒ کی شانِ محدثیت روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی، کہ آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ امامِ حدیث، حافظِ حدیث اور صاحبِ ”جرح و تعدیل“ ہونے کے ساتھ ساتھ، کثیر الحدیث ہونے میں بعد کے محدثین مثلاً امام بخاری و مسلم وغیرہ کے ہم پلہ ہیں؛ جس سے آپ کا علمِ حدیث میں بلند مقام ومرتبہ کا ہونا ظاہر ہے؛ نیز آپ پر حدیث کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات کا بے بنیاد ہونا بھی ان شاء اللہ ثابت ہوجائے گا۔
مختصر تفصیلات:
موسوعہ کی تکمیل کے لیے محدث العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مکی حفظہ اللہ نے دنیا بھر کے کتب خانوں کے اسفار کیے، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، روس اور انڈونیشیا وغیرہ میں موجود مکتبات پہنچ کر ان کی مخطوطات کی فہرست کو کھنگالا اور اس فن کے ماہرین سے رابطہ فرمایا۔ اور احادیث کی تمام کتابوں کی ورق گردانی کی، خواہ وہ مسانید ہوں یا سنن یاصحاح یاجوامع یا مصنفات یا مستدرکات یا معاجم یا اجزاء یا مشکلات الآثار یا کتب الزوائد یاکتب اطراف وغرائب یا کتب رجال و تاریخ یا طبقات وتراجم وغیرہ۔ غرض یہ ہے کہ قرن اول سے لیکر قرن عاشر تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی پھیلی ہوئی احادیث جو اسانید متصلۃ کے ساتھ ہوں ان کو ایک جگہ جمع کیا۔ جس کے نتیجے میں متعدد مسانید جو‌ آج تک چھپے نہیں تھے بلکہ وہ مخطوطات ہی کی شکل میں موجود تھے، ان کو حاصل کرکے ان کی تحقیق و تخریج کرکے نشر کیا۔ خاص طور پر چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(۱)مسند الإمام أبي حنيفة للحارثی
(۲) مسند الإمام أبي حنيفة لابن خسرو
(۳) مسند الإمام أبي حنيفة لابن المقرئ.
(۴) مسند الإمام أبي حنيفة للثعالبي.
(۵) مسند الإمام أبي حنيفة لابن ابی العوام.
(۶) كشف الآثار الشريفة في مناقب أبي حنيفة للحارثي.
چند کتابیں جو پہلے سے متداول تھیں ان پر ازسر نو کام کیا ہے:
۱۔ جامع المسانید للخوارزمی
۲۔ آثار الامام ابی یوسف
۳۔ آثار الامام محمد ابن حسن الشیبانی
۴۔ مسند ابی حنیفۃ لأبی نعیم الاصبھانی۔
اور کچھ ایسے رسالے جو پہلے چھپے نہیں تھے، ان کی تحقیق کرکے ان کو نشر کیا، جیسے
۱۔ الاربعین المختارۃ من الحدیث الإمام ابی حنیفۃ
۲۔ عوالی الإمام ابی حنیفۃ
۳۔ احاديث السبعة عن سبعة من الصحابة
پھر پندرہ سال کی مسلسل جدو جہد سے پورے ذخیرہ احادیث کو کھنگال کرکے ان کی ترتیب، تبویب اور تہذیب کرکے امام صاحب کی ١٠٦١٣ (دس ہزار چھ سو تیرہ) مرویات جمع کیں۔ اور ان پر تحقیقی کام کیا، اور الحمدللہ اب یہ انسایکلوپیڈیا، الموسوعة الحديثية لمرويات الإمام أبي حنيفة. کے نام سے عربی میں ۲۰ جلدوں میں شاںٔع ہوکر منظر عام پر آ گںٔی ہے جس میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مکمل دفاع، علم حدیث میں آپ کا عظیم مقام اور آپ کی مرویات پر ہوںٔے کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ حضرت کے اس علمی کارنامے کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ“علماء احناف پر امام صاحب کا ایک قرض تھا گویا وہ ادا ہوگیا”¹
کتاب کا اسلوب اور منہج:
حضرت مولانا حذیفہ وستانوی صاحب حفظہ اللہ نے اپنے رسالے میں محدث العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مکی حفظہ اللہ کے حوالے سے موسوعہ کا جو اسلوب اور منہج تحریر کیا ہے وہ پیش خدمت ہے۔“مولاناکے بیان کے مطابق کتاب کل ۲۰/ جلدوں میں ہے، جس میں طویل مقدمہ ہے جو ۳/ جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں امام اعظم رحمة اللہ علیہ کا مکمل دفاع، علم حدیث میں آپ کا عظیم مقام اور آپ کی مرویات پر ہوئے کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔بہت سی غلط فہمیاں اس بارے میں جوعلمی حلقوں میں رائج ہے اس کی نشان دہی کی گئی ہے اور اسے دور کیا ہے۔ماشاء اللہ کتاب فقہی اور حدیثی دونوں ترتیب کی رعایت کے ساتھ مرتب کی گئی ہے۔کتاب کا آغاز ”باب ماجاء فی تصحیح النیة“سے کیا ہے، جس کی پہلی روایت یہ ہے:
۱- اخبرنا أحمد بن محمد الہمداني، ثنا أحمد بن محمد بن یحیي الحازمي، حدثني حسین بن سعید اللخمي،عن أبیہ، عن زکریا بن أبي العتیک عن أبي حنیفة، عن یحیي بن سعید، عن محمد بن إبراہیم التیمي، عن علقمة بن وقاص اللیثي، عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
((الأعمال بالنیات ولکل امرئ ما نوی فمن کانت ہجرتہ إلی اللہ و رسولہ فہجرتہ إلی اللہ ورسولہ، ومن کانت ہجرتہ إلی دنیا یصیبہا أو إلی امرأة ینکحہا، فہجرتہ إلی ما ہاجر إلیہ))۔(الموسوعة الحدیثیة)
اسی کے بعد حدیث کی تخریج کی ہے، مثلاً اس پہلی حدیث پر تخریج اس طرح ہے:
(المسند للحارثی:۲۶۴)، والخبر أخرجہ ابن المبارک فی الزہد ۱۸۸، والطیالسي ۳۷، والحمیدي ۲۸، وأحمد ۱/۲۵، ۴۳، والبخاري۱/۲،۲۱،۳/۱۹۰، ۵/۷۲، ۷/۴،۸/۱۷۵،۹/۲۹، ومسلم ۶/۴۸، وأبوداوٴد ۲۲۰۱، والترمذي ۱۶۴۷، والنسائي ۱/۵۸، ۶/۱۵۸، ۷/۱۳، وابن ماجہ ۴۲۲۷، والبزار۲۵۷، وابن الجارود ۶۴، وابن خزیمة ۱۴۲، ۱۴۳، ۴۵۵، والطحاوي۳/۹۶، وابن حبان ۳۸۸، والدارقطني ۱/۵۰، والبیہقي ۱/۴۱، ۴/۲۳۵، ۶/۳۳۱، والبغوي -۱-۲۰۶ من طرق عن یحیي بن سعید عن محمد بن إبراہیم بہ۔(الموسوعة الحدیثیة)
موسوعةحدیثیہ کا آخری باب ”باب ماجاء فی صفة الجنة والحور“ اور آخری روایت یہ ہے:
حدثنا أحمد بن محمد، قال: أخبرني عبد اللہ بن بہلول قال: ہذا کتاب جدي فقرأت فیہ، قال: حدثني حفص بن عبد الرحمن التغلبي، عن مسلمة بن جعفر، قال: حدثت أبا حنیفةرحمة اللہ علیہ بحدیث فیہ ذکر الجنة فرأیت عینیہ تجریان حتی قطر دموعہ وأومی إلي، فأمسکت عن بقیة الحدیث۔(کشف الاسرار للحارثي (۴۳۲)
(الموسوعة الحدیثیة)
*کتاب میں جتنے رواة ہیں ان سب کے تراجم ہیں، جن کی تعداد ۲۳۱۴/ہیں۔*
پوری کتاب کچھ اس طرح ہے:
(۱)۳/ جلدیں مقدمہ۔
(۲) ۳/ جلدیں تراجم رواة۔
(۳) ۲/ جلدیں فہرست۔
(۴) ۱۲/ جلدوں میں احادیث۔
اس طرح کل ۲۰/ جلدوں میں کام پایہٴ تکمیل تک پہنچا۔”
بہر حال صدیوں سے جس کام کی تکمیل کا انتظار تھا، اللہ نے اس کو اپنے فضل سے پورا فرمادیا ہے۔ ان شاء اللہ یہ موسوعہ علم حدیث کے باب میں ایک شاندار اضافہ ثابت ہوگا۔ اگر یہ بات کہی جاںٔے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق کوںٔی کانفرنس ہو اور اس میں اس موسوعہ کا تذکرہ نہ ہو تو وہ کانفرنس ادھوری اور نامکمل ہوگی۔اس موسوعہ کو دارالکتب العلمیہ بیروت نے شاںٔع کیا ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔اللہ اپنے فضل سے ہمارے شیخ محدث العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مکی قاسمی حفظہ اللہ کے فیض کو جاری و ساری فرمائے اور حضرت کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کی تصانیف کو قبولیت عامہ عطا فرمائے اور ان سب کو ذخیرہ آخرت بناںٔے۔ اور حضرت کا سایہ عافیت ہم پر تادیر قائم و دائم رکھے۔
آمین۔
اس تعارفی تحریر کو اپنے علمی حلقوں میں ضرور شیر فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا۔
✍🏻: احقر محمد نعمان مکی۔
خادم و مرید محدث العصر حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب قاسمی مکی حفظہ اللہ۔
رئيس شعبة فني العمليات
مدينة الملك عبدالله الطبية, مكة المكرمة.
المستفاد:
1. علوم اسلامیہ کی تاریخ کا ایک بے مثال علمی کارنامہ،“الموسوعة الحديثة لمرويات الامام ابي حنيفة”
مؤلف: مولانا حذیفہ ابن مولانا غلام محمد صاحب وستانوی حفظہ اللہ۔
(استاد حدیث و تفسیر و معتمد جامعہ اسلامیہ اشاعتہ العلوم اکل کوا انڈیا۔)
, اليوم السبت. التاريخ الهجري, 11 / 05 / 1442. Saturday 26 December 2020

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here