27 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) شہر کے مختلف علاقوں میں موجود ان رین بسيروں میں لوگوں کے سونے کے لیے گدوں کے مہیّا کرانے کے ساتھ صاف صفائی اور رنگ رنگائی کا کام بھی مکمّل کر لیا جاتا ہے لیکن میرٹھ میں اب نومبر کے آخری ہفتے کے گزرنے کے بعد بھی اب تک نگر نگم کی ان رین بسیروں کے حالات کو درست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔حکومت رین بسیروں کے ذریعہ بیسہارا لوگوں کو رات میں سر چھپانے کا آسرا مہیا کراتی ہے لیکن سردی کے موسم (winter season) کی شروعات کے باوجود میرٹھ (meerut) میں نگر نگم کے زیر اہتمام چلنے والے کئی رین بسیرے انتظامیہ کی لاپرواہی اور بدنظمی کا شکار ہے۔ نومبر کے ماہ میں موسم سرما کی شروعات سے قبل ضرورتمند افراد اور غریب مسافروں کی سہولیت اور سر چھپانے کے لیے شہر کے رین بسیروں کے انتظامات کو درست کیا جاتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں موجود ان رین بسيروں میں لوگوں کے سونے کے لیے گدوں کے مہیّا کرانے کے ساتھ صاف صفائی اور رنگ رنگائی کا کام بھی مکمّل کر لیا جاتا ہے لیکن میرٹھ میں اب نومبر کے آخری ہفتے کے گزرنے کے بعد بھی اب تک نگر نگم کی ان رین بسیروں کے حالات کو درست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں موجود ان رین بسيروں میں لوگوں کے سونے کے لیے گدوں کے مہیّا کرانے کے ساتھ صاف صفائی اور رنگ رنگائی کا کام بھی مکمّل کر لیا جاتا ہے لیکن میرٹھ میں اب نومبر کے آخری ہفتے کے گزرنے کے بعد بھی اب تک نگر نگم کی ان رین بسیروں کے حالات کو درست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔ شہر کے زیادہ تر رین بسیرے کے دروازوں پر تالا لگا ہوا ہے اور نگر نگم کے افسران کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کی آڑ میں رین بسیرو میں انتظامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ شہر کے زیادہ تر رین بسیرے کے دروازوں پر تالا لگا ہوا ہے اور نگر نگم کے افسران کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کی آڑ میں رین بسیرو میں انتظامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میرٹھ کے لیڈی اسپتال کے اندر موجود ایک رین بسیرے کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس رین بسیرا میں تو گندگی کا انبار لگا ہوا ہے۔ فرش پر پھیلی گندگی پھٹے ہوئے بستر اور گندے بيت الخلا کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ جیسے یہاں برسوں سے کوئی صفائی نہ کی گئی ہو۔ میرٹھ کے لیڈی اسپتال کے اندر موجود ایک رین بسیرے کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس رین بسیرا میں تو گندگی کا انبار لگا ہوا ہے۔ فرش پر پھیلی گندگی پھٹے ہوئے بستر اور گندے بيت الخلا کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ جیسے یہاں برسوں سے کوئی صفائی نہ کی گئی ہو۔ اسپتال کے ملازمین بتاتے ہیں کہ نگر نگم کا کوئی بھی ملازم کبھی اس رین بسیرے کی خبر لینے نہیں آتا نہ ہی کسی ملازم کی ڈیوٹی صاف صفائی کے لیے لگائی جاتی ہے، باقی انتظامات کے بارے میں تو کیا کہا جائے۔ اسپتال کے ایک ملازم کے مطابق لیڈی اسپتال کے ملازم ہی کبھی اس کی صاف صفائی کر دیتے ہیں کبھی کوئی مریض کا تیماردار رات گزارنا چاہتا ہے تو رین بسیرے کا کمرہ کھول دیا جاتا ہے۔اسپتال کے ملازمین بتاتے ہیں کہ نگر نگم کا کوئی بھی ملازم کبھی اس رین بسیرے کی خبر لینے نہیں آتا نہ ہی کسی ملازم کی ڈیوٹی صاف صفائی کے لیے لگائی جاتی ہے، باقی انتظامات کے بارے میں تو کیا کہا جائے۔ اسپتال کے ایک ملازم کے مطابق لیڈی اسپتال کے ملازم ہی کبھی اس کی صاف صفائی کر دیتے ہیں کبھی کوئی مریض کا تیماردار رات گزارنا چاہتا ہے تو رین بسیرے کا کمرہ کھول دیا جاتا ہے۔

 نیوز18

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here