ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جہاں دلت افراد کو نائی کی دکانوں پر خدمات سے محروم کیا گیا ہے۔ اس طرح کی تفریق کو ختم کرنے کے لیے محکمہ سماجی فلاح نے دلتوں کے لیے مخصوص سیلون کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

21 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) کرناٹک حکومت کے ذریعہ دلتوں کے لیے مخصوص سیلون کھولنے کی تیاری ہو رہی ہے جس میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بال کاٹنے اور داڑھی بنانے کا انتظام ہوگا۔ دراصل کرناٹک کے کچھ اضلاع سے ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ سیلون (نائی کی دکان) میں ذات پات کی تفریق ہوئی اور دلتوں کے بال کاٹنے سے منع کر دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات کے پیش نظر ہی ریاستی حکومت نے ایسے سیلون کھولنے کا ارادہ کیا ہے جن میں دلتوں کے لیے انتظام ہو۔ہندی نیوز پورٹل ’نیوز 18‘ پر شائع ایک خبر کے مطابق ریاست کے سماجی فلاح محکمہ نے کافی وقت پہلے ان گاؤں میں جہاں ذاتیات پر مبنی تفریق کے معاملے سامنے آئے ہیں، وہاں حکومت کے ذریعہ چلنے والی نائی کی دکانیں شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن اس وقت حکومت نے اس مشورہ پر غور نہیں کیا تھا۔ لیکن حال ہی میں سامنے آئے کچھ واقعات کے بعد اب حکومت نے اس معاملے کو لے کر فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔محکمہ سماجی فلاح نے ریاست بھر میں ذات پات پر مبنی تعصب سے لڑنے کے لیے اس پیش قدمی کی سفارش کی ہے۔ حال کے دنوں میں ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جہاں دلت اور او بی سی کو نائی کی دکانوں پر خدمات سے محروم کیا گیا ہے۔ اس طرح کی سبھی تفریق کو ختم کرنے کے لیے محکمہ نے اس منصوبہ کو تیار کیا ہے۔یہ تجویز ریاست کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی صدارت میں ایس سی/ایس ٹی مظالم ایکٹ پر حالیہ تجزیاتی میٹنگ کے دوران دیئے گئے ایجنڈے کا ایک حصہ تھا۔ کرناٹک حکومت کی میٹنگ میں شامل رہے رکن اسمبلی این مہیش نے بتایا کہ یہ ایشو حکومت کا اہم ایجنڈا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اہم طور پر اتر پردیش اور سنٹرل کرناٹک کے اضلاع میں ہے۔ حکومت جلد ہی اس سلسلے میں کوئی بڑا فیصلہ لے گی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here