20 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) بنگلورو میں چند دنوں قبل پیش آئے واقعات کے بعد مسجدوں میں احتیاط کے ساتھ لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔ مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کا استعمال کہاں تک ہو، مسجد کے اندرونی حصہ اور باہر کے حصہ میں لگائے جانے والے اسپیکر کا ویلیوم کتنا ہونا چاہئے اس طرح کے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ بتاریخ 8 نومبر 2020 کو شہر کے اندرانگر کی مسجد ام الحسنین میں فیڈریشن آف مساجد بنگلورو ایسٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ویسے تو یہ اجلاس تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کے پروگرام کو تشکیل دینے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ لیکن اس اجلاس میں مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پیدا ہوئے تنازعہ پر بھی گفتگو ہوئی۔ اجلاس کے بعد معروف عالم دین مولانا شبیر احمد ندوی نے کہا کہ حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے مسجد کمیٹیوں کو محتاط رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز فجر کی اذان کے وقت لاوڈ اسپیکر کا ویلیوم کم رکھا جائے۔ تاہم باقی نمازوں کے وقت یہ ویلیوم معمول کے مطابق رہے۔ صرف فجر کی نماز کا ویلیوم کم رکھا جائے۔ مولانا شبیر احمد ندوی نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی کوتاہی ہے کہ انہوں نے اذان کی اہمیت، فضیلت اور اس کے پیغام کو برادران وطن تک نہیں پہنچایا۔ اس وجہ سے آج بعض گوشوں سے اسطرح کے اعتراضات سننے کو مل رہے ہیں۔مسجد ام الحسنین کے سیکریٹری محمد ابراہیم شفیع نے کہا کہ مسجدوں کے باہر لگائے جانے والے اسپیکر کا استعمال صرف اذان کیلئے کیا جائے۔ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود اسپیکر کا استعمال نماز، خطبات اور دیگر سرگرمیوں کیلئے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاوڈ اسپیکر پر اذان کا ویلیوم 25 ڈسیبل سے کم ہوتو بہتر ہے۔ دوسری جانب 19 نومبر 2020 کو کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کی میٹنگ میں بھی اس معاملے پر گفتگو ہوئی ہے۔ ایڈوکیٹ آصف علی شیخ کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں نماز فجر اور نماز عشاء کی اذان کے ویلیوم پر گفتگو ہوئی۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے میسور کے رکن اسمبلی اور کرناٹک وقف بورڈ کے رکن تنویر سیٹھ نے کہا کہ لاوڈ اسپیکر کا ویلیوم کتنا ہو اس سلسلے میں غور و خوض ہورہا ہے۔ عدالت کے احکامات، پلوشن کنٹرول بورڈ کی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام اور ملی تنظیموں سے تبادلہ خیال کے بعد کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے جلد ہی ایک سرکولر جاری کیا جائے گا۔ تنویر سیٹھ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ چند دنوں قبل کرناٹک محکمہ پولیس سے جاری ایک سرکولر جسے فوری طور پر واپس لیا گیا، اس کی جانچ ہونی چاہئے اور سرکولر بھیجنے والے کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ واضح رہے کہ کرناٹک محکمہ پولیس نے اپنی وضاحت میں یہ بات کہی ہے کہ ایک کلرک کی شرانگیزی سے مسجدوں سے ساؤنڈ سسٹم ہٹانے کا مکتوب روانہ ہوا تھا، پولیس کے اعلی حکام کے علم میں لائے بغیر یہ مکتوب جاری ہوا اس معاملے کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پولیس نے اپنی تحریری وضاحت میں کہا ہے کہ محکمہ پولیس نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لہذا عوام افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کرناٹک وقف بورڈ کے رکن ایڈوکیٹ آصف علی شیخ نے کہا کہ نماز فجر اور نماز عشاء کے وقت لاوڈ اسپیکر میں اذان کا ویلیوم کہاں تک ہو اس پر گفتگو جاری ہے۔ تاہم اس سلسلے میں وقف بورڈ نے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ آصف علی شیخ نے یہ بات کہی کہ اس معاملے میں ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ اذان کا مقصد بھی پورا ہو اور دوسروں کو تکلیف بھی نہ ہو۔بنگلورو کی مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال کا معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ تک بھی پہونچ چکا ہے۔ اس معاملے کے ایک ریسپا ڈنٹ (جواب دہندہ) یونس احمد شریف نے کہا کہ چند ماہ قبل بنگلورو کے تھنی سندرا علاقے کی مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال کی شکایت کے ساتھ ایک تنظیم ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھی۔ اس معاملے میں فیڈریشن آف مساجد بنگلورو نارتھ فریق کی حیثیت سے شامل ہے۔ بنگلورو پولیس کمشنر، پلوشن کنٹرول بورڈ رسپاڈنٹ کے طور پر اس کیس میں شامل ہیں۔ فیڈریشن آف مساجد بنگلورو نارتھ کے نائب صدر یونس احمد شریف نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت نے مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال کیلئے لائسنس حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے بنگلورو پولیس کمشنر سے کہا ہے کہ وہ لائسنس حاصل کرنے کیلئے رہنمائی کریں۔یونس احمد شریف نے کہا کہ اذان سے کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن لاوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال پر شکایتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اس طرح بنگلورو اور ریاست کے چند دیگر مقامات میں پیش آرہے حالات کو دیکھتے ہوئے فیڈریشن آف مساجد اور کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے مسجد کمیٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاوڈ اسپیکر کے استعمال میں احتیاط برتیں۔

 نیوز18

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here