اگر ارضِ ہند پر کسی نے تاجران فرنگ کو دن میں تارے دکھائے تو اس عظیم شخصیت کا نام ہے شیر میسور شہید ٹیپو سلطان فتح علی خاں

20 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750، مطابق جمعہ 10 ذوالحجہ، 1163ھ کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جب ٹیپو سلطان نے ہوش سنبھالا تو اس وقت انگریزوں کے ناپاک قدم تیزی سے پورے ہندوستان کی ایک کے بعد دیگر ریاستوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ نظام حیدر آباد، مرہٹہ اور آرکاٹ کی ریاست کو اپنے دام میں گرفتار کر چکے تھے، صرف ریاست خداداد ان کی راہ میں حائل تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی آنکھوں میں برابر کھٹک رہی تھی۔ سلطان حیدر علی نے 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا اور انہوں نے جلد ہی اپنی ذہانت، فراست اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں سے والد ماجد حیدر علی کا دل جیت لیا۔ ٹیپو نے انگریزوں کے خلاف دوسری جنگ جنوری 1779 میں لڑی اپنے دالد سلطان حیدر علی کی نگہداشت میں کرنل بیلی، کرنل برتیھ ویٹ سرایر کوٹ اور بریگیڈر جنرل جیمز اسٹوارٹ جیسے افسران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبو ر کردیا۔ دوران جنگ دسمبر 1783 میں حیدر علی راہی ملک عدم ہو گئے۔ ٹیپو سلطان نے 20 محرم 1196، مطابق 27 دسمبر 1782 زمام حکومت ہاتھ میں لی۔ ایک طرف ٹیپو کو زرخیر قدرتی وسائل سے مالامال ایک وسیع وعریض سلطنت اور مستحکم ومنظم ریاست کے مالک ہونے کا شرف حاصل ہوا، تو دوسری جانب ریاست کے خلاف اندر اور باہر ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو ہوا دینے والے گروہ کی عداوت بھی ورثے میں ملی۔ٹیپو سلطان کے مسند پر بیٹھتے وقت سلطنت خداداد کی چار سو میل میں پھیلی ہوئی تھی اور مجموعی رقبہ 80 ہزار مربع میل تھا۔ فوج کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار تھی، 60 ہزار گھوڑے جس میں نصف تعداد عربی گھوڑوں کی تھی، 6 ہزار اونٹ، 9سو ہاتھی، 2 لاکھ سے زائد تلواریں، 220 بڑی توپیں، 6 لاکھ مختلف قسم کی بندوقیں اس کے علاوہ دیگر ہتھیار بھی تھے۔ سالانہ آمدنی ساڑھے سات کروڑ سے زیادہ تھی۔ٹیپو سلطان ایک عظیم مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ پکے مسلمان تھے۔ وہ ساد ہ زندگی بسر کرتے اور شرعی لباس پہنتے تھے اور آخری دور میں سبز رنگ کی دستار پہنے لگے تھے۔ نماز فجر کے وقت تلاوت کرتے اور پورے دن باوضو رہتے۔ نماز کے تو اتنے پابند تھے کہ جب شری رنگاپٹنم میں مسجد اعلیٰ کے افتتاح کا موقع آیا تو سوال یہ پیدا ہوا کہ امامت کون کرے گا اس وقت اپنے عہد کے علماء کرام اور مشائخ موجود تھے، یہ طے ہوا کہ نماز کی امامت وہ شخص کرے جس کی کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو۔ کچھ دیر سکتہ طاری ہونے کے بعد سلطان آگے بڑھے اور کہا، الحمد للہ میں صاحب ترتیب ہوں اور نماز کی امامت کی۔ سلطان نباص وقت، دور اندیش اور ایک اعلیٰ ایڈمنسٹریٹر تھے۔ٹیپو سلطان نے مادر ہند کو ایسٹ انڈیا کمپنی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے کے خلاف ایک مضبوط محاذ تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ملک کی ہر چھوٹی اور بڑی ریاست جے پور، جودھپور اور نیپال وغیرہ کو اپنے ایلچی اور خطوط روانہ کیے۔ 23 جون 1785ء کو مغل شہنشاہ شاہ عالم کی خدمت میں عریضہ لکھ کر انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نظام حیدرآباد کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی۔ نظام اور مرہٹوں نے ٹیپو کی بڑھتی طاقت کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کر لیا۔ ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ٹیپو سلطان نے محسوس کر لیا تھا کہ مغربی ممالک میں انقلاب برپا ہونے کے بعد انگریزوں کے پاس جدید اسلحہ اورساز وسامان کا انبار ہے اور ان کا مقابلہ پرانے اور فرسودہ جنگی ساز وسامان سے ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے انہوں نے انتہائی دور رس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں اور جدید تکنیک سے اپنی افواج کو آراستہ کیا۔ انہوں نے راکٹ ایجاد کیا جس نے انگریزوں کا دن کا چین اور رات کا سکون چھین لیا۔ انہوں نے نہ صرف پیدل اور کولیری کے اوپر اپنی توجہ مرکوز کی بلکہ بحریہ کے بیڑے کو بھی اپنی فوج میں شامل کیا۔ بحریہ کا قیام سلطان کاایک عظیم کارنامہ تھا۔ وہ ہندوستان کے ایک ایسے حاکم تھے جنہوں نے سب سے پہلے سمندری راستوں کی اہمیت کا احساس کیا اور اس کا باضابطہ نظم قائم کیا۔ فوجی قواعد کے لئے کتاب ’فتح المجاہدین‘ ترتیب دی۔ مقناطیسی پہاڑوں سے جہازوں کو بچانے کے لئے لوہے کی جگہ تابنے کے تاروں کا استعمال سلطان کی ہی دین ہے۔ اگر چہ ٹیپو سلطان کا زیادہ وقت میدان جنگ میں گزرا اس کے باوجو د انہیں جتنا بھی وقت ملا انہوں نے ریاست کی خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود پر صرف کیا۔ انہوں نے اپنی سلطنت میں جو مختلف محکمہ جات قائم کئے تھے ان کی تعداد 99 تھی۔ٹیپو سلطان نے سلطنت کے انتظام میں رعایا کوشامل کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور ایک مجلس ’زمرہ غم نباشد‘ قائم کی جس کے پیش نظر شخصی اقتدار کے بجائے مشاورتی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔انہوں نے کاویری ندی پر ایک ڈیم بنانے کی بنیادرکھی،جہاں بعد ازیں حکومت ہند نے کرشنا راجہ ڈیم تعمیر کرایا۔ ریشم کی صنعت ٹیپو سلطان کی مرہون منت ہے۔میسور کی چمنڈا ہل پر واقع مندر پر دیوی کے چرنوں میں انسانی سر کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی،اس روایت کو ٹیپو سلطان نے موقوف کیا۔ ٹیپو سلطان سے قبل ریاست ٹرا ئو نکور میں دلت ہندوخواتین کو سینہ اورسر کھلا رکھنے کی روایت کو بند کرنے کے لیے اس کے حاکموں سے دو دو ہاتھ کیے اور اسے بند کراکر ہی ہوش لیا۔ٹیپو سلطان کے اندر مذہبی رواداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ انہوں نے فرانسیسیوں کی درخواست پر میسور میں پہلے چرچ کی تعمیر کرائی وہ لاتعداد مندروں کی کفالت بھی کرتے تھے۔ 1791 میں مرہٹہ سردار رگھوناتھ راؤ اور اس کے ساتھیوں نے سرنیگری کے مندر پر حملہ کرکے اس کو لوٹ لیا اور مندر میں موجود ہیرے جواہرات اور مال و دولت اپنے ساتھ لے گیا، ساتھ ہی کئی لوگوں کا قتل بھی کیا۔ بڑے پجاری نے ٹیپو سلطان سے فریاد کی۔ سلطان رگھوناتھ کے اس ذلیل فعل پر سخت برہم تھے۔ انہوں نے بڑے پجاری کو لکھا ’’وہ لوگ جنھوں نے ایک مقدس مقام کے خلاف یہ گندہ اور بہیمانہ اقدام کیا ہے وہ یقینا اپنے اس گناہ کا خمیازہ بہت جلد اٹھائیں گے اور مزید لکھا کہ لوگ ظلم اور غلط کام ہنستے اور مسکراتے ہوئے کرتے ہیں اور نتائج کا خمیازہ روتے ہوئے بھگتتے ہیں۔‘‘ اس کے متعلق ٹیپو سلطان اور پجاری کے درمیان ہوئی خط وکتابت کے 30 خطوط میسور کے تاریخی کتب خانہ میں موجود ہیں۔ٹیپو سلطان نے ہندوستان کو غلامی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن غدار وطن اور ناموافق حالات کی وجہ سے ان کی تمام جدوجہد رائیگاں گئی۔ انگریزوں، مرہٹوں اور نظام حیدرآباد کے گٹھ جوڑ کے ساتھ ساتھ ان کے آستین کے سانپوں ’’میر صادق، پنڈت پورنیا، میر غلام علی (لنگڑا) بدر الزماں خاں نائطہ، میر معین الدین، میر قمر الدین، میر قاسم علی پٹیل اور میر نور الدین نے شیر میسور کو شہیدکرا کر ہی دم لیا۔سلطنت خداداد کو مٹانے کے لئے انگریزوں اور مہارانی میسور لکشمّا، مرہٹوں اور نظام کے درمیان 1761 سے لے کر 1796 تک ایک نہیں بلکہ متواتر نو شازشیں ہوئیں۔ علاوہ ازیں میسور میں ہندو راج قائم کرنے کے لئے رانی لکھشما اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان مورخہ 1782 کو ایک معاہدہ بھی عمل میں آیا۔ میر صادق کی غداری میر جعفر کی طرح اس لئے منظر عام پر نہیں آ سکی کیونکہ وہ 1799 کو ہی جہنم رسید ہو گیا تھا مگر پنڈت پورنیا کی غداری ساری دنیا کے سامنے آئی۔میسور کی آخری جنگ کے دوران بغلی دشمنوں کی وساطت سے جب ٹیپو کی شکست یقینی ہو چکی تھی تو انہوں نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروا دیا لیکن غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ بارود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہو گئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو چترادرگا بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی 1799ء کو میدان جنگ میں دلیری اورشجاعت سے لوہا لیتے ہوئے شہید ہوگئے۔انگریز جنرل ہارس کو جیسے ہی ٹیپو سلطان کی شہادت کی خبر ملی، وہ ٹیپو سلطان کی نعش کو دیکھنے آیا اور فرط خوشی سے چیخ اٹھا ’آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here