پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوآن کا کہنا تھا کہ ہم تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، کورونا کے کیسز اور اموات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے

انقرہ:18 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  ترکی میں کورونا کی صورت حال تشویش ناک ہونے اور مریضوں میں تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد حکومت نے ویک اینڈز پر کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن نے منگل کے روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔کابینہ اجلاس کے بعد پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوآن کا کہنا تھا کہ ہم تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، کورونا کے کیسز اور اموات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ طیب اردوان نے کہا کہ اس ویک اینڈ سے رات 8 بجے سے صبح 10 بجے تک کرفیو کا نفاذ رہے گا۔نئی پابندیوں کے مطابق ریستران دکانیں اور شاپنگ اور ہیر سلون وغیرہ صبح 10 سے رات 8 بجے تک ہی کھولے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ کیفے اور ریستوران صرف ڈلیوری سروسز کو انجام دیں گے، جبکہ اسکولوں میں آن لائن تعلیم سال کے آخر تک جا ری رہے گی۔صدر اردوآن نے مزید کہا کہ 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں پر سابقہ کرفیو کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے اور اب اس میں 20 سال اور اس سے کم عمر کے افراد بھی شامل ہوں گے۔ اس عمر کے زمرے میں شامل افراد کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ہی گھر سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔نئی پابندیوں کے تحت حکم دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کھیل کود کی سرگرمی بغیر ناظرین کے منعقد کی جا سکتی ہے۔ صدر اردوآن نے کہا، صورتحال کنٹرول نہ ہوئی تو پابندیاں مزید سخت کی جا سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ ترکی میں کورونا متاثرین کی تعداد 4 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ اور اموات 11 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here