کفالہ سسٹم میں اس اصلاح کا فائدہ ایک کروڑ غیر ملکی مزدوروں کو ملے گا جو سعودی عرب کی کل آبادی کا ایک تہائی ہیں۔ سعودی عرب اس اصلاح کے ذریعہ سب سے باصلاحیت مزدوروں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے۔

12 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی عرب نے بیرون ملکی مزدوروں کے حق میں ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے ہندوستان کے 26 لاکھ مزدوروں کے لیے اس ملک میں کام کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی نے بدھ کو غیر ملکی مزدوروں سے متعلق لیبر ایکٹ میں اہم ترمیمات کو نافذ کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے ویژن-2030 اور نیشنل ٹرانسفورمیشن پروگرام کے تحت یہ فیصلہ یا گیا ہے۔ اس کے تحت غیر ملکی مزدوروں کو کئی نئے اختیارات ملیں گے۔سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی نے بتایا کہ لیبر ایکٹ میں ترمیم مارچ 2021 سے نافذ ہو جائے گا۔ ان اصلاحات کے نافذ ہونے کے بعد مزدوروں کو سعودی میں رہتے ہوئے اپنی ملازمت بدلنے کی آزادی ہوگی۔ سعودی عرب کا لیبر ایکٹ اب اس میں رخنہ انداز نہیں ہوگا۔ ابھی تک سعودی عرب میں کفالہ سسٹم نافذ تھا جس کے تحت مالکان کو یہ حق ملا ہوا تھا کہ وہ بیرون ملکی مزدوروں کو ملازمت نہیں بدلنے دیں گے اور ملازمین کو ملک چھوڑ کر جانا بھی ان کی مرضی پر منحصر ہوتا تھا۔سعودی عرب کے فیصلہ سے اس ملک میں کام کرنے والے تقریباً 26 لاکھ ہندوستانیوں کو فائدہ پہنچے گا اور وہ جب چاہیں ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں ملازمت کے لیے کوششیں کر سکیں گے۔ قانون میں نئی ترمیم کے بعد ملازمین کو نوکری بدلنے کے علاوہ خود سے ایگزٹ اور ری-انٹری کے ویزا کے لیے گزارش کر سکیں گے اور فائنل ایگزٹ ویزا پر بھی ان کا پورا اختیار ہوگا۔ اب ان سب کے لیے کمپنی مالک سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سبھی کو آٹومیٹک منظوری مل جائے گی۔ اس سے تمام ہندوستانیوں کو کام کرنے کے زیادہ بہترین مواقع ملیں گے۔کفالہ سسٹم میں اس اصلاح کا فائدہ ایک کروڑ غیر ملکی مزدوروں کو ملے گا جو سعودی عرب کی کل آبادی کا ایک تہائی ہیں۔ سعودی عرب اس اصلاح کے ذریعہ سب سے باصلاحیت مزدوروں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے سعودی کے بازار میں مقابلے کا ماحول بنے گا۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ مقامی لیبر مارکیٹ میں ایسا ماحول ہو جس سے کام دینے والوں کے ساتھ مزدوروں کو بھی فائدہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ سعودی کے کفالہ سسٹم کے تحت مہاجر مزدوروں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتے ہیں کہ اپنے مالک کے استحصال سے بچ سکیں، کیونکہ انھیں ملک چھوڑنے اور ملازمت بدلنے تک کا حق نہیں ہوتا ہے۔ ایسے میں بیرون ملکی مزدوروں کے ساتھ منمانی ہوتی ہے۔ ان سے زیادہ گھنٹوں تک کام کرایا جاتا ہے، حتیٰ کہ کئی جگہ مالکان تنخواہ دینے میں بھی تاخیر کرتے ہیں۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here