نومنتخب صدر کو چاہیے کہ جو انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ امید، ایمانداری اور شائستگی کو فروغ دیں گے۔ ان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ پوری دنیا میں امن، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کام کریں۔

9 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) کئی ماہ سے جن انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں وہ انتخابات بھی ہوگئے اور اس کے نتیجے بھی آگئے۔ نتیجے آنے کے بعد خوشی، غم اور غصہ کی شکل میں پوری دنیا میں لوگ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ نتیجے لوگوں کے لئے سکون اور بے چینی دونوں لے کر آئے ہیں۔ سکون اس لئے کہ چار سال سے جس شور کو سننے سے ان میں نہ امیدی اور مایوسی پیدا ہوئی تھی اس کے ختم ہونے پر سکون لازمی ہے، بے چینی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ جس حکمراں کی پالیسیوں کو لے کر انہوں نیغیر یقینی کی صورتحال میں چار سال گزارے ہیں وہ اب اپنی شکست کو کس طرح لے گا۔ دوسری وجہ یہ ہیکہ جس بڑی امید سے انہوں نے نئے صدر پر اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ کہاں تک ان کی امیدوں پر پورا اترے گا۔ جس حکمراں نے امریکہ کے ایک طبقہ کی روز اول سے تذلیل کی ہو اور کورونا جیسی اس طبی وبا کو کچھ سمجھا ہی نہ ہو، جس کے سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں اور سب سے زیادہ اموات بھی وہیں ہوئی ہیں۔ اس حکمراں نے ہم ہندوستانیوں کو بھی ذہنی طور پر پریشان کرنے سے نہیں چھوڑا، جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے اس حکمراں کے لئے امریکہ میں ہندوستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس کے لئے انتخابی تشہیر کی اور کہا کہ ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘۔ خارجہ امور کے ماہرین جانتے ہیں کہ اس ملک کے منتخب صدر یا وزیر اعظم سے ضرورت بھر سے زیادہ روابط نہیں رکھے جاتے، جس ملک میں انتخابات ہونے ہوں، لیکن ہم نے انتخابی سال میں اس حکمراں کو اپنے ملک میں مدعو کیا اور اس حکمراں نے بدلے میں ہمیں کیا دیا، اس نے امریکہ میں نوکری کر رہے یا تعلیم حاصل کر رہے ہندوستانیوں کو ویزا قوانین کا خوف دکھایا۔ ویسے تو چار سال پہلے جب اس حکمراں کا انتخاب ہوا تھا اس وقت بھی امریکہ کی اکثریت نے اس کے خلاف ہی ووٹ دیا تھا لیکن امریکی نظام میں امریکی رائے دہندگان کی صدر کے حق میں رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے۔ چار سال پرکھنے کے بعد امریکی عوام نے الیکٹورل کالج میں بھی اور پاپولر ووٹ میں بھی زبردست شکست دی۔ تبدیلی کے لئے امریکی عوام کے غصہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نو منتخب صدر سیاسی اعتبار سے کتنے ہی تجربہ کار کیوں نہ ہوں، لیکن ان کے حق میں ووٹ دینے کے لئے سوائے موجودہ حکمراں کو ہٹانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ نومنتخب صدر امریکہ کے اب تک کے سب سے زیادہ عمر والے صدر ہیں، یہ وہی امیدوار ہیں جو پہلے بھی دو مرتبہ امریکی صدارت کے لئے قسمت آزما چکے ہیں۔ یہی نہیں وہ براک اوبامہ یا ہلیری کلنٹن کی طرح اچھے مقرر بھی نہیں ہیں، لیکن پھر بھی انہوں نے امریکی انتخابات میں اب تک سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے صدر ہونے کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ اپنے آپ میں بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ نو منتخب صدر کے سامنے مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں اور ان کے لئے یہ راہ آسان نہیں ہے۔ کورونا وبا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کے ساتھ ملک کی معیشت جڑی ہوئی ہے۔ داخلی مسائل کے ساتھ جن خارجی مسائل کا سامنا امریکہ کو ہے اس پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ چار سالوں میں امریکہ نے بہت سارے دوست کھوئے ہیں۔ بہرحال یہ اتنے بڑے مسئلہ نہیں ہیں کیونکہ نومنتخب صدر کے پاس اس کی مہارت بھی ہے اور دنیا کے کئی صدور اور وزراء اعظم سے ان کے ذاتی تعلقات بھی ہیں۔ امریکی انتخابات سے ایک سبق ہمارے لئے اور پوری دنیا کے لئے بھی ہے۔ ہمارے لئے سبق یہ ہے کہ ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ ہم دوسرے ملک کے انتخابات میں مداخلت کریں اور وہاں کے شہریوں سے کسی ایک حکمراں اور پارٹی کی وکالت کریں۔ یہ وہاں کا داخلی مسئلہ ہے اور کل کوئی اگر ہمارے ملک کے داخلی مسائل میں کسی قائد کی وکالت کرتا ہے یاکسی کی مخالفت کرتا ہے تو ہمارا غصہ ہونا لازمی اور واجب ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر ہم کسی دوسرے ملک کے کسی ایک حکمراں اور پارٹی کے حق میں بیان دیتے ہیں اور وہ انتخابات میں ہار جاتا ہے تو آنے والاحکمراں روز اول سے ہمیں اپنا دشمن تصور کرے گا۔ ہماری قیادت کو ایسی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دنیا کے لئے پیغام یہ ہے کہ نفرت کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے اور محبت و پیار کی زندگی بہت لمبی اور مضبوط ہوتی ہے۔ امریکہ میں اپنے اور باہری، گورے اور کالے کی بنیاد پر سماج کو بانٹنے میں کوئی حکمراں ایک مرتبہ تو کامیاب ہو جاتا ہے لیکن نفرت زیادہ دن کی مہمان نہیں ہوتی۔ لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں ان کو روز گار اور سکون چاہیے ہوتا ہے، نفرت اور تفریق سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ دنیا کے کسی ملک کی حکومت نفرت کے سہارے نہیں چل سکتی۔ نفرت کا انجام سب کے سامنے ہے کہ عوام نفرت بیچنے والے کے مخالف کو سب سے زیادہ ووٹ دیتے ہیں اور اس نفرت بیچنے والے کی شکست پر دنیا کی ایک بڑی اکثریت جشن مناتی ہے۔ نو منتخب صدر کو چاہیے کہ جو انہوں نے جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ امید، ایمانداری اور شائستگی کو فروغ دیں گے۔ ان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ پوری دنیا میں امن، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کام کریں۔ اب محبت کی شمع سے نفرت کے اندھیرے کو مٹانیکا وقت آ گیا ہے۔

سید خرم رضا

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here