مکرمی!9 نومبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  جس طرح کبریائی صرف اللہ تعالی کو زیبا ہے اور انسان کے لیے تکبر کرنا حرام ہے، اسی طرح انسان کا اپنے عیوب و محاسن بیان کرنا خود اپنی حمد و ثنا کرنا مکروہ ہے اور نا پسندیدہ ہے،کیونکہ حمد و ثنا صرف اللہ تعالی کی شان ہے،اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ستائی سے منع فرما یا اور اسکو نا پسندیدہ قرار دیا. قرآن پاک میں ہے ترجمہ:-خود ستائی نہ کرو پرہیزگارو کو وہی زیادہ جانتا ہے.(النجم 32) تزکیہ کا یہی معنی ہے کہ عیوب اور قبائح سے منزہ کرنا یعنی عیوب سے نہ اپنی برات بیان کرو نہ اپنے محاسن بیان کرو. علامہ آلوسی اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں: یہ آیت ان مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو نیک اعمال کرتے اور پھر اپنی نمازوں اورحج کا ذکر کرتے تھے. علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جب یہود ونصاری نے اپنی تعریف کی اور یہ کہا: “نحن ابناء الله وأحياءه”، ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں اور بعض روایات میں ہیکہ یہودیوں نے کہا: ہم بچوں کی طرح گناہوں سے پاک ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ:-کیا آپ نے انکو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا دعوی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اس کو پاکیزہ بنا دیتا ہے(النساء 49)  امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ ابن عطا فرماتے ہیں: میں نے اپنی بیٹی کا نام بره (نیکو کار)رکھا،مجھ سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرما یا ہے، میرا نام پہلے برہ تھا (نیکی کرنے والی) تو میرا نام زینب رکھا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خود ستائی نہ کرو اللہ ہی خوب جانتا ہیکہ تم میں سے نیکی کرنے والا کون ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا:پھراسکا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا اسکا نام زینب رکھو. قرآن مجید کی ان آیات اور ان احادیث سے واضح ہو گیا کہ انسان کا خود اپنی تعریف کرنا اور حمد و ثنا کرنا اور اپنے کو عیوب و قبائح سے بری اور پاک دامن کہنا اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک نا پسندیدہ ہے تسبیح و تنزیہ اور حمد و ثنا صرف اللہ ہی کو زیبا ہے وہی ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع ہے. تاہم اگر کسی غرض صحیح کی وجہ سے انسان اپنی تعریف کرے تو یہ جائز ہے جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نیباغیوں کے سامنے اپنی تعریف و توصیف کی تاکہ وہ باغی بغاوت سے باز آجائیں اور ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے. امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ ابو عبد الرحمان نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کر لیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے انکو اپنی طرف متوجہ ہو کر کہا:میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ جب جبل حراء ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حراء! پر سکون ہو جا!کیونکہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور شہید ہے، باغیوں نے کہا: ہاں! آپنیفرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے لیے یہ فرمایا تھا،اس کیلیے کون مقبول خرچ مہیا کرتا ہے؟ اس وقت مسلمان سخت مشکل اور تنگ دستی میں تھے تو میں نے اس لشکر کے لیے زاد راہ کیا، باغیوں نے کہا: ہاں! پھر آپ نے کہا:میں تمہیں اللہ کی قسم دیکر یاد دلاتا ہوں کیا تمہیں علم ہے کہ چاہ رومہ (ایک کنواں)سے صرف قیمت دے کر پینے کے لیے پانی حاصل کیا جاتا تھا میں نے اس کنویں کو امیروں غریبوں اور مسافروں کے لیے وقف کر دیا، باغیوں نے کہا:ہاں! اسکے علاوہ اور بہت سی نیکیاں گنوائیں. نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں: ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے باغیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں علم ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو چاہ رومہ کے علاوہ میٹھے پانی کااور کوئی کنواں نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی ہے جو چاہ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لے وقف کر دے اور اس نیکی کے عوض جنت لیلے؟ میں نے اس کنویں کو خالص اپنے مال سے خریدہ اور آج تم مجھ کو اس کنویں کا پانی نہیں پینے دیتے،حتی کہ میں سمندر کا کھارا پانی پی رہا ہوں! باغیوں نے کہا: ہاں!آپ نے فرمایا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ مسجد نبوی میں جگہ کم تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جوفلاں شخص سے زمین خرید کر اس مسجد کو وسیع کرے؟اور اس نیکی عوض جنت لیلے؟پھر اس جگہ کو میں نے اپنے مال سے خریدہ تھا اور آج تم مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دیتے! باغیوں نے کہا:ہاں! پھرآپ نے فرمایا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے میں نے اپنے مال سے خرچ مہیا کیا تھا، انہوں نے کہا ہاں! پھر آپ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کوعلم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں جبل ثبیر پر کھڑے ہوئے اور انکے ساتھ حضرت ابو بکر،حضرت عمر تھیاور میں تھا اس وقت پہاڑ ہل نے لگا حتی کہ اس کے پتھر نیچے گرنے لگے تو آپ نے اس پر اپناپیر مارا اور فرمایا: اے ثبیر! ساکن ہو جا! تجھ پر نبی ہے صدیق ہے اور دو شہید ہیں، باغیوں نے کہا:ہاں!آپنے تین بار فرمایا: اللہ اکبر! خدا کی قسم! ان باغیوں نے میرے حق میں گواہی دیدی اور میں شہید ہوں. حضرت عثمان نے باغیوں کے سامنے اپنی حمد و ثنا اس لیے بیان کی کہ باغی، اسلام کے لیے حضرت عثمان کی خدمات اور بارگاہ رسالت میں ان کے مقام کو پہچان کر بغاوت سے باز آجائیں، تو ایسی کوئی غرض صحیح ہو مثلا: غاصبوں کے سامنے اپنا استحقاق ثابت کرنے کے لیے یا محض اللہ تعالی کے انعامات بیان کرنے لے لیے اپنی تعریف کی جائے اور اس سے اپنی بڑائی ظاہر کرنامقصود نہ ہو تو پھر اپنی تعریف کرنا جائز ہے،اور اگر حمد ثنا سے اپنی بڑائی ظاہر کرنا مقصود ہو تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں،حمد ثنا اور کبریائی صرف اللہ تعالی کا حق ہے اور اسی کو زیبا ہے.(حوالہ تبیان القرآن/جلد1/ص165تا166/)
محمد ہاشم اعظمی مصباحی  

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here