محمد اظہر الدین ازھر ندوی

26 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) جو نظامِ تعلیم صفئہ نبوی سے فروغ پایا تھا دراصل یہ مدارسِ اسلامیہ اسی نظامِ تعلیم کی ترویج و اشاعت کی ایک منظم شکل و صورت ہیں۔ بلاشبہ یہ مدارسِ اسلامیہ کی دین ہے کہ برصغیر ہند میں آج دین و ایمان کی لاج بچی ہوئی ہے۔ان مدارسِ اسلامیہ نے یقیناً ہر موقع پر قوم و ملت کی صحیح رخ پر رہنمائی کی ہے۔ایمان و یقین کی ڈوبتی نیّا کو پار لگانے کی کوشش کی ہے۔یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ مدارسِ اسلامیہ کے وجود ہی سے گلشنِ دین و مذہب میں فرحت و مسرت کی بہاریں رقص کناں ہیں۔آج اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو نہ جانے کب کا مذہبِ اسلام کا قلع قمع ہوگیا ہوتا۔یہی وہ مدارس ہیں جن کے فیض سے الحاد و دہریت کا پودا پھل پھول نہیں پاتا۔یہی وہ مدارس ہیں جنہوں نے ہر موسم میں علم و عمل کے خوش رنگ اور خوشبو ریز پھول کھلائے،سکھ دکھ کی چاہے جو بھی گھڑی ہو طالبانِ علمِ دین کے چہروں پر ان ہی مدارس کی وجہ سے ہمیشہ ہی مسرت کی بہاروں نے شادمانی کی چمک بکھیری۔انہی مدارس نے جہالت و تاریکی کی بنجر زمین کو کشت زارِ لائق بناکر زعفران زار بنائے،دین و ایمان کی لہلہاتی ہوئی ہر کھیتی کہیں نہ کہیں انہی مدارسِ دینیہ کی رہینِ منت ہے۔ مدارس اسلامیہ کی خدمات وقیع اور لائقِ قدر ہیں جن کو حیطئہ تحریر میں لانا ایک دشوار ترین امر ہے۔سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لئے بھٹکل صوبئہ کرناٹک کا ایک مردم خیز،تعلیم یافتہ اور شاداب و زرخیز شہر ہے۔مظاہرِ فطرت کی خوشنمائی اور رنگینی نے اس شہر کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔منظرِ جمیل و جمال نے اس کے حسن و رعنائی کو اعتباری شہرت و شوکت عطا کی ہے۔اس شہر میں ہمیں جابجا علمی مراکز کی خوبصورت فصیلیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں،شہرِ بھٹکل کے سارے ہی تعلیمی ادارے اپنی جگہ کامیاب و بامراد ہیں لیکن اس وقت میرا موضوعِ تحریر جامعہ اسلامیہ بھٹکل ہے۔جامعہ اسلامیہ کا سن قیام 1962 ہے۔بہت سارے ذہن ہائے فکر مند اور دل ہائے دردمند کی بے لوث کوششوں سے جامعہ کا سنگِ بنیاد پڑا۔جامعہ اپنے روزِ آغاز ہی سے اپنے اغراض و مقاصد کی ترویج و تبلیغ میں کامیاب و سربلند ہے۔بانیانِ جامعہ کے اخلاص و للٰہیت کا خوش ترین ثمر اور نتیجہ ہے کہ جامعہ اپنے آغازِ بِنا ہی سے دن بدن عروج و اوج کی منزلیں طئے کرتا جارہا ہے اور شہرت و مقبولیت اور افادیت کا یہ سفر اب بھی جاری و ساری ہے۔جامعہ کے اولوالعزم اور باہمت بانیانِ کرام نے جس اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اس ادارے کی داغ بیل ڈالی تھی اس کا پھل اور نتیجہ چند برسوں ہی میں نظر آنے لگا تھا۔ طالبانِ علومِ نبویہ جوق در جوق اور کشاں کشاں اس ادارے کا رخ کرنے لگے اور اس طرح اکتسابِ علم و ہنر سے اپنی تشنگی کی سیری کا سامان کرتے رہے۔جامعہ کے قیام و تاسیس کا عرصہ نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے اس لمبے عرصے کے دوران جامعہ کو مختلف ادوار میں مختلف مہتممین ومنتظمین کی رہبری وسرپرستی حاصل رہی ہے۔جامعہ کے ہر ایک مہتمم و بانی علم و عمل،اخلاص و للٰہیت کی دولت سے سرشار و آباد تھے اسی لئے ہر ایک کے دور میں جامعہ نے تعلیمی،ثقافتی، تہذیبی اور تعمیری اعتبار سے خوب خوب ترقی و سرفرازی حاصل کی۔ جامعہ کی یہ بھی بڑی خوش بختی اور سعادت مندی ہے کہ ہر دور میں جامعہ کے اندر ذی لیاقت،باصلاحیت اور متحرک اساتذہ کرام کا عملہ موجود رہا ہے جن کا نام ہی ان کے علمِ تمام پر حجتِ تام ہوا کرتا تھااور تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔جامعہ کی مجلسِ شوریٰ نے ہمیشہ ہی جواں عزم، خوش لیاقت اور باصلاحیت افرادِ کار کی تلاش و جستجو کر کے اور انہیں جامعہ کے لئے منتخب کر کے جامعہ کے تعلیمی نظام کو دوبالا اور ہمدوشِ ثریا کیا یہی وجہ ہے کہ از آغازِ جامعہ تا حال کبھی بھی جامعہ کا تعلیمی معیار انحطاط و سقوط کا شکار نہیں ہوا۔جامعہ تعمیری اعتبار سے بھی شاد و مسرور ہے۔احاطئہ جامعہ میں جس طرف بھی نظر ڈالئے ایک سے ایک دیدہ زیب،خوشنما اور سحر افزا عمارتیں دیکھنے کو مل جائیں گی پھول، پتی، پھولوں کی کیاریاں اور باغ و باغیچہ کا التزام،ہر طرف ہنستی مسکراتی کلیاں،شوخ و سرخ طرح طرح کے پھول، ناریل کے درختوں کی شاخوں سے مس کر کے رقص کرتی ہوئی ٹھنڈی ٹھنڈی مشکبار ہوائیں اور شاندار فضائیں کسی باغِ ارم کا کیف زا احساس کراتی ہیں۔ عمارتوں کی تنظیم و تہذیب سے ذوقِ عمدہ کی نفاست اور سلیقے کا پتہ چلتا ہے۔ہر چیز سے صفائی اور ستھرائی کا نور ٹپکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔درونِ فصیلِ جامعہ طلبہ کی چھٹی کے اوقات میں کھیلنے کودنے اور ورزش کے لئے ایک وسیع و عریض میدان بھی ہے جس میں طلبہ اپنے ذوق و شوق کے مطابق اپنے فارغ اوقات میں کھیل کود کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح جامعہ میں دیگر مدرسوں اور جامعات کی بنسبت طعام و قیام کا انتظام و انصرام بھی لائقِ تعریف و تحسین ہے۔ مقامی طلبہ کی کثرت اور یومیہ ان کی آمد و رفت بھی جامعہ کو دیگر مدرسوں سے ممتاز بناتا ہے۔طلبہ کی آمد و رفت کا منظر بھی کافی دلکش و دلربا ہوتا ہے جب یہ اپنی اپنی سائیکلوں اور موٹر گاڑیوں سے قطار در قطار آتے جاتے ہیں تو سفید لباس میں فرشتہ صفت انسانوں کی چلت پھرت کا گمان ہوتا ہے۔بلاشبہ یہ نظارہ آنکھوں کو ٹھنڈک اور مزید روشنی عطا کرتا ہے الغرض جامعہ کے ذمہ داروں نے طلبہ کی ہر طرح کی سہولت و آسائش، کا خیال رکھا ہے۔اس رکھ رکھاؤ اور دیکھ ریکھ سے طلبئہ جامعہ کسی طرح کے احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔ جامعہ اپنی غایتِ بنیاد پر ہر دور اور ہر عہد میں کھرا اترا ہے اور بانیانِ کرام کے اخلاص و خلوص کا یہ پودا آج بھی برگ و بار لارہا ہے اور ایک چھتنارا درخت بن کر زندگی کی کڑی دھوپ میں مسافرینِ علم و ادب کو سایہ فراہم کررہا ہے۔قوم و ملت بہردم اس سے مستفید و مستفیض ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی۔جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا طریقئہ تعلیم تو عمومی ہی ہے نظام و نصاب میں دارالعلوم ندوةالعلماء کو اپنا قدوہ اور آئیڈیل مانتا ہے۔ لیکن فقہی احکام میں اس کا منہج فقہ شافعی ہے بلکہ پوری ریاست کرناٹک میں مسلکِ شافعی کا سب سے بڑا ادارہ ہے گو کہ حنفی مسلک کے طلبہ بھی زیر تعلیم رہتے ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں اس کے باوجود حنفی فقہ کی تدریس کا بھی اہتمام ہے۔یہ جامعہ کی وسیع المشربی اور بلند ظرفی کی علامت ہے۔ اس بلندی اور کمال تک رسائی کے لئے حالات کے تقاضوں اور وقت کی ضرورتوں کے ساتھ بھی اکثر و بیشتر سمجھوتہ کرنا پڑا ہے تب کہیں جا کر عروج و اوج کا خواب شرمندئہ تعبیر ہونے پایا ہے۔بہت ساری زمانی و مکانی صعوبتوں اور کٹھنائیوں کے بعد ہی یہ جامعہ ایک شجرِ سایہ دار کی حیثیت سے معروف و مشتہر ہوپایا ہے لیکن اپنوں کی ستم ظریفی اور غیروں کی بے وفائی نے بھی خوب گل کھلائے ہیں۔ بد اعتقادی و بدعہدی کی مسموم فضا کسی اژدہے کی طرح منہ کھولے ہوئے جامعہ کی خوشگوار صبح، پرکیف شام اور پر سکون ماحول کو نگل لینے کے درپے ہیاور عملی چھینٹا کشی کا یہ سلسلہ ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔بد مزگی اور بے اطمینانی کے دور کو پتہ نہیں قرار آئے گا یا بھی نہیں خدا ہی کو معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی کہ ہر دور میں ایسے ناعاقبت شناس افراد موجود رہے ہیں ہیں جو دین و مذہب کی چیزوں کو بھی اپنی ضد، انا،اور ہٹ دھرمی کا آلہ کار بنا لیتے ہیں،نفسِ امارہ کی غلامی کے اسیر ہو کر خود کا بھی نقصان کرتے ہیں اور قوم و ملت کو بھی گزند پہنچاتے ہیں اس سے بھی آگے وہ اپنی دانست میں اس عمل شنیع کو نیک اور صالح گرداننے لگتے ہیں۔(ویحسبون انھم یحسنون صنعا) پتہ نہیں کہ اس طرح کے اعمال و افعال سے فکرِ لغو رکھنے والوں کے کس جذبے کی تسکین ہوتی ہے۔  یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جامعہ سے شہرِ بھٹکل اور اطرافِ بھٹکل کی علمی،عملی،دینی،سماجی، ملّی،فلاحی اور عوامی ضرورت بحمد اللہ برسوں سے پوری ہوتی آرہی ہے اور ان شائاللہ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔لیکن کہنا پڑتا ہے کہ جب ذہن و دل کے آنگن میں بدگمانی و بد فکری کے غبار پڑنے لگتے ہیں تو انسان کے اچھے اور سیدھے سادے کام میں بھی نقص و معائب کے کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یقیناً اس طرح کی لغو خیالی سے برسوں کی محنت و عزیمت پر پانی پھرتا ہوا نظر آتا ہے۔رشک و غبطہ اچھی اور مستحسن چیز ہے، شریعت نے اس سے متاثر ہو کر کام کرنے اجازت بھی دی ہے لیکن محض ذاتی عناد و مخاصمت کی بنیاد پر شیشہ کو شیشہ دکھانا نہ یہ کہ صرف بچکانہ حرکت ہے بلکہ لائقِ مذمت و شناعت بھی ہے۔ہر ادارہ ارادئہ خیر کے بل بوتے پر پھولتا اور پھلتا ہے نہ کہ وقتی جوش و ہنگامہ کی بنیاد پر۔کام ضرور ہو لیکن شاد کامی اور نیک دلی کے ساتھ ہو۔اپنے دامن کو بچانے کے لئے کسی اور کے دامن کو داغدار اور تار تار کرنے کوشش نہ ہو۔قلب و دماغ کی طہارت و پاکیزگی اور نیت کی صفائی کے ساتھ کیا گیا ہر اقدام دور رس، دیرپا اور مفیدِ قوم و ملت ہوا کرتا ہے جبکہ غیر تعمیری اور منفی فکر و خیال کا زائیدہ ہر کام چاہے بڑا سے بڑا ہو سوائے نقصان و خسران،ذلت و نکبت، رسوائی اور پستی کے انسان کو کچھ نہیں دیتا۔
کاش یہ تحریر خوابیدہ ضمیر اور دلِ خفتہ کو جگانے کے کام آجائے”شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات”
قوم و ملت کے دینی اور علمی طبقے پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ منتشر ستاروں کی طرح بکھر کر روشنی دینے کے بجائے اجتماعیت کی ضرورت و افادیت کو اپنے پیشِ نظر رکھیں،کہکشاں تبھی کہکشاں کہلایا ہے کہ جب ستارے حلقوں میں رہے ہیں۔بکھراؤ زوال کی نشانی ہے۔قوم و ملت خارجی حملوں سے کیا کم پریشان تھی کہ اپنے ہی اپنوں کی راہ کے کانٹے بننے پر تلے ہوئے ہیں۔ صفوں میں بٹ کر رہ جانا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ہوشمندی تو مل جل کر کام کرنے میں ہے۔اجتماعیت و یکجائی ترقی و فلاح کے راستے کھولتی ہے جب کہ بکھراؤ،افتراق و انتشار تاریکی و گمراہی کے خلفشار سے ہمکنار کراتا ہے۔
بات کہاں سے کہاں پہنچی،بہر کیف جامعہ اسلامیہ علم و عمل کا آفتاب اور فکر و نظر کا ماہتاب ہے۔اس مرکزِ علمی کو ثریٰ سے ثریا تک پہنچانے میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح،محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئی رح اور حضرت مولانا رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کی شبانہ روز دعاؤں، توجہات،نگاہِ بصیرت اور بصارت افزا ایماء…….. ڈاکٹر علی ملپا صاحب کا اخلاصِ بیش بہا،جذبئہ للٰہیت،اور قوم پروری……. جناب منیری صاحب کی فکرمندی اور قوم و ملت کے لئے جگر کاوی اور عزم خیزی…… جناب سعدا جفری و جناب ابوبکر صاحب کی انتھک محنت، سعیِ پیہم اور بے لوث آرزو……. مولانا عبد الحمید رح کی مغز بیداری دل سوزی اور عالی ظرفی کا بڑا عمل دخل ہے۔بلا لومتِ لائم کہا جا سکتا ہے کہ اس ادارے کی اپنی الگ شناخت اور منفرد پہچان ہے اس کے فارغین نے دلوں پر انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں۔ جامعہ کے فیض یافتگان نے ہر موقع پر ہر طرح سے قوم و ملت کی خبر گیری اور رہنمائی کو اپنا اولین فریضہ تصور کیا ہے۔اللہ ان کی مساعئ حسنہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ چراغِ علم تیز و تند طوفانِ بلا میں جلتا رہے اور کاروانِ خیر تا روز ابد بشانِ تمکنت چلتا رہے
آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here