جرمن ہسپتال میں بزرگ مریضوں کی نرسنگ کے لیے زیر تربیت ایک نوجوان کو عدالت نے ایک ہزار یورو جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ اس نوجوان ملزم نے ایک عمر رسیدہ مریضہ کی ایک ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی تھی۔

21 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) یہ واقعہ جرمن شہر ڈسلڈورف کے ایک ہسپتال میں پیش آیا اور 20 سالہ زیر تربیت نوجوان نے جس بزرگ خاتون کا مختصر ویڈیو کلپ بنایا، وہ بیماری کی حالت میں اپنے کمرے میں بستر سے باتھ روم کی طرف جا رہی تھی اور مریضوں کا گاؤن پہنے ہونے کی وجہ سے اس خاتون کی کمر کا ایک حصہ نظر آ رہا تھا۔اس نوجوان نے یہ ویڈیو کلپ اپنے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی وال پر پوسٹ کر دیا تھا۔ اس طرح ملزم کی اس حرکت کا علم ہونے پر اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ اس مقدمے میں ڈسلڈورف شہر کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم کو ایک ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی۔ ‘ناقابل معافی جرم‘ عدالت کی سربراہی کرنے والی خاتون جج پیٹرا سانگیرل نے اپنے فیصلے میں کہا، ”جو کچھ آپ نے کیا، وہ ایک بالغ انسان کے زاویہ نگاہ سے قطعی ناقابل معافی ہے۔ آپ ایک دوسرے انسان کے لیے، جو ایک بزرگ مریضہ تھی، اس لیے شرمندگی کا باعث بنے کہ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگ آپ کی اس حرکت کو مضحکہ خیز سمجھتے ہوئے اس ویڈیو کو دیکھ کر ہنسیں۔‘‘عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ نوجوان ملزم اپنی اس حرکت کے ذریعے متعلقہ خاتون کے اس کی ذات سے متعلق انتہائی نجی حقوق کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا۔ اسی لیے عدالتی فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ ملزم کو ایک ہزار یورو کا جرمانہ دو ماہ کے اندر اندر ‘ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز‘ نامی بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کرانا ہو گا۔ ہسپتال میں داخلے پر عمر بھر کے لیے پابندی  ملزم نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ اپنی غلطی پر انتہائی شرمندہ ہے اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس نوجوان نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، عدالت کو بتایا، ”تب میرا خیال تھا کہ میں اپنے کام اور پیشہ وارانہ تربیت سے متعلق ایک چھوٹی سی ویڈیو بنا رہا تھا، جو شاید ایک بے ضرر سا کام تھا۔ لیکن یہ سوچنا ہی میری بہت بڑی غلطی تھا۔‘‘جس ہسپتال میں یہ واقعہ پیش آیا، اس کی انتظامیہ نے اس افسوس ناک واقعے کے منظر عام پر آتے ہی اس نوجوان کے اس ہسپتال کی حدود میں داخلے پر عمر بھر کے لیے پابندی لگا دی تھی۔اس واقعے کے بعد لیکن عدالتی کارروئی شروع ہونے سے قبل اپنے کیے پر شرمندہ اس نوجوان نے متاثرہ مریضہ کے نام ایک خط لکھ کر اپنے کیے کی غیر مشروط معافی بھی مانگ لی تھی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here