عراقی دارالحکومت بغداد میں آج ہفتے کی صبح اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھی گئی جب شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے متعدد حامیوں اور ہمنوا افراد نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر کو آگ لگا دی۔

17 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) مذکورہ پارٹی کے رہ نما ہوشیار زیباری کے ایک بیان پر رد عمل کا اظہار کرنے کے لیے درجنوں افراد بغداد کے وسط میں واقع کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ذیلی دفتر کی جانب نکل پڑے۔ یہ افراد زیباری کے حالیہ بیان کی مذمت میں نعرے لگا رہے تھے جب کہ احتجاجیوں نے پارٹی کے دفتر کا فرنیچر توڑ پھوڑ دیا اور وہاں آگ لگا دی۔ادھر مقامی میڈیا کے مطابق الحشد الشعبی ملیشیا کے مقرب عناصر سماجی ذرائع ابلاغ پر ایسی وڈیو ریکارڈنگز کو گردش میں لائے ہیں جن میں بسوں میں سوار سیاہ لباس پہنے افراد کو بغداد کے علاقے الکرادہ میں کرد پارٹی کے دفتر کے نزدیک اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں ان افراد نے علاقے میں اسٹریٹ 42 کو بند کر دیا اور الحشد الشعبی کی حمایت اور ہوشیار زیباری کے بیان کی مذمت میں پر زور نعرے بازی کی۔یاد رہے کہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نما اور سابق عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں مطالبہ کیا تھا کہ بغداد میں گرین زون کے حساس ترین علاقے کو الحشد الشعبی ملیشیا کے گروپوں سے پاک کیا جائے۔ اس بیان نے الحشد الشعبی ملیشیا کو چراغ پا کر دیا۔ یہاں تک کہ بدھ کے روز پارلیمنٹ کے اندر الحشد الشعبی کے حامی ارکان اور کرد ارکان کے درمیان جھگڑا بھی دیکھنے میں آیا۔متعدد ارکان پارلیمنٹ نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ معذرت پیش کرے۔یاد رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے کئی حملوں میں سفارتی مشنوں اور بین الاقوامی اتحاد کے زیر انتظام ایسے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجی موجود ہوتے ہیں۔یہ راکٹ حملے رواں سال اگست میں عراقی وزیر اعظم مصطفى الكاظمی کے امریکا کے دورے کے بعد تشویش ناک حد تک بڑھ گئے۔ دورے کا مقصد امریکی انتظامیہ کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔ان حملوں نے بالخصوص جن میں بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا تھا،،، مصطفی الکاظمی کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا۔ عراقی وزیر اعظم کی انتظامیہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاست کے کنٹرول سے باہر مسلح جماعتوں کو قابو کرے گی۔واشنگٹن کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام مسلح جماعتوں اور گروپوں کو مذکورہ حملوں کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here