16 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) خالق کائنات پروردگار عالم کی یہ شان کریمانہ ہے کہ ﮨﺮﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﻔﻮﺱ ﻗﺪﺳﯿﮧ ﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﺑﺨﺸﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺣﮑﺎﻡِ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦِ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺳﺒﺎن ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻋﻈﻤﺖ تاریخ ساز ﺷﺨﺼﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ فاروقی ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﺭحمۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔
*نام ونسب*: آپ کا نام شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی ہے لقب بدرالدین اور کنیت ابو البرکات ہے۔ محبوب صمدانی، شہباز لا مکانی،عارف حقانی،مجدد الف ثانی، امام ربانی اور خزانۂِ رحمت جیسے القاب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ نسبی سلسلہ 28 واسطوں سے فاتح اعظم، امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے اسی مناسبت سے آپ فاروقی کہلاۓ(جہان امام ربانی،اقلیم اول،ص 328)
*تعلیم وتربيت*:حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کیا اور حفظ قرآن اکثر درسی کتب بھی اپنے والدگرامی ہی سے پڑھی۔تصوف کی بعض اہم کتابیں مثلاً ’’تعرف‘‘ ’’عوارف المعارف‘‘اور فصوص الحکم‘‘ وغیرہ بھی سبقاً سبقاًاپنے والد سے پڑھی۔معقولات کی چند کتابیں آپ نے شیخ ملا کمال الدین بن موسیٰ حنفی کشمیری سے پڑھا علم حدیث کی سند شیخ یعقوب کشمیری اور قاضی بہلول بد خشی سے حاصل کی۔سترہ برس کی عمر میں تحصیل علوم دینیہ سے فارغ التحصیل ہو گئے۔دوران تعلیم ہی آپ نے تصور نبوت پر ایک رسالہ ’’الرسالہ فی اثبات النبوۃ‘‘ بھی تالیف فرمایا
*بیعت وخلافت*: سب سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت کی اور بعد میں طریقہ قادریہ بھی والد ماجد ہی سے اخذ کیا البتہ اس سلسلے کا خرقہ خلافت شاہ سکندر کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔1007ھ میں آپ کے والد محترم شیخ عبد الاحد فاروقی داغ مفارقت دے گئے۔طریقہ نقشبندیہ کی لگن حضرت مجدد کے دل میں پرانی تھی۔ خواجہ باقی با اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر سنا تو بے تاب ہو کرسرہندضلع فتح گڑھ پنجاب سے دارالسلطنت دلّی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت خواجہ باقی با للہ رحمۃ اللہ علیہ پہلے ہی سے اس گوہر نایاب کے منتظر تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں فریفتہ ہوگئے اور داخل سلسلہ فرمالیا اور اجازت کے ساتھ خرقہ خلافت عطا فرمایا۔پھر حضرت مجد د الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اجازت پاکر واپس سرہند تشریف لے آئے اس پہلی حاضری کے بعد مزید دو بار آپ سر ہند سے دہلی،بارگاہِ مرشد برحق میں حاضری سے شرف یاب ہوئے۔ آخری ملاقات میں حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے آگے بڑھ کر اپنے با کمال مرید کا استقبال کیا اور متعدد بشارتیں مرحمت فرمائیں۔رخصت کرتے وقت مرشد نے فرمایا ’’اب ضعف غالب آتا جا رہا ہے‘‘زندگی کا وقفہ اب بہت کم معلوم ہوتا ہے۔ میرے دونوں لڑکے خواجہ عبید اللہ اور خواجہ عبد اللہ آپ کے سپرد ہیں ان کی تربیت روحانی آپ کے ذمہ ہے۔
*انقلابی واصلاحی کارنامے*:ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﺎﺯﮎ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﺍﺋﮯ ﺣﻖ ﺑﻠﻨﺪ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﮐﺒﺮ ﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻃﻞ ﻣﺬﮨﺐ ’’ﺩﯾﻦِ ﺍﻟﮩﯽ‘‘ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ،ﻣﺴﺎﺟﺪ ﻭﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﮩﺪﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﺧﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﻨﺎﻉ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺎﻃﻞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﻍ ﺩﯾﺎﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﻻﺯﻡ ﺗﮭﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﮮ۔ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﯽ ﺧﻄﺮﮦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﭘﻮﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮕﺎﮌ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭﺑﮯ ﺩﯾﻨﯽ ﮐﻮﻋﯿﻦ ﺩﯾﻦ ﭨﮩﺮﺍﯾﺎﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺒﺮﯼ ﻓﺘﻨﮧ ﺍﺱ ﻗﺪﺭﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﺧﻄﮧ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﺍﻋﻈﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺁﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﺎﺯﮎ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺭحمۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻗﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﺧﻮﺩﺳﺎﺧﺘﮧ ﺩﯾﻦ ﺍﻟﮩﯽ ﺍﻭﺭﺑﺎﻃﻞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮐﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ تر ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆِ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﻓﺮﻭغ دﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻼﺡِ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺎ۔ ﺩﻋﻮﺕِ ﺣﻖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ کو قید وبند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا جیل کے اندر بھی آپ کی دعوتی واصلاحی تحریک جاری رہی مجدد الف ثانی کے خدمات کی قدرے تفصیل درج ذیل ہے۔
(1) *اصلاحِ عقائد اور توحید خالص کا احیاء*: ہندو چونکہ اکثریت میں تھے اور مسلمانوں کی تعداد ان کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اس لیے قدرتی طور پر اقلیت پر اکثریت کے اثرات پڑتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے مسلمانوں کی دینی اصلاح وتربیت کے عنوان پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہیں مسلمانوں کی دینی اصلاح و تربیت سے سرے سے کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔ ادھر غلط کارعلمائے سو نے بھی خلافِ شریعت عقائد کی اشاعت میں اہم کردارادا کیا۔حضرت مجدد الف ثانی نے اِن مشرکانہ عقائد و رسوم اور عبادات کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور مسلمانوں میں توحیدِ خالص اور سنتِ ثابتہ کا شعور پیدا کیا۔ اس باب میں ان کی خدمات اس قدر تاریخ ساز ہیں کہ اسلامی ہندوستان کے تما م مؤرخ اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ مجدد نے اسلام کو تمام غیر اسلامی آلائشوں اور آمیزشوں سے پاک کرکے اور غلط نظریات کا قلع قمع کرکے اسلام کی واضح صورت پیش کردی۔ اور یہی وجہ ہے کہ مجدد الف ثانی آج چار سو سال بعد بھی مسلمانوں میں ایک سند اور اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔
(2) *مغل بادشاہوں کی مذہبی پالیسیوں کی مذمت*: تاریخی حقیقت یہ ہیکہ اکبر نیہندوستان کو مسلمانوں کی برتری ختم کرکے اس کو دارالاسلام سے سیکولراسٹیٹ یعنی لادینی ریاست بنادیاتھا۔ اس کی اس پالیسی سے ہندوستان اور مسلمانوں کے مفادات کو جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ آج تک نہ ہو سکا شاید ہوگا بھی نہیں مجدد الف ثانی نے اکبر آباد میں قیام کے دوران اکبر کے دینِ الہی کے شہ دماغوں ابوا لفضل اور فیضی کی مجالس میں بارہا شرکت کی اور ان کو سمجھا نے کی کوشش کی کہ اسلام اور کفر کا ملغوبہ تیار کرنے سے کچھ حاصل تو نہ ہو سکے گا البتہ اسلام کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ان کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ بر صغیر میں مذہبی تصادم کا حل مذہبی رواداری ہے۔ان کے ساتھ امتزاج و اختلاط نہیں، مگر ابو الفضل اور فیضی قائل نہ ہوئے تاہم انہوں نے اپنی کاوشوں سے دربار کے بعض امراء اور حق گو علماء کو ہمنوا بنالیا۔ عوام پر بھی خاطر خواہ اس کا اثر ہوا اور اکبر کی مذہبی پالیسیوں کے خلاف ایک موثر حلقہ تیار ہوا جسے محسوس بھی کیا گیا۔
(3) *جہانگیر کی تخت نشینی اور اسلامی قوانین کی بحالی*:1603 ء میں اکبرکا انتقال ہوا تو سیکولر ذہن رکھنے والے اور ہندوامراء نے شہزادہ خردکو نیا بادشاہ بنانے کی کوشش کی مگر مغل دربار کے نقشبندی سلسلے سے وابستہ امراء کا اثر آڑے آیا اور ان امراء نے جہانگیر کو بادشاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان امراء نے حضرت مجدد کے ایما پر جہانگیر سے عہد لیا کہ بادشاہ بننے کے بعد وہ اسلامی قوانین بحال کردے گا، چنانچہ جہانگیر نے بادشاہ بننے کے بعد جو احکامات جاری کیے ان کے مطابق اسلامی قوانین بحال کردیئے گئے۔ شراب کی بندش، مساجد کی تعمیر کی اجازت اور اشاعتِ اسلام کی سرکاری حوصلہ افزائی بھی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
(4) *علمائے سو کے اثرات کے خاتمے کی کاوشیں*:معاشرے کے بگاڑ او ر مسلمانوں کے عقائد و اعمال میں خرابی کی ذمہ دار زرخرید علماء سو تھے جنہوں نے دنیاوی مال وزر کی خاطر عوام الناس کو گمراہ کیا۔ یہ لوگ غلط عقائد اور قرآن و سنت سے متصادم اصولوں کو دین ٹھہراتے تھے۔ اور اپنے باطل نظریات کے فروغ کے لیے بادشاہ کو بھی ورغلاتے تھے۔امام ربانی نے عوامی سطح پر ان علماء کا زبردست محاسبہ کیا اور اپنے حلقہ اثر کے امراء کو بار بار تاکید کرتے کہ بادشاہ کو ان غلط کار مولویوں اور پیروں سے دور رکھنے کی برابر کوششیں کرتے رہیں۔
(5) *امرائے مملکت کی اصلاح*:عموما علماء اور صوفیا عموما بادشاہوں اور امیروں سے دور رہ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہیں دنیا والوں سے کوئی سروکار نہیں مگر مجدد صاحب امراء کی اہمیت سے واقف تھے وہ خوب جانتے تھے کہ ملک کے بڑے لوگوں کی اصلاح کا اثر عوام پر ضرور پڑتا ہے، چنانچہ انہوں نے شروع ہی سے اکبری عہد کے بعض صحیح الفکر امراء سے برابر رابطہ رکھا۔ جس کی وجہ سے بہت سے امراء نقشبندی سلسلے سے وابستہ ہوگئے۔ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اکبرکے بعد جہانگیر کی تخت نشینی ہوسکی، جس نے ملک میں اسلامی قوانین کو رائج کردیا تھا۔ امراء کی اصلاح کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں۔ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ جس تخت پر اکبر جیسا بادشاہ بیٹھا تھا۔ ہندواور ایرانی امراء کاغلبہ تھا پچاس سال بعد اسی تخت پر اورنگ زیب عالمگیر جیسا صحیح الفکر اور راسخ العقیدہ بادشاہ بھی بیٹھا جس نے قرن اولی کے مسلم خلفاء کی یاد تازہ کردی۔
(6) *رد بدعات اور تجدید سنن*: حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ نے علمائے سو اور بیدین صوفیا کی پھیلائی ہوئی بدعات کا قلع قمع کرنے کے لیے سنت نبوی ﷺ کی اشاعت وتعلیم پر خاص زور دیا۔ انہوں نے اپنے عہد میں رواج پا جانے والے تمام افکار و نظریات اور عبادات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا اور ان تمام اختراعات کی شدت سے مخالفت کی جن کا عہدِ نبوی میں کوئی وجود نہ تھا۔ انہوں نے اس امر کی مسلسل تبلیغ کی کہ بدعات ومنکرات در حقیقت پیغمبرِ اسلام ﷺ سے بغاوت کا نام ہے۔
*گرفتاری*: مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی عہد ِ جہانگیری میں بہت بڑی مذہبی طاقت بن گئے تھے۔ امراء و عوام پر ان کا یکساں اثر تھا، وہ حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تھے۔ ان حالات میں بادشاہ کی ملکہ نور جہاں اور وزیر اعظم آصف جاہ جو کہ ملکہ ہی کا بھائی تھا اور دیگر ایرانی المذہب سرداروں نے بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے کہ شیخ احمد ایک بڑی طاقت بن چکے ہیں اور اگر ان کے اثرات کو روکا نہ گیا تو وہ حکومت پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں چنانچہ سجدۂِ تعظیمی والے قضیہ کو لیکر بادشاہ نے انہیں گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا جہا ں وہ ایک سال تک محبوس و مقید رہے۔
*وصال*: 28صفر المظفر 1034ھ مطابق 10 دسمبر 1624ء کو بروزمنگل وصال فرمایا اورسر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ کامزار پرانوار چنڈی گڈھ سے 57کلومیٹرکی دوری پر سرہند شریف ضلع فتح گڈھ پنجاب میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔(سیرت مجدد الف ثانی، ص262)
ﺷﺎﻋﺮِ ﻣﺸﺮﻕ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻗﺒﺎﻝ جب حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کرتے ہیں تو یوں ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﻋﻘﯿﺪﺕ پیش کرتے ہیں:
ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺦ ﻣﺠﺪﺩ ﮐﯽ ﻟﺤﺪ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺧﺎﮎ ﮐﮧ ﮨﮯ ﺯﯾﺮ ﻓﻠﮏ ﻣﻄﻠﻊِ ﺍﻧﻮﺍﺭ
ﺍﺱ ﺧﺎﮎ ﮐﮯ ﺫﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺳﺘﺎﺭﮮ
ﺍﺱ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐِ ﺍﺳﺮﺍﺭ
ﮔﺮﺩﻥ ﻧﮧ ﺟﮭﮑﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﻔﺲِ ﮔﺮﻡ ﺳﮯ ﮨﮯ ﮔﺮﻣﯿﺊ ﺍﺣﺮﺍﺭ
ﻭﮦ ﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﻣﻠّﺖ ﮐﺎ ﻧﮕﮩﺒﺎﮞ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ

محمد ہاشم اعظمی مصباحی

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here