بھارت کی عدالتوں میں فیصلہ تو ملتا ہے، لیکن اِنصاف نہیں؟

؎ چین و عرب ہمارا ہندو ستاں ہمارا ٭ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے ٭ آسان نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
15 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ وہاں کے باشندوں کے رہنے سہنے کو دیکھ کر لگا یا جاتا ہے۔(ترقی ترقی،وشو گرو کا جاپ، “منترپڑھنے، مالا پھیر نے” جھوٹے خواب دکھانے سے ترقی نہیں آجاتی) ملک کے اندر عوام میں اگر بے چینی پائی جائے اور عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم وجبر ونااِ نصافی ہونے پراپنی آواز بلند کریں تو حکومت کے ذمے داروں کو چاہیے کہ اپنی رعایہ جس کے اُوپر وہ حکومت کر رہے ہیں اُنکی با ت سنی جائے انکی مانگیں پوری کی جائیں انکی دادرسی یعنی ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ یہ حاکم وقت کا اہم فریضہ ہے۔ اور اگر حاکم وقت عوام کی ضرو رتوں، مانگوں، مذہبی آزادی پر روک ٹوک، ممانعت،پابندی،بندش لگاتا ہے تو وہ سچا وصحیح حاکم نہیں کہلائے گا،اُس کا نام ظالم و جابر حکمرانوں کی لسٹ میں تاریخ میں لکھا جائے گا۔ بد قسمتی سے اس وقت ہمارے وطن ہندوستان جنت نشان(پہلے تھا اب نہیں رہا؟) میں ہر چہار جانب ظلم و جبراورطرح طرح کے خطر ناک قانونی پا بندیاں جو عوام پر سخت مصیبت گزر رہی ہیں اُنھیں نافذ کیا جارہا ہے اور یہ حکومت کے لیے عام سی بات ہو گئی ہے۔NRC,NPR,CAA, یا طلاق بل ہو،یا کسان مخالف زرعی بل ہو(ایک لمبی فہرست ہے) عوام پر زبر دستی تھوپا جارہا ہے اور اگر عوام اپنا جمہوری حق استعمال کر کے اُس کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے تو آواز اُٹھانے والے مظلوموں کو بری طرح سے پھنسایا جا رہا ہے،شاہین باغ میں احتجاج کر نے والوں اور دہلی فساد میں برباد ہوئے مظلوموں کو ہی الٹا پھنسایا جارہا ہے،کئی کئی سخت دفعات لگا کر جیلوں کے اندر ٹھونس دیا جارہا ہے۔صفورا زرگر ہوں،شر جیل امام ہوں یاڈاکٹر کفیل خان ہوں وغیرہ وغیرہ لمبی فہرست ہے کیا یہی جمہوریت ہے اور یہی آزادی؟۔ظلم وجبر سے نجات پانے کادروازہ “عدلیہ” حکومتوں کے کالے قانون اور ظلم و جبر سے نجات کا ایک واحد راستہ رہتا ہے عدلیہ “انصاف کامندر” جہاں ایک لمبی،خر چیلی،ذہنی کوفت اور تھکادینے والی لڑائی لڑتے لڑتے اگر انصاف ملا تومظلوم کو ذہنی سکون ملتا ہے۔ہندوستان میں ماضی میں عدلیہ کی اچھی تاریخ رہی ہے کچھ کو چھوڑ کرلیکن اسوقت تو عدلیہ پوری طرح سے حکومت کے قبضے میں ہے اور موجودہ مودی حکومت آر ایس ایس کی سخت گیر نظریہ پر قائم ہے،اُسی نظریے کو مسلمانوں،دلتوں،آدی باسیوں،غریبوں، مزدوروں، کسانوں پر زبردستی تھوپنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔(بدنامی،بے عزتی، انصاف،) یہ سب نام صرف کتابوں میں موجود ہیں،حکومت اور عدلیہ کے لیے کوئی معنیٰ کوئی اہمیت نہیں رکھتے،اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں،جیسے طلاق بل، کشمیر کی دفعہ370, کو ہٹادینا، بابری مسجد کی زمین کا کیس،بابری مسجد کے گرائے جانے کا کیس جو ناانصافیوں کی لمبی فہرست کے فیصلوں پر آخری کیل ٹھونک کر اپنی جانب داری اور ظالم کے ساتھ ہونے کا منصفوں نے ثبوت پیش کردیا،افسوس منصفوں نے اپنے عہدے،اپنی عزت و قار کا کچھ بھی لحاظ،شرم وحیا نہ رکھا،انصاف کا خون کردیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ” مُنصفوں نے انصاف کے ساتھ زنا با الجبر کردیا” تو بے جا نہ ہو گا۔ بابری مسجد پر بہت کچھ لکھا گیا لاکھوں لاکھ مضامین،سیکڑوں کتابیں،لور کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک ججوں نے ہزاروں ہزار ورق لکھ ڈالے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے آنے والی صبح قیامت تک ناانصافی کی داستان “جرم غم” لکھی جاتی رہے گی۔مسلمانوں کی قربایناں،اور انکے ساتھ برتاؤ: کیا مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قر بانیاں دیکر اس ملک کو اسی لیے آزاد کرا یا تھا کہ اُنہیں چین سے جینے نہ دیا جائے،انکی جان و مال عزت و آبرو سے کھیلا جائے یا انکے مذہبی حقوق چھین لیے جائیں یا انکی عبادت گاہوں کو محفوظ نہ رہنے دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ فاشسٹ نظام پسند حکمرانوں،نیتاؤں کی پالیسی ہے کہ مسلمانوں کو سکون سے نہ رہنے دیا جائے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے،اس پالیسی پر موجودہ حکومت بہت تیزی اور سسٹم سے کام کر رہی ہے۔نیو یارک ٹائمز میگزین کے مطابق پچھلے چودہ سالوں میں جمہوریت میں 14 فیصدی کمی آئی ہے۔ دی ایکونومسٹ ٹائمز کے مطابق54, ملکوں میں لوگوں کی آزادی میں کمی آئی ہے،2019 میں بھارت کی ڈیموکریسی کی شرح 10 نمبر سے گر کر 51 ویں مقام پر پہنچ گئی ہے جوانتہائی تشویش ناک بات ہے۔ اس سے کہ بڑے بڑے اور عالمی طاقت والے حکمراں جیسے ہمارے ملک کے سخت گیر نظریہ والے” مہاشے جی بہنوں بھائیوں ” اور تڑی پار ٹکلا جن پر بڑے بڑے مقدمے چل رہے ہیں، ملک کی سب سے بڑی ریاست کے مہا راجہ جی جو مٹھ سے نکل کر سیاست میں دھوم مچائے ہوئے ہیں جن پر 55, مقدمے چل رہے تھے خود ہی بہت سے مقد موں سے اپنے کو بری کرالیا ہے “جس کی لاٹھی اُ سکی بھینس” لمبی فہرست ہے، ایسے ظالم و جابر حکمرانوں کو جمہوریت سے زیادہ فاشسٹ نظام زیادہ پسند ہے۔بھارت کا ہندو راشٹر کی طرف بڑھتا قدم ہے۔ بابری مسجد کا فیصلہ اِ نصاف کا قتل: بابری مسجد کے ڈھانے والے اہم مجرمین اڈوانی،جوشی، اوما بھارتی، وش ہندو پریشد کے 32 نیتا ؤں وغیرہ وغیرہ کو با عزت بری کر دینا سی بی آئی عدالت کا فیصلہ ہندو راشٹرکی عملی کاروائی ہے۔ ہندوستان میں مسلمان اس وقت ایسے چکر ویو میں پھنس چکے ہیں کہ راہِ نجات کا دوردور تک راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔حکومت سے لیکر عدلیہ کے سب سے بڑے انصاف کے مندر سپریم کورٹ پر اعتماد کریں تو نا انصافی ملتی ہے اور کھل کر آواز اٹھائیں تو بغاوت قرار دیا جاتا ہے۔اس کی تازہ مثال سی،اے،اے کا احتجاج ہے۔چن چن کر لوگوں کو بڑی بڑی دفعات لگا کر جیلوں کے اندر ٹھونس دیا گیا ہے،لوگ کراہ رہے ہیں گارجیئن حیران و پریشان ہیں،قر ضوں میں ڈوب کر مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 30, ستمبر2020 کو بابری مسجد شہید(گرانے) والے تمام “ملزمین” کو با عزت بری کر دیا اس طرح 1949 سے شروع ہوا “عدالتی انصاف “اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ بقول وسیم بریلوی: ؎ فیصلہ لکھا ہوہے رکھا ہے پہلے سے خلاف ٭ آپ کیا خاک عدالت میں گواہی دیں گے  لکھا ہوا فیصلہ عزت ماآب رنجن گگوئی صاحب نے سنایا؟ اِنعام کے مستحق تھے مل گیا انعام راجیہ سبھا کے ممبر ہوگئے اورملزمین کے بری کرنے والے منصفوں کو بھی نوازا جائے گا دیکھتے رہیں۔71 سال کے اس سفر میں بابری مسجد نے “انصاف” کے نئے نئے رنگ دیکھے۔1528ء میں تعمیر ہونے والی با بری مسجد میں 1949 تک بلا ناغہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ برطانوی راج میں پہلی مرتبہ1885 میں رگھبیر داس نامی شخص نے ” سب جج” کی عدالت میں پہلی مرتبہ مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر مندر کی اجازت مانگی جسے رد کردیا گیا۔قانونی داؤں پیچ سے آگے بڑھتے ہوئے 1992 میں سخت گیر ہندوٗں نے بابری مسجد کو شہید (ڈھا دیا)گرادیا،مجرموں نے بار بار کھلے عام اس بات کا اعتراف بھی کیا اور آج بھی کر رہے ہیں۔1992 بابری مسجد انہدام(گرانے) کی جانچ کے لیے لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیاتھا، جس نے سال 2009 میں اپنی رپورٹ سونپی تھی۔ “کمیشن نے کہا تھا کہ کار سیوکوں کا اجتماع اچانک یا رضا کارانہ نہیں تھا،بلکہ منصوبہ بند تھا۔” جسٹس ایم ایس باراین،6دسمبر 1992کو بابری مسجد پر جمع کار سیوک اور اس معاملے کے مین ملزم رہے بی جی پی رہنما۔(فوٹو:پی ٹی آئی/رائٹرس) نئی دہلی: خصوصی سی بی آئی عدالت 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد گرائے جانے کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا اس میں کوئی منصوبہ بندسازش نہیں تھی لیکن جسٹس منموہن سنگھ نے اس معاملے میں گہری سازش کا معاملہ پایا تھا۔ کمیشن کی رپورٹ میں بے شمار شواہد کے ساتھ بی جی پی کے سینئر لیڈر رہنماؤں۔ادوانی،ونے کٹیار، مرلی منوہرجوشی، اُوما بھارتی وغیرہ جیسے قد آور لیڈران و آر ایس ایس۔وشو ہندو پریشدکے لوگوں کے ساتھ اُس وقت اتر پر دیش سرکار کی ملی بھگت کی بات بھی کہی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بابری مسجد کے انہدام کی سازش بہت باریکی سے کی گئی تھی، اس طرف انڈین ایکسپریس کی تفصیلی رپورٹ یہ بتا تی ہے کہ اوما بھارتی نے صاف طور پر اس کی ذمہ داری لی تھی اور بھی لیڈران کے بیانات اس کے شاہد ہیں اور آج بھی کھلے عام بیانات دے رہے ہیں۔ کمیشن نے کہا تھا کہ اجیت رائے(اب رام جنم بھومی نیاس کے جنرل سکریٹری) نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ 6دسمبر 1992 کو بابری گرانے کے لیے گوریلا طریقہ اپنایا جائے گا یہ اعلان اخباروں میں شائع ہوا تھا،کسی بھی سیاسی پارٹی نے اور کسی رہنما نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔ تمام شواہد کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں کارسیوکوں کا جمع ہونا نہ تو آسان تھا اور نہ ہی رضا کارانہ؟ یہ طے شدہ اور منصوبہ بند تھا۔ خصوصی سی بی آئی کی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے 32 ملزمین کو بری کرنے پر ملزمین نے کہا سچ کی جیت،(توبہ توبہ جسکی لاٹھی اس کی جیت) اپوزیشن نے کہا: ؎ وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد ٭ بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے  پر یا درہے سب کا پیدا فر مانے ولا سب کا پالنہار رب تبارک و تعا لیٰ سب سے بڑا انصاف فر مانے والا ہے قر آن مجید میں ہے۔ترجمہ: اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل و انصاف، نازل فر مائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں۔(قر اآن مجید،سورہ حدید،51: آیت25)ہمارا پکا ایمان ہے اللہ تعالیٰ ضرور ضرور انصاف فر مائے گا آج نہیں تو کل۔وہ صبح نو اللہ کرے جلد آئے آمین،مسلمانوں سے گزارش ہے پلیز پلیز پہلے نمازی بنو،پھر مسجدیں بناؤ،مسجد وں کو آباد کرو،قرآن پڑھو اس سے پہلے کہ وہ تم پر پڑھا جائے،اپنا حساب کرو اس سے پہلے کہ تم سے تمھارا حساب لیا جائے،اللہ ہم سب کو ایمان کے ساتھ مسجدوں مدرسوں کی حفاظت کرنے و آباد کرنے کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین۔

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here