ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کے خطے کی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے ایک تھینک ٹینک کی طرف سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

12 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق’رصانہ’ انسٹیٹیوٹ فار ایران اسٹڈیز’ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ‌ میں ایران کیجوہری میزائل پروگرام کے خطے کی سلامتی پر منفی اثرات اور خطرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام عسکری اور اقتصادی دو پہلووں سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہی کا باعث ہے۔تھینک ٹینک کی طرف سے ‘ایران کا اقتصادی پروگرام۔ نظریے سے پھیلاو تک’ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کے پیچھے موجودہ برسراقتدار ایرانی طبقے کا عسکری نظریہ کار فرما ہے۔ ایران کی ملا کریسی نے اپنے اور اقتدار کے تحفظ کے لیے ایران سے باہر میزائل پروگرام کے پھیلاو کو روکنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔رپورٹ میں ایران کے کروز میزائل، بیلسٹک میزائل اور دیگر جدید میزائل پروگرام اور اس کے خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حالیہ عرصے کے دوران تیار ہونے والے میزائلوں میں کروز اور بیلسٹک میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مبہم پروگرام   ایران کے میزائل پروگرام کے تحقیقاتی مطالعے کے بارے میں لکھا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام غیر واضح اور مبہم ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام اس کے جوہری پروگرام سے مختلف یا الگ نہیں۔ اس کے پیچھے ایران کا عسکری نظریہ کار فرما ہے۔ ایران اپنے میزائل پروگرام کو بلیک مارکیٹ میں پروان چڑھا رہا ہے تاکہ امریکا کی ایران کے میزائل پروگرام پر عاید کی جانے والی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ہائبرڈ تھیوری رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے دفاعی عقیدے کو ‘ہائبرڈ تھیوری’ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے میں ایران اپنے تمام سرکاری اور غیر سرکاری ریاستی اداروں کو جنگی مقاصد کے لیے مدغم کرنے اور انہیں محاذ جنگ کے لیے تیار کرنا چاہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران اپنی ذاتی اور داخلی کمزوریاں دور کرنے کے لیے دوسرے ممالک پر اپنا اثرو نفوذ قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی طرف سے عراق، لبنان، یمن، شام اور دوسرے ممالک میں اپنا اثرو نفوذ بڑھانا اس کی واضح‌ مثال ہے۔رپورٹ‌ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو جدید ترین میزائل پروگرام کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرون طیارے بنانے اور انہیں یمن، عراق، شام اور لبنان میں استعمال بھی کر رہا ہے۔ایران نے مقامی سطح‌ پر کروز اور بیلسٹک میزائل تیار کیے۔ ڈرون طیارے بنائے۔ ایران کو مقامی سطح پر ان ہتھیاروں کی تیاری پر اس لیے مجبور ہونا پڑا کیونکہ امریکا کی قیادت میں عالمی برادری نے تہران پر اسلحہ کے حصول پر پابندیاں‌عاید کر رکھی ہیں۔ ایران عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور اس کے لیے جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ عالمی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو نہ صرف بیرون ملک سے اسلحہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تہران کی مقامی دفاعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ایران کے پاس نمونے کے طور پر صرف چین، شمالی کوریا اور روس کے ہتھیار ہیں۔ ایران ان ملکوں‌ کے ہتھیاروں کی بنیاد پر اپنے میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کر رہا ہے۔ ایران کا ہدف خطے میں مخصوص ممالک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے میزائلوں کی رینج اور ان کی دفاعی طاقت بھی مخصوص ہے۔ایران نے حال ہی میں ‘رعد 50’ نامی ایک کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا۔ نو فروری 2020ء کو ٹیسٹ کیا گیا میزائل ایران کے سابق بادشاہ کے دور میں تیار ہونے والے میزائلوں سے مختلف ہے۔ اس تجربے سے ایک ماہ قبل ایران نے ‘فتح اور قیام نامی میزائلوں سے عراق میں امریکا کے دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور 16 میزائل داغے تھے۔ایران کے میزائلوں میں ‘شہاب 3’ درمیانے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قیام کی رینج مختصر ہے۔ ذوالفقارمیزائل کی رینج بھی مختصر ہے۔ سومار نامی میزائل بھی کروز میزائل ہے جس 600 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے کچھ ایسے کروز میزائل بھی تیار کیے ہیں جو جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ 2000 سے 3000 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here