7 اکتوبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) دو اکتوبر ۱۸۶۹ء کو گاندھی جی پیدا ہوئے اور ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو ان کو ناتھو رام گوڈسے نام کے ایک اعلیٰ ذات ہندو نے اس جرم میں قتل کردیا تھا کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مساوات، بھائی چارے اور محبت کو فروغ دینے کی بات کرتے تھے اور آج بھی گاندھی جی کی یہی خطا ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان محبت اور یکجہتی دیکھنا چاہتے تھے۔ واضح ہو کہ گاندھی جی کی شہادت کے بعد دنیا کے سامنے ہندوستان میں دو چہرے سامنے آئے ایک میں محبت اور یکجہتی کے رنگ بھرے تھے اور ایک میں نفرت ہی نفرت ہی بھری تھی جس کی وجہ سے ہندوستان دو نظریوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک نظریہ گاندھی جی کو مہاتما کہے جانے کا قائل تھا اور گوڈسے کے نظریہ کی حمایت کرنے والوں کی نظر میں گوڈسے مہاتما تھا۔ ایک گروہ نے گاندھی جی کے قتل کو شہادت سے تعبیر کیا اور دوسرے گروہ نیگاندھی جی کے قتل کو ودھ( موت کی سزا) سے تعبیر کیا۔ گاندھی جی کی شہادت کے بعد ملک میں گوڈسے وادیوں کے خلاف جو غصہ پھوٹ پڑا تھااس کی وجہ سے کئی دہائیوں تک گوڈسے وادی اپنی بلوں میں چھپے رہے۔ مگر جیسے ہی ان کے ہم مزاج اور ہم خیال لوگوں کو اقتدار ملا گوڈسے وادیوں نے گاندھی جی کے لئے اپنے دلوں میں بھری نفرت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا۔یہ لوگ گاندھی جی کے مجسموں کی توہین کرنے لگے گوڈسے کے نام پر مندر قائم کرنے کا اعلان کرنے لگے اورگوڈسے کو مہاتما اور مہاتما گاندھی کو صرف گاندھی کہنے لگے۔ مسلسل حوصلہ افزائی کے سبب ان عناصر کی جسارت اتنی بڑھی کہ سدرشن نیوز چینل پر بیٹھ کر باقاعدہ طور پر گاندھی جی کی مذمت کرنے لگے اور پھر بات تو یہاں تک پہنچ گئی کہ گاندھی کی تصویر پر پھر سے گولیاں چلائی گئیں۔ اپنی اسی گندی ذہنیت کو آگے بڑھانے کے لئے گوڈسے کے بھکتوں نے گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر گوڈسے کی حمایت میں ایک مہم چلا رکھی ہے۔ہیش ٹیگ گوڈسے زندہ باد کے نام ان لوگوں نیٹوئیٹر پر بھی کھلے عام ایک مہاتما کے قاتل کی حمایت میں اس سال مہم چلا ئی جبکہ گزشتہ سال اسی گروپ نے گوڈسے امر رہے کہ نام سے ٹوئیٹر پر مہم چھیڑی تھی افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اس مہم کے ارد گرد صرف پندرہ ہزار ٹوئیٹس تھے لیکن اس سال 2020 میں ان کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ تیرہ ہزار ہوگئی۔ جس کے بعد گاندھی جی کے پوتے تشار گاندھی کو بھی ٹوئیٹ کرکے کہنا پڑا’’باپو ہم شرمندہ ہیں۔‘‘ لیکن ہم تو تشار گاندھی سے یہی کہیں گے کہ ان کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ گاندھی جینتی اور مہاتما گاندھی کے نام سے جو ہیش ٹیگ شروع ہوا اس کو تقریباً پانچ لاکھ لوگوں نے فالو یا لائیک کیا۔تشار گاندھی کو بد دل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ابھی تک اس ملک میں راج گھاٹ پر ہی پھول چڑھائے جاتے ہیں ان کو یہ بات سمجھنا چاہیئے کہ گوڈسے کی حمایت میں چلنے والی مہم کا اصل مقصد صرف گاندھی جی کے فلسفے کو نقصان پہنچانا ہی نہیں ہے بلکہ ہندو مذہب کی اصل تعلیمات کو بھی داغدار کرنا ہے۔ جس نے بھی ہندوازم کا تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ ہندوازم میں تشدد اور ظلم کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے پھر بھی تاریخ گواہ ہے کہ راون، کنس، دریودھن اور ہرناکشیپ جیسے ظالموں اور جابروں نے ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادتیاں کی تھیں جو تشدد اور ظلم کے خلاف تھے لیکن دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ اصلی ہندوازم رام، کرشن، ارجن اور پرہلاد جیسیلوگوں کی طرف تھا۔یہاں پر یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج جو لوگ ہاتھرس میں عصمت دری کا شکار ہونے والی مظلوم لڑکی کے گھر والوں کو ہی معتوب کر رہے ہیں ان کا تعلق بھی گوڈسیحامی گروہ سے ہی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ صدیوں سے اس ملک میں ایسے بھی لوگ رہتے آئے ہیں جنھوں نے اغوا کرنے والوں پر کم سوال اٹھائے اور اغوا کی جانے والی مظلوم اور بے بس خاتون کو زیادہ پریشان کیا۔ اس ملک کی تاریخ آج بھی چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ سیتا جی کی لنکا سے واپسی پر ان کو اگنی پریکچھا دینے کے لئے ایسے ہی لوگوں نے مجبور کیا جو آج گوڈسے کو اپنا دیوتا مان رہے ہیں۔ہزاروں سال پہلے بھی اس ملک میں ایسا گروہ سرگرم تھا جس نے ایک مجبور اور بے بس عورت پر طرح طرح کے الزام لگائے اور سیتا جی کو زندگی کا آخری حصہ جنگل میں بنے ایک آشرم میں گزارنے پر مجبور کیا۔اصل میں گوڈسے کے حامیوں نے یہ بات دل میں ٹھان لی ہے کہ وہ اس ملک کی امیج کو دنیا کے سامنے خراب کرکے ہی مانیں گے لیکن ان کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ بھلے ہی کوئی گروہ ظلم و زیادتی کرکے کچھ دن کے لئے اپنی منمانی کرنے میں کامیاب ہوجائے مگر تاریخ کبھی ظالموں کا ساتھ نہیں دیتی ہے۔
 محمد ہاشم اعظمی مصباحی

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here