نم آنکھوں سے انہوں نے کہا کہ ‘بیٹی نے کہا تھا کہ وہ گھر آنا چاہتی ہے، وہ اپنی چوٹ کی وجہ سے گھر نہیں جاسکی تھی لیکن ہم انتظامیہ کے رویہ کی وجہ سے بیٹی کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کرسکے۔

ہاتھرس:30ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  اترپردیش کے ضلع ہاتھرس میں درندگی کی شکار متاثرہ کو بدھ کی علی الصبح اہل خانہ کی عدم موجودگی میں آخری رسوم کی ادائیگی کردی گئی۔ متاثرہ کے والد کا الزام ہے کہ ضلع انتظامیہ نے بیٹی کی آخری خواہش پوری کرنے کا موقع نہیں دیا۔متاثرہ کی آخری رسوم کی ادائیگی علی الصبح تقریباً سوا تین بجے پولیس کی موجودگی میں کردی گئی حالانکہ اہل خانہ اور مقامی افراد اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ آخری رسوم کی ادائیگی کے وقت مبینہ طور سے اہل خانہ موجود نہیں تھے۔ متاثرہ کے والد کا الزام ہے کہ ضلع انتظامیہ نے بیٹی کی آخری خواہش پوری کرنے کی اجازت نہیں دی۔نم آنکھوں سے انہوں نے کہا کہ ‘بیٹی نے کہا تھا کہ وہ گھر آنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی چوٹ کی وجہ سے گھر نہیں جاسکی تھی لیکن ہم انتظامیہ کے رویہ کی وجہ سے بیٹی کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کرسکے۔ متاثرہ کے بھائی سندیپ نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ ضلع انتظامیہ جلدی میں تھا اور چاہتا تھا کہ والد کے پہنچانے سے پہلے آخری رسوم ادا کردی جائیں۔ متاثرہ کی لاش پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد والد گھر پہنچ گئے تھے۔وہیں انتظامیہ کا دعوی ہے کہ آخری رسوم کی ادائیگی اہل خانہ کی مرضی سے کی گئی ہے۔ جوائنٹ مجسٹریٹ پریم پرکاش مینا نے صحافیوں سے کہا کہ متاثرہ کے آخری رسوم کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ متاثرہ کو انصاف دلانے اور مجرمین کو سخت سزا دلانے کے لئے پرعزم ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here