آج بھی روئی دھنے والی مشین کی آواز سننے کو کان ترستے ہیں، پڑوس کے مہمان کی یاد بہت ستاتی ہے، چھت کو پانی کے چھڑکاؤ سے ٹھنڈا کر کے سونا آج بھی بہت یاد آتا ہے، کوئی لوٹا دے میرے بیتے ہوئے دن

30ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) ایک زمانہ تھا کہ اکتوبر آتے ہی جہاں تیوہاروں کی تیاریوں کی چہل پہل شروع ہو جاتی تھی وہیں موسم بھی اپنی تبدیلی کی دستک دینا شروع کر دیتا تھا، والدہ و دادی مل کر لحاف و رضائیوں کو نکالنا شروع کر دیتی تھیں۔ روئی دھننے والے جہاں سڑک کے کنارے چار چادر لٹکا کر روئی دھنتے اور اپنے چار مہینے کا گزر بسر کرنے کا انتظام کر لیتے تھے، وہیں ان میں سے کچھ روئی دھننے والے ہاتھ کی بنی ہوئی مشین لے کر گھر گھر جا کر روئی دھننے کا کام کرتے تھے۔ اس سے دونوں کا کام چل جاتا تھا، گاؤں دیہات سے آنے والے ان دھنیوں کو تھوڑے بہت پیسہ مل جاتے تھے اور شہر والوں کے لئے سردیوں کی راتوں کا انتظام ہو جاتا تھا۔اس زمانہ میں خواتین زیادہ باہر تو جاتی نہیں تھیں اس لئے ان کے پاس یہ ایک موقع ہوتا تھا کہ جب وہ اپنی مول بھاؤ کرنے کی تمام صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ جہاں خواتین خوب مول بھاؤ کر کے اپنی مرضی کے پیسوں میں کام کرانے سے خوش ہو جاتی تھیں وہیں بچوں کو روئی دھننے والی مشین کی آواز بڑی دلکش لگتی تھی اور ان کا یہ دل چاہتا تھا کہ روئی دھننے والے چاچا ان کو اس مشین کا تار چھوکر آواز نکالنے کا موقع دے دیں، مگر ایسا کم ہی ہوتا تھا۔ہاں تو ہم بات کر رہے تھے کہ اکتوبر کی دستک کا، مطلب موسم سرما کی دستک اور موسم سرما کے آنے کا مطلب کہ باہر سونا بند، ہولی کے جلنے اور کھیلے جانے تک چھت و باہر کے سونے پر پابندی۔ جی جناب تیوہاروں سے پتا لگتا تھا کہ کون سا موسم آگیا اور کون سا جانے والا ہے۔ روئی کے دھنے جانے سے، چھتوں اور سہن میں چھڑکاؤ سے لے کر باہر کی زندگی کو کمروں کے اندر سمیٹنے تک کے سارے کام سب مل کر اور ایک دوسرے کو دیکھ کر کرتے تھے۔ وہ بھی کیا دن تھے کہ جس کے یہاں کا مہمان ہوتا تھا اس کے یہاں کم وقت گزارتا تھا اور پڑوس میں زیادہ وقت گزارتا تھا۔ ایک بات تو تھی کہ پہلے جو تھا وہ سامنے تھا اب سامنے تو ہر شخص نے اپنی شان کا، اپنی انا کا، اپنی حیثیت کا پردہ ٹانگ رکھا ہے۔ترقی بھی توکمال کی ہوئی ہے، پوری دنیا ہاتھ کے اس موبائل میں سمٹ کر رہ گئی ہے جس کا اس زمانہ میں تصّور بھی نہیں تھا۔ اس وقت تو گھر پر لینڈ لائن فون ہونا اعزاز کی بات تو تھی لیکن ساتھ میں پریشانی کا سبب بھی تھا۔ جناب رات کو دو بجے فون آتا تھا کہ آپ کی گلی سے دو گلی چھوڑ کر میرے چچا رہتے ہیں ان کو بلوا دیجئے میں دس منٹ بعد دوبارہ فون کر لوں گا یا پھر ان تک یہ خبر پہنچا دیجیے کہ ہمارے پھوپھا کے بھائی کی ساس کی طبعیت خراب ہے۔غنیمت یہ تھی کہ فون کرنے والے صاحب نے دو آپشن دیئے تھے اس لئے دوسرا یعنی بتانے والے آپشن پر عمل کرتے ہوئے رات کو ہی گھر سے نکل جاتے تھے۔ راستے میں پہلے تو کتے استقبال کرتے تھے اور بعد میں ان صاحب کا دروازہ کھٹکھٹانے پر پڑوس کے لوگ بھی خیریت پوچھنے آجاتے تھے۔چھوڑیئے اب یہ سب پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ اب تو ایک موبائل میں دو دو سم کارڈ کی سہولت ہونے کے با وجود لوگ ایک سے زیادہ موبائل رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ موبائل اور سوشل میڈیا پر جو دوست ہیں وہ تو سگوں سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں لیکن اگر سگے ماما یا پھوپھا گھر آجائیں تو ہمارے پاس کہاں وقت ہے۔ ہمیں اس وقت اتنے کام یاد آتے ہیں کہ جب تک سگے رشتہ دار جانے کے لئے نہیں کہہ دیں ہمیں گھر بھی کاٹنے کو دوڑتا ہے۔اب بند کمروں میں لگا اے سی موسم کی تبدیلی کی دستک کو کہاں سننے دیتا ہے۔ سماجی زندگی تو موبائل اور کمروں میں قید ہو گئی ہے۔ جہاں ترقی کے اپنے فائدہ ہیں وہیں سماجی زندگی کے اپنے مزے، لیکن بھاگ دوڑ کی زندگی میں ہر چیز فائدہ کے ترازو میں تولی جاتی ہے، مزہ اور سماج تو تھوڑی آؤٹ فیشنڈ باتیں ہیں۔ روئی دھنے والی مشین کی آواز کو آج بھی کان ترستے ہیں، پڑوس کے مہمان کی یاد بہت ستاتی ہے، چھت کو پانی کے چھڑکاؤ سے ٹھنڈا کر کے سونا آج بھی بہت یاد آتا ہے، کوئی لوٹا دے میرے بیتے ہوئے دن۔ سید خرم رضا

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here