اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جاری خونریز جھڑپ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد اور مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے

اقوام متحدہ:30ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نگورنو قاراباخ خطے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جاری خونریز جھڑپ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد اور مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ میں نائیجیریا کے سفیر عبدؤواباری نے منگل کو جاری ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔ اس سے قبل نگورنو-قاراباخ خطے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین شروع ہونے والے پرتشدد تنازع پر تبادلہ خیال کے لئے سلامتی کونسل کے بند دروازوں کے اندر ایک میٹنگ ہوئی تھی۔بیان کے مطابق سلامتی کونسل کے ممبران نے نگورنو قاراباخ خطے میں’لائن آف کنٹیکٹ‘ پر دونوں ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ممبران نے آرمینیا اور آذربائیجان سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کی اپیل کی حمایت کی ہے جس میں میں سکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ وہ نگورنو قاراباخ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات کا آغاز کریں۔ اس خونریز جھڑپ میں لوگوں کی ہلاکت پر سلامتی کونسل نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اس کے علاوہ، سلامتی کونسل نے دونوں فریقوں سے او ایس سی ای منسک گروپ کے ساتھ تعاون کرنے اور جلد سے جلد مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ دراصل، نگورنو قاراباخ خطے کے ایک علاقے پر قبضہ کے بارے میں آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں کا آغاز اتوار سے ہوا ہے۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نگورنو قاراباخ خطے میں آذربائیجان کی فوج کے ساتھ جھڑپ میں اس کے 16 فوجی ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشنین نے ٹوئٹ کیا کہ آذربائیجان نے ارتسخ پر میزائل سے حملہ کیا گیاجس سے رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پشنین کے مطابق آرمینیا نے جوابی کارروائی کرتے ہوئیآذربائیجان کے دوہیلی کاپٹر، تین یو اے وی اور دو ٹینک تباہ کردیئے۔ اس کے بعد آرمینیائی وزیر اعظم نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ آرمینیا کی جانب سے منگل کے روز بھی فوجی کارروائی کی گئی جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 30 ​​دیگر زخمی ہوئے۔آذربائیجان نے جزوی طور پر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا ہے۔ آذربائیجان نے تمام بین الاقوامی پروازوں کے لئے اپنے ہوائی اڈے بند کردیئے ہیں۔ صرف ترکی کو ہی اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ترکی نے آذربائیجان کو کھلے عام اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان دونوں سابقہ ​​سوویت یونین کا حصہ تھے۔ لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دونوں ممالک آزاد ہوگئے۔ علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے مابین نگورنو-قاراباخ خطے پر تنازعہ پیدا ہوا۔ دونوں ممالک اس خطہ پر اپنا حق جتاتے رہے ہیں۔ 4400 مربع کلومیٹر کے اس رقبہ کو بین الاقوامی قوانین کے تحت آذربائیجان کا قرار دیا گیا ہے، لیکن یہاں آرمینیائی نژاد آبادی زیادہ ہے۔اس کی وجہ سے 1991 سے دونوں ممالک کے مابین تنازع جاری۔ 1994 میں روس کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین چھٹ پٹ لڑائی جاری ہے۔ تب سے دونوں ممالک کے مابین’لائن آف کنٹیکٹ‘ موجود ہے۔ لیکن اس سال جولائی کے مہینے کے بعد سے حالات مزید خراب ہوگئے۔ یہ علاقہ ارتسخ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ امریکہ، روس، جرمنی اور فرانس سمیت کئی دوسرے ممالک نے فریقین سے امن کی اپیل کی ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here