مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے کہا کہ ملک میں ایم ایس پی بھی رہے گا اور کسان کو ملک میں کہیں بھی فصل بیچنے کی آزادی ہوگی۔ لیکن یہ آزادی کچھ لوگ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔

نئی دہلی:29ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پارٹیوں بالخصوص کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے منگل کو کہا کہ یہ لوگ کسانوں، نوجوانوں اور بہادر جوانوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ صرف برائے مخالفت ’مظاہرہ‘ کرنے کی وجہ سے غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں۔مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے ’نمامی گنگے مشن‘ کے تحت ہری دوار، رشی کیش اور بدری ناتھ میں چھ بڑے منصوبوں کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ آج یہ لوگ فصلوں کی کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) پر بھی مغالطہ پھیلا رہے ہیں۔ ملک میں ایم ایس پی بھی رہے گا اور کسان کو ملک میں کہیں بھی فصل بیچنے کی آزادی ہوگی۔ لیکن یہ آزادی کچھ لوگ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔برسوں تک ایم ایس پی کے نفاذ کرنے کی بات کی جاتی رہی لیکن اسے نفاذ نہیں کیا گیا۔ ان کی حکومت نے سوامی ناتھن کمیشن کے مطابق ہی ایم ایس پی کا نفاذ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب مرکزی حکومت کسانوں کو ان کا حق دے رہی ہے تو اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملک کا کسان کھلے بازار میں اپنی پیداوار نہیں بیچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جن آلات کی کسان پوجا کرتے ہیں اسے آگ لگا کر کسانوں کی توہین کی جا رہی ہے۔وزیراعظم نے فوج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کے پاس رافیل طیارے آئے اور ان کی طاقت میں اضافہ ہوا اس کی بھی وہ لوگ مخالت کرتے رہے۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ رافیل سے ہندوستانی فضائیہ کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ انبالہ سے لے کر لیہ تک اس کی گھن گرج ہندوستانی جانبازوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہے۔ فضائیہ طویل عرصے تک کہتی رہی ہے کہ اسے جدید جنگی طیارہ چاہیے لیکن ان کی بات کو نظرانداز کیا گیا۔ مرکز نے براہ راست فرانس کی حکومت سے جنگی طیاروں کا معاہدہ کیا تو انہیں پھر پریشانی ہوئی۔مودی نے کہا کہ ملک کے کسانوں، مزدوروں اور صحت سے متعلق معاملوں میں بڑے اصلاحات کیے گئے۔ ان اصلاحات سے مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور کسان بااختیار ہوں گے۔ گزشتہ مہینہ ہی ایودھیا میں عظیم رام مندر کی تعمیر کے لئے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ پہلے سپریم کورٹ میں رام مندر کی مخالفت کی گئی پھربنیاد رکھنے کی مخالفت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر بدلتی ہوئی تاریخ کے ساتھ مخالفت کرنے والے یہ لوگ غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہل پر جب پوری دنیا انٹرنیشنل یوگا ڈے منارہی تھی تو اس کی مخالفت کی گئی۔ جب سردار پٹیل کی سب سے اونچے مجسمہ کی نقاب کشائی ہو رہی تھی تب بھی اس کی مخالفت کی گئی۔ آج تک ان کا کوئی بڑا لیڈر ’اسٹیچو آف یونیٹی‘ پر نہیں گیا۔ حکومت نے جب ’ون رینک ون پنشن‘ کا فائدہ فوجیوں کو دیا تو اس کی مخالفت کی گئی۔ چار برس پہلے ملک کے جانبازوں نے ’سرجیکل اسٹرائک‘ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اڈوں کو تباہ کردیا تھا تو اس کے ثبوت مانگے گئے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here