ایودھیا میں کوئی خوشگوار واقعہ سرزد نہ ہو، اس لیے سیکورٹی انتظامات کافی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ایودھیا کے سبھی داخلی پوائنٹس پر سخت چیکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور اسے مہم کی شکل دے دی گئی ہے۔

29ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) بابری مسجد انہدام معاملہ میں فیصلہ کی گھڑی قریب آ گئی ہے۔ 30 ستمبر یعنی بدھ کو ہی لکھنؤ سی بی آئی کی خصوصی عدالت اپنا تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے۔ بابری مسجد کا ڈھانچہ منہدم کیے جانے پر اپنا فیصلہ خصوصی عدالت نے محفوظ رکھا تھا اور اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کو فیصلہ سنایا جائے گا، اور اب فیصلہ سے پہلے ایودھیا کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ایودھیا میں کوئی خوشگوار واقعہ سرزد نہ ہو، اس لیے سیکورٹی انتظامات کافی سخت کر دیے گئے ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق حفاظتی انتظامات اس قدر سخت ہیں کہ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار پائے گا۔ اس دوران ایودھیا کے سبھی داخلی پوائنٹس پر سخت چیکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور اسے مہم کی شکل دے دی گئی ہے۔ ٹو وہیلر کے ساتھ ساتھ چار پہیہ گاڑیوں کی بھی زبردست چیکنگ کی جا رہی ہے اور اس کے بغیر ایودھیا میں داخلہ ممکن نہیں ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ پی ایس سی سول پولس کے ساتھ ساتھ سادہ وردی میں بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایودھیا کے ڈی آئی جی/ایس ایس پی دیپک کمار نے کہا کہ کل (30 ستمبر) کا دن تاریخی ہوگا۔ ایسے میں ایودھیا کی سیکورٹی بھی کافی اہم ہے۔ 30 ستمبر کو ایودھیا میں خصوصی چیکنگ مہم چلائی جائے گی۔ ایودھیا میں سادے کپڑوں میں بھی پولس کے جوان تعینات رہیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 پروٹوکول اور دفعہ 144 پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ کسی بھی حال میں ایودھیا میں بھیڑ اکٹھا نہیں ہونے دی جائے گی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here