15ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  امریکی صدر کی جانب سے ایرانی نظام کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے انتقام کے طور پر امریکا کو کسی طرح بھی نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ “اخباری رپورٹوں کے مطابق ایران ممکنہ طور امریکا کے خلاف کسی ہلاکت یا کسی اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس کا مقصد اپنے دہشت گرد کمانڈر سلیمانی کا انتقام لینا ہے جسے مستقبل میں حملے اور امریکیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ اس طرح کئی برسوں سے جاری قتل و غارت گری کے بازار کو مزید گرم کیا جانا تھا”۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ “امریکا پر ایران کے کسی بھی حملے کا جواب ایک ہزار گنا بڑا ہو گا”۔انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق ایران جنوبی افریقا میں امریکی خاتون سفیر لانا مارکس کے قتل کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک ذمے دار ے حوالے سے بتائی جو مذکورہ انٹیلی جنس معلومات کی جان کاری رکھتے ہیں۔ لینا مارکس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی شخصیات میں سمجھا جاتا ہے۔اخبار کے مطابق تہران کی جانب سے امریکی خاتون سفیر کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ سلیمانی رواں سال جنوری میں بغداد ہوائی اڈے کے باہر امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔امریکی ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ ایران،،، جنوبی افریقا میں وسیع پیمانے پر خفیہ نیٹ ورکس چلا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کل پیر کے روز کہا کہ وہ ان اخباری رپورٹوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی خاتون سفیر کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ادھر تہران نے ان معلومات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق دو امریکی ذمے داران نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کو گذشتہ موسم بہار سے اس بات کا علم ہے کہ ایرانی حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرتب خاتون سفیر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات نے مصدقہ صورت اختیار کر لی ہے۔ خود لانا مارکس کو بھی اپنی زندگی کے حوالے سے اس خطرے کا علم ہے۔ پیر کے روز فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اس خبر پر تبصرے میں کہا کہ “ہم اس نوعیت کی رپورٹوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایران دنیا بھر میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ (ایرانی) لوگ ماضی میں بھی یورپ اور دیگر جگہاؤں پر اس نوعیت کی قتل کی کارروائیاں انجام دی ہیں”۔امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ “وزارت خارجہ کے ہر ذمے دار کی حفاظت کے لیے ہم وہ سب کچھ کریں گے جو ہمارے بس میں ہے… کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت کسی بھی امریکی خواہ وہ سفارت کار ہو یا فوجی اہل کار اس پر حملہ قطعا ناقابل قبول امر ہے”۔ اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ترجمان کی زبانی امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کی رپورٹ پر جواب دیتے ہوئے ان معلومات کو محض جھوٹ کا پلندا اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران نے بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے حوالے سے اپنی دائمی پاسداری ثابت کی ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں مئی 2018ء میں اس وقت شدت آ گئی جب امریکی صدر نے ایران اور بڑے ممالک کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد امریکا نے ایران پر شدید اقتصادی پابندیاں دوبارہ سے عائد کر دیں۔ امریکا کا مقصد ایران کو ایک نئے اور “زیادہ بہتر” جوہری معاہدے پر تیار کرنے کے واسطے تہران پر دباؤ ڈالنا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ رواں سال 3 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گیا جب امریکا نے بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک ایک ڈرون حملے میں ایران کے اہم ترین کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here